BR100 Increased By (0.82%)
BR30 Increased By (1.08%)
KSE100 Increased By (0.77%)
KSE30 Increased By (0.82%)
BAFL 57.88 Increased By ▲ 1.45 (2.57%)
BIPL 23.44 Increased By ▲ 0.13 (0.56%)
BOP 28.65 Increased By ▲ 1.14 (4.14%)
CNERGY 12.80 Increased By ▲ 0.08 (0.63%)
DFML 15.95 Increased By ▲ 0.07 (0.44%)
DGKC 184.63 Increased By ▲ 1.33 (0.73%)
FABL 91.19 Increased By ▲ 0.49 (0.54%)
FCCL 52.83 Increased By ▲ 0.21 (0.4%)
FFL 12.94 Decreased By ▼ -0.03 (-0.23%)
GGL 20.08 Increased By ▲ 0.42 (2.14%)
HBL 287.66 Increased By ▲ 3.04 (1.07%)
HUBC 193.18 Increased By ▲ 4.56 (2.42%)
HUMNL 8.08 Decreased By ▼ -0.03 (-0.37%)
KEL 5.83 Increased By ▲ 0.03 (0.52%)
LOTCHEM 24.13 Increased By ▲ 1.20 (5.23%)
MLCF 91.38 Increased By ▲ 0.97 (1.07%)
OGDC 303.68 Increased By ▲ 1.22 (0.4%)
PAEL 32.82 Increased By ▲ 0.07 (0.21%)
PIBTL 13.03 Decreased By ▼ -0.18 (-1.36%)
PIOC 235.49 Increased By ▲ 1.99 (0.85%)
PPL 215.08 Decreased By ▼ -0.19 (-0.09%)
PRL 94.16 Decreased By ▼ -1.93 (-2.01%)
SNGP 89.66 Decreased By ▼ -0.54 (-0.6%)
SSGC 22.94 Increased By ▲ 0.22 (0.97%)
TELE 6.81 Increased By ▲ 0.10 (1.49%)
TPLP 12.44 Increased By ▲ 0.92 (7.99%)
TRG 53.62 Decreased By ▼ -1.09 (-1.99%)
UNITY 7.72 No Change ▼ 0.00 (0%)
WTL 0.94 Decreased By ▼ -0.02 (-2.08%)
رائے

غلط دروازے پر دستک، درست ایجنڈا ( دوم اور آخری حصہ)

  • ’’پاکستان کا مسئلہ بنیادی طور پر بینکاری کا نہیں بلکہ مالیاتی نظم و ضبط کا ہے؛ بینکوں پر الزام تراشی کے بجائے ٹیکس نظام سمیت وسیع تر اصلاحات پر توجہ دینا ہوگی۔‘‘
شائع اپ ڈیٹ

ڈاکٹر ندیم الحق کے دو کالموں ’’کس نے میدان تیار کیا؟‘‘ اور ’’بچت کرنے والا قیمت چکاتا ہے‘‘ کے جواب میں تحریر کا آخری حصہ۔

لندن کی مثال: اعتراض تسلیم، مگر نتیجہ برقرار

ڈاکٹر ندیم الحق نے بینک آف انگلینڈ سے میری مثال کو یہ کہہ کر مسترد کیا ہے کہ وہاں سرکاری بانڈز وسیع پیمانے پر مختلف سرمایہ کاروں کے پاس ہوتے ہیں، اس لیے بینکوں کے لیے ان بانڈز میں سرمایہ کاری محض ایک ضمنی کاروبار ہے۔ یہ بات درست ہے، لیکن وہاں یہ بانڈز پنشن فنڈز اور بیمہ کمپنیوں کے پاس بھی ہوتے ہیں، جن کے اثاثوں کی مجموعی مالیت برطانیہ کی مجموعی قومی پیداوار سے بھی زیادہ ہے، جب کہ پاکستان میں یہ تناسب ایک فیصد سے بھی کم ہے۔

سرمایہ کاروں کی وسیع بنیاد کا تعلق بچت کے نظام سے ہے، اور اس نظام کی تشکیل سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی)، ٹیکس قوانین اور وزارتِ خزانہ کرتی ہے، نہ کہ کسی بینک کی قرضہ کمیٹی۔

پاکستان میں بھی بچت کے ایسے وسیع ذخائر تشکیل دیے جائیں تو حکومتی قرضی دستاویزات کی ملکیت بھی وسیع پیمانے پر پھیل سکتی ہے۔

