BR100 Increased By (0.36%)
BR30 Decreased By (-0.13%)
KSE100 Increased By (0.22%)
KSE30 Increased By (0.37%)
BAFL 56.87 Increased By ▲ 0.49 (0.87%)
BIPL 24.96 Increased By ▲ 0.05 (0.2%)
BOP 30.35 Increased By ▲ 0.01 (0.03%)
CNERGY 13.12 Increased By ▲ 0.03 (0.23%)
DFML 15.90 Increased By ▲ 0.01 (0.06%)
DGKC 192.45 Increased By ▲ 0.09 (0.05%)
FABL 94.14 Increased By ▲ 0.42 (0.45%)
FCCL 52.79 Increased By ▲ 0.41 (0.78%)
FFL 14.72 Decreased By ▼ -0.02 (-0.14%)
GGL 19.56 Decreased By ▼ -0.44 (-2.2%)
HBL 306.10 Increased By ▲ 3.95 (1.31%)
HUBC 201.42 Decreased By ▼ -1.29 (-0.64%)
HUMNL 10.16 Increased By ▲ 0.05 (0.49%)
KEL 6.09 No Change ▼ 0.00 (0%)
LOTCHEM 26.46 Decreased By ▼ -0.89 (-3.25%)
MLCF 93.16 Increased By ▲ 0.41 (0.44%)
OGDC 316.73 Decreased By ▼ -1.03 (-0.32%)
PAEL 35.63 Increased By ▲ 0.13 (0.37%)
PIBTL 14.68 Increased By ▲ 0.11 (0.75%)
PIOC 243.21 Increased By ▲ 0.17 (0.07%)
PPL 226.91 Decreased By ▼ -0.88 (-0.39%)
PRL 93.02 Increased By ▲ 0.45 (0.49%)
SNGP 91.84 Decreased By ▼ -0.08 (-0.09%)
SSGC 23.81 Increased By ▲ 0.01 (0.04%)
TELE 7.80 Increased By ▲ 0.02 (0.26%)
TPLP 12.97 Increased By ▲ 0.30 (2.37%)
TRG 56.56 Decreased By ▼ -1.24 (-2.15%)
UNITY 8.07 Increased By ▲ 0.03 (0.37%)
WTL 1.01 Decreased By ▼ -0.01 (-0.98%)
کاروبار اور معیشت

ایشین ڈیولپمنٹ بینک کی پاکستان کی معاشی شرح نمو 3.7 فیصد رہنے کی پیش گوئی

  • مہنگائی بڑھ کر 8.3 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے
شائع اپ ڈیٹ

ایشین ڈیولپمنٹ بینک (اے ڈی بی) نے کہا ہے کہ رواں مالی سال پاکستان کی معاشی شرح نمو 3.7 فیصد رہنے کی توقع ہے کیونکہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے دیرپا اثرات معاشی سرگرمیوں کو متاثر کررہے ہیں جبکہ مہنگائی بڑھ کر 8.3 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے۔

اے ڈی بی نے اپنی تازہ ایشین ڈویلپمنٹ آؤٹ لک برائے ستمبر میں کہا ہے کہ توانائی اور لاجسٹکس کے بڑھتے اخراجات اور شرحِ تبادلہ پر دباؤ پاکستان کی معاشی بحالی کو مزید پیچیدہ بنا دے گا۔

اے ڈی بی نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے دیرپا اثرات سے معاشی رفتار متاثر ہونے کے باعث مالی سال 2027 میں شرح نمو 3.7 فیصد رہنے کی توقع ہے۔

آؤٹ لک میں کہا گیا کہ آئی ایم ایف کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی (ای ایف ایف) پروگرام کے تحت مسلسل بہتر کارکردگی، عالمی کیپٹل مارکیٹوں میں دوبارہ رسائی اور جولائی و اگست 2026 میں خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری نے مجموعی طور پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مضبوط کیا اور مالی سال 2024 کی بلند ترین سطح کے مقابلے میں مالی معاونت کی لاگت کم کردی ہے۔

اے ڈی بی نے کہا کہ مالی سال 2026 میں حقیقی بنیادوں پر 8.6 فیصد اضافے کے بعد نجی سرمایہ کاری سے طلب میں سب سے زیادہ اضافہ متوقع ہے۔

