آئی ایم ایف کی مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقا اور پاکستان کی معیشت 1.3 فیصد سکڑنے کی پیش گوئی
- توانائی کی پیداوار اور تجارتی راستوں میں مزید رکاوٹیں معاشی صورتِ حال کو مزید خراب کر سکتی ہیں
آئی ایم ایف نے پیش گوئی کی ہے کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی قیادت میں جاری جنگ کے باعث رواں سال مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقا اور پاکستان کی مجموعی معاشی پیداوار میں 1.3 فیصد کمی متوقع ہے، تاہم 2027 میں شرحِ نمو 6.6 فیصد تک بحال ہونے کا امکان ہے۔ فنڈ نے خبردار کیا ہے کہ توانائی کی پیداوار اور تجارتی راستوں میں مزید رکاوٹیں معاشی صورتِ حال کو مزید خراب کر سکتی ہیں۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے مطابق جنگ کے باعث توانائی کی پیداوار، بحری نقل و حمل، سیاحت اور تجارت متاثر ہونے کے علاوہ معاشی اعتماد کو بھی نقصان پہنچا ہے، جس کے نتیجے میں خطے کی معاشی پیداوار سکڑنے کا خدشہ ہے۔ اگرچہ 2027 میں نمایاں بحالی متوقع ہے، تاہم بیشتر معیشتوں کی پیداوار جنگ سے قبل کی گئی پیش گوئیوں سے کم رہنے کا امکان ہے۔
آئی ایم ایف نے جمعرات کو دبئی میں جاری کردہ اپنی علاقائی اقتصادی جائزہ رپورٹ میں کہا کہ جنگ کے اثرات نمایاں رہے ہیں، تاہم مختلف معیشتوں پر ان کی شدت یکساں نہیں۔ توانائی کی پیداوار اور بحری نقل و حمل میں رکاوٹوں کے باعث تیل برآمد کرنے والے ممالک زیادہ متاثر ہوئے جبکہ تیل درآمد کرنے والی معیشتیں نسبتاً زیادہ لچکدار ثابت ہوئیں۔
فنڈ کی بنیادی پیش گوئی کے مطابق 2027 کے اوائل میں تنازع کی شدت کم ہونے اور سال کے دوران تجارت بتدریج معمول پر آنے کا امکان ہے۔ تاہم آئی ایم ایف نے خبردار کیا کہ معاشی منظرنامہ غیر معمولی غیر یقینی صورتِ حال سے دوچار ہے اور حالات مزید خراب ہونے کے خدشات موجود ہیں۔
آئی ایم ایف کے مطابق توانائی کی پیداوار اور تجارتی راستوں میں مزید رکاوٹیں توانائی کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بن سکتی ہیں جبکہ بیرونی مالیاتی حالات بھی سخت ہونے کا امکان ہے۔
فنڈ نے کہا کہ اگر سرمایہ کار مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے باعث پیداواری صلاحیت میں اضافے سے متعلق اپنی توقعات پر نظرثانی کرتے ہیں اور افراطِ زر اور مالیاتی صورتِ حال سے متعلق خدشات کے باعث شرحِ سود مزید بڑھتی ہے تو عالمی مالیاتی حالات مزید سخت ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق تیل درآمد کرنے والے ممالک میں ترسیلاتِ زر اور سیاحت سے حاصل ہونے والی آمدن، سازگار مالیاتی حالات اور اشیائے ضروریہ کی بڑھتی قیمتوں کے اثرات سے صارفین کو تحفظ دینے کے لیے بروقت حکومتی اقدامات نے ملکی طلب کو سہارا دیا، جس سے ان معیشتوں کو نسبتاً کم دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔
آئی ایم ایف نے قفقاز اور وسطی ایشیا میں معاشی نمو کی رفتار ایک زیادہ پائیدار سطح پر آنے کی پیش گوئی کرتے ہوئے کہا کہ ان خطوں کی معاشی پیداوار 2026 میں 5.2 فیصد اور 2027 میں 5 فیصد بڑھنے کا امکان ہے۔
آئی ایم ایف نے گزشتہ ہفتے ہونے والے سالانہ اجلاسوں میں دی گئی اپنی ہدایات کا اعادہ کرتے ہوئے پالیسی سازوں پر زور دیا کہ وہ قیمتوں کا استحکام برقرار رکھنے کو ترجیح دیں، مالیاتی پائیداری کا تحفظ کریں، مرکزی بینک کی خودمختاری برقرار رکھیں اور پیداواری صلاحیت بڑھانے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے ساختی اصلاحات نافذ کریں۔


Comments