متبادل مالیاتی ذرائع کی اپنی کارکردگی کا حساب

متبادل مالیاتی ذرائع کی کمزوری کا ذمہ دار بینکوں یا اسٹیٹ بینک کو قرار نہیں دیا جا سکتا۔ 1990 کی دہائی میں سرمایہ کاری کے بینکوں، لیزنگ کمپنیوں اور مضاربہ اداروں کو درجنوں کی تعداد میں لائسنس جاری کیے گئے، مگر یہ ادارے بھی درجنوں کی تعداد میں ناکام ہوئے۔ ان کی ناکامی کی وجوہ میں ناقص انتظامی نظم و نسق، ایسے مالیاتی ماڈل جن میں قلیل مدت کے لیے قرض لے کر طویل مدت کے لیے قرض دیا جاتا تھا، اور مالیاتی اسکینڈلز شامل تھے؛ یہ بینکوں کی جانب سے ان کے کاروبار پر قبضے کا نتیجہ نہیں تھا۔

ایک پوری نسل سے بیمہ کا شعبہ مجموعی قومی پیداوار کے ایک فیصد سے بھی نیچے ہے۔ اس صورتِ حال کا دیانت دارانہ جائزہ یہی ہے کہ اس شعبے کی اپنی صنعت نے اسے اسی سطح پر رکھا۔ اس کی وجوہ میں محدود بیمہ مصنوعات، ان کی مزید محدود تقسیم اور اس اعتماد میں ناکافی سرمایہ کاری شامل ہے جس پر یہ کاروبار قائم ہوتا ہے۔ رضاکارانہ پنشن اسکیموں کو بھی بہت کم لوگوں نے اپنایا، کیونکہ انہیں حقیقی معنوں میں متعارف ہی نہیں کرایا گیا تھا۔ اسی طرح اسٹاک مارکیٹ میں اعتماد کے اپنے بحرانوں نے چھوٹے سرمایہ کاروں کو دور رکھنے میں کسی بھی بینک سے زیادہ کردار ادا کیا۔

اس پورے مالیاتی نظام میں فنڈ منیجر، بیمہ کمپنی، پنشن منیجر، فنانس کمپنی اور مضاربہ ادارے سمیت ہر قسم کا لائسنس ایس ای سی پی جاری کرتا ہے، جیسا کہ ایک منظم مارکیٹ میں ہونا چاہیے۔ ان میں سے کسی کو بھی لائسنس لینے کے لیے کبھی کسی بینکار کی منظوری درکار نہیں رہی، اور لائسنس جاری کرنے والا کمیشن بھی کبھی بینکاروں کا مخصوص ادارہ نہیں رہا۔ اس کے سربراہان سول سروس، قانون، اکاؤنٹنگ اور سرمایہ جاتی منڈیوں سے آتے رہے ہیں۔

ایک ایسے ادارے کو، جو خود اپنی کارکردگی کے اعتبار سے مستحکم رہا ہو، دوسرے اداروں کے زوال کا ذمہ دار ٹھہرانا مسئلے کی تشخیص نہیں بلکہ توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔

جہاں بینکوں نے متبادل مالیاتی شعبوں میں قدم رکھا، مثلاً فنڈز کی تقسیم، بینک انشورنس اور ایکسچینج کمپنیوں کے کاروبار میں، وہاں وہ ان صنعتوں کے لیے شفافیت، استحکام، شاخوں کا نیٹ ورک اور وسیع پیمانے پر کاروبار کرنے کی صلاحیت لے کر آئے، جہاں پہلے یہ خصوصیات موجود نہیں تھیں۔

معیشت میں متبادل مالیاتی ذرائع کو وسعت دینے کا راستہ بینکوں کو کمزور کرنا نہیں، بلکہ ان متبادل ذرائع کے اپنے نظام کو بہتر بنانا ہے۔

وہ اصلاحات جن کی میں حمایت کرتا ہوں اور جو اب بھی قابلِ عمل ہیں

اب اس بحث کے اس حصے کی طرف آتے ہیں جو محض دلائل سے زیادہ اہم ہے۔ ڈاکٹر ندیم الحق کی تجویز کردہ دس اصلاحات میں سے بیشتر کی میں اسی صورت میں حمایت کرتا ہوں جس صورت میں وہ پیش کی گئی ہیں، جب کہ ایک اصلاح پہلے ہی نافذ ہو چکی ہے۔

