پی ایس ایکس میں لسٹڈ ٹرسٹ سیکیورٹیز کا کرپٹو کاروبار میں داخلے کا منصوبہ، پی وی اے آر اے لائسنس کیلئے درخواست
- پی وی اے آر اے ورچوئل اثاثہ سروس فراہم کرنے والوں کو لائسنس اور نگرانی کا ذمہ دار ریگولیٹری ادارہ ہے
ٹرسٹ سیکیورٹیز اینڈ بروکریج لمیٹڈ (ٹی ایس بی ایل) نے کہا ہے کہ اس کے بورڈ نے ورچوئل اثاثہ خدمات فراہم کرنے کے لیے ریگولیٹری لائسنس حاصل کرنے کی درخواست دینے کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے جبکہ الگ سے کمپنی کو اسپیشل پرپز ایکوزیشن کمپنیز (ایس پی اے سیز) کی ایک سیریز شروع کرنے کے لیے ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔
کمپنی نے جمعہ کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کو جاری کردہ متعدد نوٹسز میں اس پیش رفت سے آگاہ کیا۔
اسٹاک ایکسچینج کو جاری کردہ نوٹس میں ٹی ایس بی ایل نے کہا کہ وہ پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی (پی وی اے آر اے) سے تحویل، ایکسچینج اور ورچوئل اثاثوں کی منتقلی و تصفیے کی خدمات کے لیے لائسنس حاصل کرنے کی درخواست دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔
نوٹس کے مطابق مجوزہ درخواستیں ورچوئل ایسٹس ایکٹ 2026 کے تحت قائم کیے گئے ریگولیٹری فریم ورک کے مطابق دی جائیں گی، جس کے تحت پاکستان میں ورچوئل اثاثہ سروس فراہم کرنے والوں (وی اے ایس پیز) کو لائسنس جاری کرنے، ان کے ضابطے اور نگرانی کا نظام وضع کیا گیا ہے۔
پی وی اے آر اے وی اے ایس پیز کو لائسنس جاری کرنے اور ان کی نگرانی کا ذمہ دار ریگولیٹری ادارہ ہے، جس نے ورچوئل اثاثوں سے متعلق مختلف خدمات کے لیے متعدد کیٹیگریز مقرر کی ہیں۔
ٹی ایس بی ایل نے کہا کہ مجوزہ اقدام کا مقصد کمپنی کو قابل اطلاق قانونی اور ریگولیٹری فریم ورک کے تحت ابھرتے ہوئے ورچوئل اثاثہ ایکو سسٹم میں موجود مواقع تلاش کرنے کے قابل بنانا ہے۔
کمپنی نے واضح کیا کہ اس نے ابھی تک ایسی کوئی ریگولیٹڈ ورچوئل اثاثہ خدمات شروع نہیں کیں اور مطلوبہ منظوری اور لائسنس حاصل ہونے تک ایسی سرگرمیاں انجام نہیں دے گی جن کے لیے ریگولیٹری اجازت ضروری ہو۔
پی وی اے آر اے کو وفاقی کابینہ نے 8 جولائی 2025 کو باضابطہ منظوری دی تھی، جو ملک میں ڈیجیٹل اثاثوں کے لیے جامع قانونی اور ادارہ جاتی فریم ورک کے قیام کی جانب اہم قدم تھا۔ صدر آصف علی زرداری نے 9 جولائی 2025 کو ورچوئل ایسٹس ایکٹ 2025 کی منظوری دی، جس کے تحت پی وی اے آر اے کو خودمختار وفاقی ادارے کے طور پر قائم کیا گیا۔
ایک الگ نوٹس میں ٹی ایس بی ایل نے کہا کہ وہ اسپیشل پرپز ایکوزیشن کمپنیز (ایس پی اے سیز) کی ایک سیریز شروع کرنے کے اقدام پر بھی غور کررہی ہے۔
کمپنی کے مطابق اس اقدام کا مقصد پاکستان میں ایس پی اے سیز سے متعلق نافذ العمل ریگولیٹری فریم ورک کے تحت ان کمپنیوں کی تشکیل، ڈھانچہ سازی، عوامی پیشکش اور اسٹاک ایکسچینج میں لسٹنگ کے مواقع میں ٹی ایس بی ایل کی شرکت اور سہولت کاری ممکن بنانا ہے۔
ٹی ایس بی ایل نے بتایا کہ بورڈ نے کمپنی کو ضروری اقدامات آگے بڑھانے اور مزید ریگولیٹری منظوریوں اور شیئر ہولڈرز کی منظوری حاصل کرنے کی ہدایت کی ہے۔
کمپنی نے مزید کہا کہ مجوزہ ایس پی اے سی اقدام ابتدائی مرحلے میں ہے اور اعلان کی تاریخ تک کوئی حتمی لین دین، پیشکش، حصول یا انضمام طے یا منظور نہیں کیا گیا۔


Comments