پاکستان کا امریکی توانائی کی درآمدات بڑھانے، بوئنگ طیاروں کی خریداری کے لیے مالی معاونت پر غور
- وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور امریکی محکمہ خارجہ کے سفیر یون کے درمیان ملاقات
پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں توانائی کی فراہمی کے ذرائع متنوع بنانے اور ایندھن کی دستیابی برقرار رکھنے کیلئے امریکا سے توانائی کی درآمدات بڑھانے پر بات چیت کی جبکہ بوئنگ طیاروں کی خریداری کیلئے مالی معاونت کے معاملے پر بھی گفتگو کی گئی ہے۔
یہ پیشرفت تھائی لینڈ کے شہر بنکاک میں عالمی بینک گروپ اور آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاسوں 2026 کے موقع پر وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور امریکی محکمہ خارجہ کے سفیر یون کے درمیان ملاقات کے دوران سامنے آئی۔
بدھ کو جاری کردہ ایک بیان کے مطابق محمد اورنگزیب نے تجارتی فریم ورک معاہدے کی جانب پیشرفت اور امریکا سے درآمدات بڑھا کر توانائی ذرائع متنوع بنانے کے اقدامات کا جائزہ لیا۔ وزیرخزانہ نے ایندھن کی فراہمی برقرار رکھنے اور کم آمدن والے صارفین کو سہولت فراہم کرنے کیلئے کیے گئے اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔
ملاقات میں منی لانڈرنگ اور دہشتگردی کی مالی معاونت کی روک تھام (اے ایم ایل/سی ایف ٹی) کے انتظامات، فیٹف کے تقاضوں پر پیشرفت اور امریکی ادارے ڈیولپمنٹ فنانس کارپوریشن (ڈی ایف سی) اور ایکسپورٹ امپورٹ بینک (ایگزم بینک) کے ذریعے سرمایہ کاری کے لیے مالی معاونت پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
وزیر خزانہ نے ریکوڈک منصوبے، اہم معدنیات کے شعبے میں تعاون، منصوبے کی سیکیورٹی اور نجی سرمایہ کاری متحرک کرنے کے مواقع کو اجاگر کیا۔
ملاقات میں بوئنگ طیاروں کی خریداری اور ان کیلئے مالی معاونت، ہوا بازی سے متعلق منظوریوں، ڈیجیٹل اثاثوں کے ضابطہ کار اور ترسیلاتِ زر سمیت یورو بانڈز کو ڈیجیٹل ٹوکنز میں تبدیل کرنے کے ممکنہ استعمالات پر بھی بات چیت ہوئی۔
ایک الگ ملاقات میں وفاقی وزیر خزانہ نے ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز کے نمائندوں سے ملاقات کی جس میں پاکستان کی معاشی پیشرفت اور خودمختار کریڈٹ ریٹنگ کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
وزیر خزانہ نے ستمبر میں کامیابی سے بانڈز کے اجرا، سرمایہ کاروں کی بھرپور شرکت اور آئی ایم ایف پروگرام کے تحت پیشرفت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے ریٹنگ ایجنسی کو ٹیکس وصولیوں میں بہتری، زرمبادلہ ذخائر میں اضافے اور سواپ و فارورڈ واجبات میں کمی سے بھی آگاہ کیا۔
انہوں نے ساختی اصلاحات، مالی نظم و ضبط اور برآمدات پر مبنی پائیدار معاشی ترقی کے عزم کا اعادہ کیا۔ وزیر خزانہ نے مسلسل معاشی بہتری کے ذریعے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ کو ڈبل بی (بی بی) درجے تک پہنچانے کے ہدف سے بھی آگاہ کیا۔
ملاقات میں زرعی آمدن پر ٹیکس، توانائی و غذائی تحفظ، ہدفی ریلیف اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی صلاحیت بڑھانے کے امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ محمد اورنگزیب نے کہا کہ ایس اینڈ پی کے نزدیک پالیسیوں کا تسلسل، اصلاحات پر عمل درآمد، سودی ادائیگیوں کے بوجھ میں کمی اور بیرونی مالیاتی ذخائر کو مضبوط بنانا کریڈٹ ریٹنگ کے اہم عوامل ہیں۔


Comments