لائسنس جاری کرنے کے معیار شائع ہونے کے منتظر نہیں ہیں، بلکہ اسٹیٹ بینک کی ویب سائٹ پر عوام کے لیے دستیاب ہیں۔ اسی بنا پر 2022 میں ڈیجیٹل بینکوں کے لیے درخواست دینے والے تقریباً 40 امیدوار جانتے تھے کہ انہیں کن شرائط کے تحت درخواستیں جمع کرانی ہیں۔

سرمائے کی ضروریات بھی کاروبار کی نوعیت کے مطابق مختلف ہیں۔ مائیکروفنانس بینک، ڈیجیٹل بینک اور کمرشل بینک کے لیے یکساں سرمایہ درکار نہیں ہوتا۔ بلکہ یہ بحث ابھی باقی ہے کہ آیا موجودہ کم از کم سرمایہ جاتی شرائط بہت نرم ہیں اور انہیں مزید سخت کرنے کی ضرورت ہے۔

اس معاملے میں بھی بینکاری صنعت کا ریکارڈ کسی اجارہ دار کا نہیں، بلکہ اس نے نئے اداروں کے داخلے کی کم از کم شرائط نرم رکھنے کی حمایت کی ہے تاکہ مسابقت کو فروغ مل سکے۔ اگر اس صنعت کا مقصد مارکیٹ پر قبضہ برقرار رکھنا ہوتا تو وہ داخلے کی رکاوٹیں کم کرنے کے بجائے انہیں مزید بلند کرنے کے لیے لابنگ کرتی۔

میں اپنی طرف سے قانون کے تحت فیصلوں کے لیے مقررہ مدت متعین کرنے کی تجویز بھی شامل کرنا چاہوں گا۔ اس کے علاوہ خطرات کے مطابق سرمایہ جاتی تقاضوں کے حامل خصوصی لائسنس، غیر بینکی پرائمری ڈیلرز اور ڈیپازٹری کے ذریعے براہِ راست نیلامی میں شرکت کی سہولت، محتاط ضابطہ جاتی حدود کے اندر طویل مدتی قرض فراہم کرنے والی فنانس کمپنیاں، ہر لائسنس یافتہ قرض دہندہ کو قرض اور ادائیگیوں کے ڈیٹا تک یکساں رسائی، فنڈز کے لیے کھلا نظام، راسٹ کے ذریعے ایکسچینج کمپنیوں کے لین دین کی تصفیہ کاری اور اداروں کے درمیان ملازمین کی آمدورفت پر عارضی پابندی کے قواعد بھی ضروری ہیں۔

ڈاکٹر ندیم الحق کا کہنا ہے کہ ایک کھلی صنعت کو کسی چیز سے خوف زدہ نہیں ہونا چاہیے۔ میں اس سے اتفاق کرتا ہوں۔ بینکاری صنعت کو اس فہرست میں شامل کسی تجویز سے خوف نہیں اور نہ ہی وہ ان سے متعلق کوئی بات چھپاتی ہے۔

تاہم، دو معاملات پر میرا اختلاف برقرار ہے۔

پہلا یہ کہ بینکوں کے انضمام کے بجائے ڈپازٹ پروٹیکشن فنڈ کے ذریعے مسائل کا حل بظاہر زیادہ صاف اور آسان دکھائی دیتا ہے، لیکن فنڈ کے حجم کو دیکھنے کے بعد یہ تاثر برقرار نہیں رہتا۔ اس فنڈ کے تحت فی کھاتہ دار ضمانت کی حد 10 لاکھ روپے ہے، جسے صرف 2024 میں دگنا کیا گیا، جب کہ جن بینکوں کے انضمام کی مثالیں ڈاکٹر ندیم الحق نے دی ہیں، ان میں تمام کھاتہ داروں کی رقوم مکمل طور پر محفوظ رہیں۔

دوسرا اختلاف یہ ہے کہ کم از کم شرحِ منافع کی شرط کو دوبارہ کارپوریٹ اداروں کے خزانے تک بڑھانا ان فریقوں کے درمیان قیمت پر کنٹرول عائد کرنے کے مترادف ہوگا جو روزانہ کی بنیاد پر باہمی مذاکرات کے ذریعے معاملات طے کرتے ہیں۔

اس کے باوجود میری اپنی تجاویز برقرار ہیں۔ محتاط ضابطہ جاتی قواعد کے تحت سرکاری قرضوں میں بینکوں کی سرمایہ کاری کی حد مقرر کرنے سے قرض دہندہ پابند ہوگا اور اس پر نگران ادارہ عمل درآمد کرا سکے گا۔ اس کے برعکس پارلیمانی سطح پر قرضوں کی حد مقرر کرنے کے اقدامات قرض لینے والے کو پابند کرتے ہیں، لیکن اب تک ان سے کوئی مؤثر پابندی عائد نہیں ہو سکی۔

