کاروباری افراد، اسٹارٹ اپس کیلئے فنڈ، حکومت اور آئی ایف سی کے درمیان بات چیت میں پیش رفت
- سستے گھروں کی فراہمی میں رکاوٹیں دور کرنے کیلئے ممکنہ ڈویلپر فنانس ماڈلز پر بھی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا
پاکستان اور عالمی بینک کے نجی شعبے سے متعلق ادارے انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (آئی ایف سی) نے کاروباری افراد اور اسٹارٹ اپس کی معاونت کے لیے ایک فنڈ قائم کرنے کے منصوبے پر پیش رفت کی ہے۔ اس اقدام کا مقصد ملک میں کاروباری ماحول کو مضبوط بنانا اور نجی شعبے سے سرمایہ کاری کے حصول کو فروغ دینا ہے۔
یہ پیش رفت منگل کو وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور آئی ایف سی پاکستان، افغانستان، کرغزستان، تاجکستان و ترکمانستان کے ڈائریکٹر سائمن اینڈریوز کے درمیان اعلیٰ سطح کے اجلاس میں سامنے آئی۔ اجلاس میں پاکستان میں نجی شعبے کی ترقی، فنانس تک رسائی اور سرمایہ کاری کے لیے آئی ایف سی کی جاری اور ممکنہ معاونت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیر خزانہ نے آئی ایف سی کے نمائندوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ ادارے کی مسلسل شراکت داری کو سراہا، خصوصاً نجی شعبے کے لیے فنانسنگ میں توسیع اور سرمایہ کاری پر مبنی معاشی نمو میں معاونت کے حوالے سے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کاروباری سرگرمیوں، چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں (ایس ایم ایز)، زرعی فنانس، سستے گھروں اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپس کو نجی سرمایہ متحرک کرنے کے لیے اہم شعبے سمجھتی ہے۔
آئی ایف سی کے نمائندوں نے وزیر خزانہ کو کاروباری افراد کے لیے فنڈ کے قیام میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا۔ یہ فنڈ متعلقہ شراکت داروں کے تعاون سے تیار کیا جا رہا ہے، تاکہ پاکستان میں کاروباری اور اسٹارٹ اپس کے ماحول کو مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے سستے گھروں کی فراہمی کے شعبے میں بھی پیش رفت سے آگاہ کیا اور رسد کی جانب رکاوٹیں دور کرنے کے لیے ممکنہ ڈویلپر فنانس ماڈلز پر بات چیت کی۔
زرعی فنانس کے حوالے سے گفتگو میں آئی ایف سی کے ایگری کنیکٹ اقدام پر توجہ مرکوز کی گئی، بالخصوص اسٹوریج کے بہتر بنیادی ڈھانچے اور الیکٹرانک ویئر ہاؤس رسیدوں کو مؤثر طور پر بطور ضمانت استعمال کرتے ہوئے نجی شعبے سے فنانسنگ حاصل کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔
وزیر خزانہ نے رسد کی جانب رکاوٹیں دور کرنے اور قرض دہندگان اور کسانوں کے لیے زیادہ یقینی ماحول پیدا کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔
پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپس بھی اجلاس کا اہم موضوع رہیں۔ آئی ایف سی نے وزیر خزانہ کو صوبائی حکومتوں کے ساتھ پانی اور بجلی کے شعبوں میں جاری منصوبوں سے متعلق تعاون سے آگاہ کیا، جن میں پانی کے معیار اور تحفظ کو بہتر بنانے اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں میں میٹرنگ کے بنیادی ڈھانچے کو ترقی دینے کے اقدامات شامل ہیں۔
مذاکرات میں اس امر کو اجاگر کیا گیا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپس کے ذریعے عوامی خدمات کی فراہمی بہتر بنانے، نقصانات کم کرنے اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے نجی سرمایہ متحرک کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
محمد اورنگزیب اور آئی ایف سی کے نمائندوں نے مقامی کرنسی میں فنانسنگ کے فروغ اور نجی شعبے کے منصوبوں کے لیے طویل مدتی فنانسنگ کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ وزیر خزانہ نے پیداواری سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ملکی مالی وسائل کے ساتھ بین الاقوامی ترقیاتی فنانس کو بروئے کار لانے کی اہمیت پر زور دیا۔
انہوں نے ایس ایم ایز، کاروباری افراد، زراعت اور ہاؤسنگ کے لیے فنانسنگ کے مواقع بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ طویل مدتی اور سستے سرمائے تک بہتر رسائی سے نجی سرمایہ کاری کو فروغ، کاروباری توسیع اور پیداواری سرگرمیوں میں اضافہ ممکن ہوگا۔ انہوں نے ان شعبوں میں جدید فنانسنگ حل تیار کرنے اور نجی سرمایہ متحرک کرنے میں آئی ایف سی کے کردار کو سراہا۔
محمد اورنگزیب نے پاکستان کے بہتر ہوتے ہوئے معاشی استحکام اور سرمایہ کاروں کے بڑھتے اعتماد کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ان مثبت پیش رفت کو زیادہ سرمایہ کاری، سرمائے کی تشکیل اور نجی شعبے کی قیادت میں معاشی نمو میں تبدیل کرنے پر توجہ دے رہی ہے۔ انہوں نے ملکی اور غیر ملکی نجی سرمائے کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے اور فنانس تک رسائی بڑھانے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
دونوں فریقین نے نجی شعبے کی فنانسنگ، سرمایہ کاری اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے شعبوں میں تعاون مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔


Comments