اسی طرح ابتدائی نقصان کی ضمانت کا مقصد خطرہ ریاست کے ذمے ڈالنا نہیں، بلکہ قرض لینے والوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنا ہے۔ ایسی ضمانت کی قیمت مقرر کی جا سکتی ہے اور اسے اس وقت تک جاری رکھا جا سکتا ہے جب تک قرضوں کی ادائیگی کا ریکارڈ یہ ثابت نہ کر دے کہ ضمانت کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ یہ اپنی نوعیت میں عبوری انتظام ہے، جس کی مثال پنجاب کے کسان کارڈ پروگرام میں موجود ہے، جہاں 10 لاکھ کسانوں نے ہر ایک روپے کے مقابلے میں 99 پیسے واپس ادا کیے ہیں۔

بیلچے کا جواب

ڈاکٹر ندیم الحق نے میری جانب سے دی گئی ذخیرۂ آب اور ڈیم کی مثال کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا ہے کہ ذخیرۂ آب اپنے ٹیکس بلوں پر مقدمے نہیں کرتا اور نہ ہی اپنے سابق ملازمین کو اس وزارت میں بھیجتا ہے جو ڈیم تعمیر کرتی ہے۔

یہ ایک جاندار مثال ہے، لیکن اس کے جواب میں یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ اگر بینکوں نے نظام پر قبضہ کر رکھا ہوتا تو کیا وہ ڈیم کے لیے پانی کی سب سے زیادہ قیمت ادا کرتے؟ کیا ان کے زیرِ اثر قانون ساز ادارہ انہیں قانون کے ذریعے فیصلہ سازی کے کمرے سے باہر رکھتا؟ اور کیا 79 برس کے دوران 31 متعلقہ عہدوں پر صرف تین بینکاروں کے نام سامنے آتے؟

استعارہ ڈاکٹر ندیم الحق کا ہے، لیکن حقائق سب کے سامنے ہیں۔

وہ نجکاری کو نصف اصلاح قرار دیتے ہیں، اور اس معاملے میں ہم اتفاق کرتے ہیں۔ البتہ نامکمل اصلاح کا باقی نصف بینکوں کے اندر نہیں، بلکہ ان کے گرد موجود بچت کے نظام اور اس کے نیچے موجود ٹیکس کی بنیاد میں ہے۔ ان دونوں کو مکمل کر دیا جائے تو وہ میدان، جس کے بارے میں وہ سوال اٹھاتے ہیں، سب کی مشترکہ کوشش سے اور سب کے فائدے کے لیے ازسرِنو تعمیر ہو جائے گا۔

چونکہ بینکاری صنعت کی کارکردگی پر سوال اٹھایا گیا ہے، اس لیے اس کے حالیہ اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے بات ختم کرنا مناسب ہوگا۔ ان تمام اقدامات کی مالی ذمہ داری بینکوں نے اپنے کھاتوں پر خود اٹھائی، ان کے لیے ریاستی ضمانت نہیں لی گئی اور نہ ہی قومی خزانے سے ایک روپیہ خرچ ہوا۔

ستمبر 2025 میں 18 بینکوں نے ملک کی تاریخ کے سب سے بڑے مالیاتی لین دین پر دستخط کیے، جس کی مالیت 1.225 ٹریلین روپے تھی۔ اس کا مقصد توانائی کے شعبے کے گردشی قرضے کا خاتمہ تھا۔ اس انتظام میں قرضوں کی تنظیمِ نو کے ساتھ نئی مالی معاونت بھی شامل تھی۔ یہ مالی معاونت رعایتی شرائط پر فراہم کی گئی اور ریاست کی ضمانت کے بجائے نقد بہاؤ کو تحفظ کے طور پر استعمال کیا گیا۔ اس اقدام کا مقصد صارفین کو ریلیف دینا تھا، جب کہ وقت گزرنے کے ساتھ قرضوں کی ادائیگی کے لیے عائد سرچارج بھی ختم ہونا ہے۔

بینکوں نے قومی ایئرلائن کے 268 ارب روپے کے پرانے قرضوں کی تنظیمِ نو بھی کی۔ اس کے لیے دس سالہ مدت رکھی گئی اور شرحِ سود تقریباً 23.5 فیصد سے کم کرکے زیادہ سے زیادہ 12 فیصد کر دی گئی۔ اس کمی کا مالی بوجھ بینکوں نے اپنی آمدن سے برداشت کیا۔ اس اقدام سے قومی ایئرلائن کی بیلنس شیٹ بہتر ہوئی، جس کے نتیجے میں دو دہائیوں بعد اس کی نجکاری کا عمل دوبارہ شروع کرنے کی راہ ہموار ہوئی۔

بینکوں نے برآمدی ری فنانس کی شرح میں بھی تین مکمل فیصدی پوائنٹس کی کمی کرکے اسے 4.5 فیصد پر پہنچا دیا۔ بعد ازاں جب پالیسی ریٹ میں اضافہ ہوا تو انہوں نے مزید ایک فیصدی پوائنٹ کا بوجھ خود برداشت کیا تاکہ 2027 تک برآمد کنندگان کو یہی شرح فراہم کی جا سکے۔ یہ قیمت میں اجتماعی کمی تھی، جس کے لیے باقاعدہ طریقہ کار کے تحت درخواست دی گئی اور منظوری حاصل کی گئی۔ اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ بینکاری صنعت کی جانب سے قیمتوں کے حوالے سے اجتماعی اقدام کی واحد دستاویزی مثال شرح کم کرنے کی ہے۔

اسی طرح گزشتہ جولائی میں وفاقی حکومت کی جانب سے ترسیلاتِ زر پر دی جانے والی رعایت ختم کیے جانے کے بعد بینکاری صنعت نے اس کی لاگت بھی اپنے ذمے لے لی۔ اس لاگت کا تخمینہ سالانہ تقریباً 100 ارب روپے ہے، جب کہ ترسیلاتِ زر بھیجنے والوں کے لیے سالانہ 16 ارب روپے کے انعامی فنڈ کا انتظام بھی کیا گیا۔ اس کے باوجود پاکستان کو موصول ہونے والی ترسیلاتِ زر 41.6 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں۔ یہ سب ایسے وقت میں ہوا جب چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں، زرعی شعبے اور رہائشی تعمیرات کے لیے قرضوں کی فراہمی بھی ریکارڈ سطح پر تھی۔

یہ کسی ایسے محفوظ اجارہ دارانہ گروہ کا طرزِ عمل نہیں جو میدان سے فائدہ اٹھا کر دوسروں سے وسائل نکال رہا ہو، بلکہ ایک ایسی صنعت کا طرزِ عمل ہے جو اپنی ذمہ داریوں سے بڑھ کر نظام کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اتفاق سے یہ تمام اقدامات انہی برسوں میں کیے گئے جب ایک بینکار کے پاس وزارتِ خزانہ کا قلم دان تھا۔

غلط دروازے پر دستک

یہ تمام نکات ہمیں اس نتیجے تک پہنچاتے ہیں جس کے گرد گزشتہ ایک ماہ سے یہ پوری بحث گھوم رہی ہے: ہم غلط دروازے پر دستک دے رہے ہیں۔

پاکستان کا مسئلہ بنیادی طور پر مالیاتی پالیسی کا نہیں اور اسی لیے اس کی جڑ میں بینکاری کا مسئلہ بھی نہیں۔ یہ مسئلہ بڑی حد تک، بلکہ میری رائے میں مکمل طور پر، مالیاتی نظم و ضبط کا ہے۔

مالیاتی حالات، مالیاتی پالیسی کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں، اس کے متوازی کسی الگ پالیسی کے ذریعے نہیں۔ ہمارے حالات کو معاشیات کی اصطلاح میں مالیاتی غلبہ کہا جاتا ہے۔ اس صورتِ حال میں مرکزی بینک کے پالیسی آلات اور بینکاری نظام کی بیلنس شیٹ کو بجٹ خسارہ پورا کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

گزشتہ چار کالموں میں جن مسائل کی نشاندہی کی گئی، ان میں بینکوں کے اثاثوں میں سرکاری قرضوں کا بڑا حصہ، طویل مدت کے لیے سرمایہ فراہم کرنے والے فنڈز کی کمی، بچت کرنے والوں کی مشکلات اور بینکوں سے باہر زیرِ گردش 12 ٹریلین روپے کی نقد رقم شامل ہیں، جو عالمی سطح پر بلند ترین تناسب رکھنے والے اعداد و شمار میں سے ہے۔ یہ تمام مسائل اسی ایک بنیادی حقیقت کا عکس ہیں۔

یہ محض کسی بینکار کا ذاتی نظریہ بھی نہیں۔ شکاگو یونیورسٹی میں تین دہائیاں گزارنے والے جان کوچرین نے، جو ڈاکٹر ندیم الحق کی مادرِ علمی بھی ہے، اپنی پسندیدہ کتابوں میں سے ایک The Fiscal Theory of the Price Level میں اس نظریے کی جدید تشریح پیش کی ہے۔ اس کے مطابق مہنگائی اور نجی شعبے کے لیے قرضوں کی دستیابی میں کمی بنیادی طور پر مالیاتی مسائل ہیں۔ مرکزی بینک ان کے اثرات کو مؤخر تو کر سکتا ہے، لیکن جب تک بجٹ خسارہ برقرار رہے، وہ انہیں ختم نہیں کر سکتا۔

ہم چاہیں تو بینکاری کے مسئلے کو بار بار دہراتے رہیں، لیکن اس سے مالیاتی نظم و ضبط کی گاڑی آگے نہیں بڑھے گی۔

میری تشویش محض ذاتی دفاع کا معاملہ نہیں، بلکہ عملی نوعیت کی ہے۔ بینکوں کی جانچ پڑتال خوش آئند ہے اور میں نے اس حوالے سے اٹھائے گئے ہر نکتے کا جواب دیا ہے۔ جہاں ضرورت ہو، میں اس بحث کو مزید آگے بڑھانے کے لیے بھی تیار ہوں۔ لیکن بینکاروں اور ان کے حالاتِ زندگی پر صرف ہونے والا ہر کالم وہ کالم ہے جو بجٹ خسارے پر صرف نہیں ہو رہا۔ اس توجہ کی منتقلی کی قیمت وہ عوام ادا کرتے ہیں جو معاشی بہتری کے منتظر ہیں۔

یہی وہ مشترکہ مقصد ہے جس کے لیے ہم دونوں لکھتے ہیں: ایسی معیشت جو اپنے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے چلائی جائے۔ اسی مقصد کے لیے میں ’’فلاحی مجموعی قومی پیداوار‘‘ (ویلفیئر جی ڈی پی) کے تصور کی حمایت کرتا ہوں۔

اس لیے میں اپنی بات کسی تردید کے بجائے ایک ایجنڈے اور اس پر اتفاق کی دعوت کے ساتھ ختم کرنا چاہتا ہوں۔ گزشتہ ہفتے حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف کے ساتھ منعقدہ ٹیکس ورکشاپ میں، میں نے ٹیکس نظام کے لیے چار تجاویز پیش کیں۔ یہ تجاویز ایک بینکار کی حیثیت سے اور ایسی صنعت کی طرف سے دی گئیں جو قومی خزانے کو سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرتی ہے۔ میرا مقصد ایک ہی ہے: ایسے افراد کو بھی قرضوں کے رسمی نظام میں لانا جو اب تک بینکاری سہولتوں سے محروم ہیں، اور مالیاتی ترغیب کے ذریعے مالیاتی اور زرِی پالیسی کے درمیان موجود خلا کو پُر کرنا۔

پہلی تجویز: پہلی مرتبہ قرض لینے والوں کی حوصلہ افزائی

پہلی مرتبہ قرض لینے والوں کو دونوں جانب سے ترغیب دی جائے۔ کوئی شخص محض ٹیکس ادا کرنے کے لیے ٹیکس نظام میں شامل نہیں ہوتا، بلکہ قرض حاصل کرنے کے لیے شامل ہوتا ہے۔ اس لیے پہلے رسمی قرض پر قرض لینے والے کو سود کی رقم پر ٹیکس میں کٹوتی کی سہولت دی جائے اور تین برس تک سابقہ مدت کے ٹیکس آڈٹ سے تحفظ فراہم کیا جائے۔

دوسری جانب بینک کو اس قرض سے حاصل ہونے والی آمدن پر 54.5 فیصد کے بجائے معمول کی کارپوریٹ ٹیکس شرح کے مطابق ٹیکس ادا کرنا چاہیے۔ یہ سہولت صرف ایک قرض اور تین برس تک محدود ہو۔ اس طرح پیدا ہونے والی نئی ٹیکس بنیاد سے اس رعایت کی لاگت پوری ہو جائے گی۔

دوسری تجویز: فائلر اور نان فائلر کی تفریق ختم کی جائے

ٹیکس فائلر اور نان فائلر کی تفریق بتدریج ختم کی جائے۔ اس تفریق نے ایک قانونی ذمہ داری کو ٹیکس وصولی کے لیے رکاوٹ یا ٹول میں بدل دیا، ہر بینک اکاؤنٹ کو ممکنہ ٹیکس کارروائی کا ذریعہ بنا دیا اور لوگوں کو نقد رقم رکھنے کی طرف دھکیلا۔

اس کے بجائے سب کے لیے یکساں شرح مقرر کی جائے اور شعبہ وار کارروائی کے ذریعے ان افراد کو ٹیکس نظام میں لایا جائے جو گوشوارے جمع کرانے کے پابند ہیں لیکن ایسا نہیں کرتے۔ اس عمل کا آغاز ان شعبوں سے ہونا چاہیے جہاں دستاویزات اور ریکارڈ کی بہتری سے سب سے زیادہ فائدہ حاصل ہو سکتا ہے۔

تیسری تجویز: ٹیکس محکمے میں ماہرین کی بھرتی

ٹیکس کے محکمے میں افرادی قوت کی تقرری اس مارکیٹ کے معیار کے مطابق کی جائے جس کی نگرانی اس محکمے کے ذمے ہے۔ ماہرینِ معاشیات، اکاؤنٹنٹس اور ڈیٹا سائنس دانوں کو مارکیٹ کے مطابق تنخواہوں پر براہِ راست بھرتی کرکے ٹیکس پالیسی آفس اور ایف بی آر کے آڈٹ اور بڑے ٹیکس دہندگان سے متعلق یونٹس میں تعینات کیا جائے۔

ان کی کارکردگی کا پیمانہ جون میں جمع ہونے والی ٹیکس رقم کے بجائے ایسے ٹیکس تعینات ہوں جو اپیل کے مرحلے پر بھی برقرار رہیں۔ اس کے علاوہ ہر زیرِ تربیت اکاؤنٹنٹ کے لیے ایف بی آر میں ایک سال کی عملی تربیت لازمی قرار دی جائے۔

چوتھی تجویز: ایف بی آر کے حسابات اکروئل بنیاد پر مرتب ہوں

ایف بی آر کے اپنے حسابات بھی برطانیہ اور آسٹریلیا کی طرح اکروئل بنیاد پر مرتب کیے جائیں۔ اس طریقے میں آمدن کو اس وقت شمار کیا جاتا ہے جب وہ واجب الادا ہو، جب کہ قابلِ واپسی ٹیکس کو واجبات میں شامل کیا جاتا ہے۔

اس کے ساتھ ایک آڈٹ شدہ ٹرسٹ اسٹیٹمنٹ بھی جاری کیا جائے۔ اس طرح جون میں ٹیکس وصولی کے لیے کیے جانے والے دباؤ کا خاتمہ ہو سکے گا اور ٹیکس کی واپسی کی رقم ایک ایسی قابلِ وصول مالیاتی رقم بن جائے گی جسے بینک بھی قابلِ اعتبار اثاثہ سمجھ سکیں گے۔

ان تمام اقدامات کی پیش رفت ایک عوامی ڈیش بورڈ پر دکھائی جائے، جس کے اختتامی گراف میں دو رجحانات نمایاں ہوں: ٹیکس کی شرحیں کم ہو رہی ہوں اور ٹیکس دہندگان کی تعداد بڑھ رہی ہو۔

اگر ان تجاویز پر اتفاق ہو جائے تو اس کے بعد ایک زیادہ اہم بحث کا راستہ کھل سکتا ہے۔ اس میں پنشن فنڈز کو نقد رقم کے بجائے اثاثوں کی صورت میں مالی وسائل فراہم کرنا شامل ہے، جس کے تحت ریاست اپنی زمین کے ذخائر کو سرکاری و نجی شراکت داری کے تحت پیشہ ورانہ طور پر چلائے جانے والے پنشن فنڈز میں بطور حصہ دے سکتی ہے۔

سرکاری اداروں کے لیے حقیقی معنوں میں آزاد اور مضبوط نگران اداروں کے ذریعے انتظامی نظم و نسق قائم کیا جائے۔ سبسڈی کو ہدف کے مطابق مختص کیا جائے اور اس کی ادائیگی کارکردگی سے منسلک ہو۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کو بھی ازسرِنو ترتیب دیا جائے تاکہ کمانے سے قاصر افراد کے لیے سماجی تحفظ اور کمانے کی صلاحیت رکھنے والوں کے لیے مائیکروفنانس کے ذریعے معاشی مواقع پیدا کرنے کے درمیان واضح فرق قائم ہو۔

اسی طرح ضمانتوں اور اثراتی بانڈز کے ذریعے بجٹ کو تعلیم، ہنر، صحت اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق اقدامات کے لیے زیادہ مؤثر بنایا جائے۔

اس پورے نظام کو درست کر دیا جائے تو مالیاتی شعبے کے دوسرے اجزا، یعنی بینک، بیمہ، پنشن اور سرمایہ جاتی منڈیاں، خودبخود بہتر ہونے لگیں گے۔ ان اداروں پر فیصلوں کے اثرات مرتب ہوتے ہیں؛ یہ وہ ہاتھ نہیں جو فیصلوں کی چھڑی چلاتا ہے۔ میں برسوں سے یہی بات کہتا آ رہا ہوں۔

اور پالیسی سازی کے کمروں میں بینکاروں کی موجودگی پر ناراضی ظاہر کرنے کے بجائے اس سے زیادہ بامعنی ردِعمل بھی ممکن ہے۔

ہماری بحث میں بار بار یہ کہا جاتا ہے کہ جو بھی کسی جگہ موجود ہے، وہ غلط ہے۔ بینکار برے ہیں، بیوروکریٹس برے ہیں اور ہر وہ شخص برا ہے جس نے کسی شعبے میں جگہ بنا لی ہے۔ لیکن ان الزامات کے پیچھے ٹھوس دلائل کم اور ان مشکل سوالات میں دلچسپی نہ ہونے کے برابر ہے کہ یہ جگہ خالی کس نے چھوڑی اور کیوں؟ متعلقہ پیشہ ورانہ شعبہ کہاں غلط ہوا؟ اور اسے عوام کے وسیع تر مفاد کے لیے اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرنے کے لیے کیا کرنا چاہیے؟

یہ وہ موضوع ہے جس پر ڈاکٹر ندیم الحق نے بھی پاکستان میں معاشیات کے پیشے سے وابستہ ماہرین کی کمی کے حوالے سے اپنے حالیہ مضمون میں مؤثر انداز میں لکھا ہے۔

اس کا جواب ان لوگوں کو محض نام لے کر برا بھلا کہنے سے نہیں ملے گا جنہوں نے خالی جگہ پُر کی۔ ان لوگوں نے یہ جگہ کسی نہ کسی وجہ سے حاصل کی، چاہے وہ وجہ درست تھی یا غلط۔ اصل ضرورت بہتر تحقیق، بہتر نظریات، پالیسی سازی میں دیانت داری اور اس پر مؤثر عمل درآمد کی ہے۔

یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جس پر ہم سب کو غور کرنا چاہیے۔ عوام پیشہ ور ماہرین، بالخصوص ماہرینِ معاشیات، سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ انہیں حالات کو سمجھنے میں مدد دیں گے۔ عوام اس بات کے حق دار ہیں کہ انہیں درست معلومات اور درست فہم فراہم کیا جائے۔

یہی معاشرتی معاہدے کا وہ تصور ہے جس کی طرف میں بار بار رجوع کرتا ہوں: بنیادی تبدیلی اس وقت آتی ہے جب معاشرہ اس کا مطالبہ کرتا ہے، اور درست انداز میں مطالبہ کرتا ہے۔

میں ہمیشہ کی طرح اس بحث کے لیے تیار ہوں۔ میری صرف اتنی گزارش ہے کہ اسے حقائق کی بنیاد پر آگے بڑھایا جائے۔ محض بیان بازی اور عوامی مقبولیت حاصل کرنے والے نعروں سے ہم کہیں نہیں پہنچ سکیں گے۔

جس فریق کو کسی چیز سے خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں، اسے حقائق پر اتفاق کرنے میں بھی کوئی دشواری نہیں ہونی چاہیے۔ ڈاکٹر ندیم الحق اور میرے درمیان ہونے والی اس مفید اور، میری نظر میں، حوصلہ افزا بحث میں ہم نے یہی کیا ہے۔

اب جب اس بحث سے مالیاتی اور زرِی اصلاحات کا ایک ایجنڈا بھی سامنے آ گیا ہے تو میری امید اور گزارش یہی ہے کہ ہم اس بحث کو اپنے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ان اصلاحات پر اتفاق کے ساتھ ختم کریں۔

ڈاکٹر ندیم الحق، شکریہ۔

(اختتام)

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

Comments

200 حروف