انہو نے کہا کہ نیشنل ٹیرف پالیسی 2025-2030 کے تحت صنعتی خام مال پر ٹیرف میں کمی اور سپر ٹیکس میں کمی کے بعد کارپوریٹ ٹیکس کے بوجھ میں کمی سے سرمایہ کاری کے ماحول میں بہتری آنی چاہیے۔

تاہم عالمی سطح پر توانائی کی بلند قیمتوں کے اثرات صارفین تک منتقل ہونے کے باعث حقیقی آمدنی میں کمی سے گھریلو اخراجات محدود رہنے کا امکان ہے۔

اے ڈی بی نے کہا کہ خدمات کا شعبہ مضبوط رہنے کی توقع ہے جس میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی برآمدات مضبوط بنیاد فراہم کریں گی جبکہ توانائی کی بلند قیمتوں سے پیداواری لاگت بڑھنے کے باعث صنعتی شعبے کی رفتار سست رہنے کا امکان ہے۔

اے ڈی بی نے کہا ہے کہ تعمیراتی شعبے کو بجٹ میں دی گئی مراعات سے فائدہ پہنچنے کی توقع ہے جن میں جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس میں کمی اور وزیراعظم کی ہاؤسنگ اسکیم کے تحت شرح سود پر سبسڈی میں اضافہ شامل ہے۔

ایشین ڈیولپمنٹ بینک نے مالی سال 2027 میں مہنگائی کی شرح 8.3 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی ہے جو مرکزی بینک کے درمیانی مدت کے 5 سے 7 فیصد کے ہدفی دائرے سے زیادہ ہے۔

اے ڈی بی نے کہا کہ اس پیشگوئی میں یہ مفروضہ شامل ہے کہ جون 2026 میں سالانہ بنیاد پر 11.1 فیصد رہنے والی مہنگائی بتدریج کم ہوگی اور مالی سال 2027 کی دوسری ششماہی میں دوبارہ 5 سے 7 فیصد کی حد میں آ جائے گی۔

عالمی سطح پر توانائی کی فراہمی میں جاری خلل کے باعث مالی سال 2027 کی پہلی ششماہی میں مقامی ایندھن اور لاجسٹکس کے اخراجات بلند رہنے کی توقع ہے جبکہ بین الاقوامی سطح پر کھاد کی قیمتوں میں اضافے سے زرعی پیداواری لاگت اور غذائی اشیا کی قیمتیں بڑھیں گی۔

اے ڈی بی نے کہا کہ معاشی سرگرمیوں میں تیزی اور درآمدی لاگت میں اضافے سے شرحِ تبادلہ پر دباؤ پڑ سکتا ہے جس کے نتیجے میں درآمدی مہنگائی میں اضافہ ہوگا۔

اے ڈی بی نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کو معاشی نمو کی حمایت اور مہنگائی کو پائیدار بنیادوں پر ہدف تک واپس لانے کے درمیان مشکل توازن قائم کرنا ہوگا جبکہ مالی سال 2026 کے اختتام تک حقیقی شرح سود تقریباً صفر کے قریب آچکی تھی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ مالی سال 2027 کے بجٹ میں مجموعی مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے 3.6 فیصد اور بنیادی سرپلس 2 فیصد مقرر کیا گیا جو آئی ایم ایف پروگرام کے اہداف سے ہم آہنگ ہے۔

ایف بی آر کی وصولیوں میں 17.6 فیصد اضافے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں ایف بی آر ٹیکسوں کا حجم جی ڈی پی کے 10.2 فیصد سے بڑھ کر 10.6 فیصد ہوجائے گا۔ تاہم ٹیکس میں اس اضافے کی لاگت بہتر ٹیکس تعمیل اور مؤثر نفاذ کے ذریعے پوری کرنا ہوگی جس کے باعث ایف بی آر کا ہدف بلند نوعیت کا ہے۔

اے ڈی بی نے یہ بھی توقع ظاہر کی ہے کہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں اضافے اور ملکی طلب میں بحالی کے باعث پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں اضافہ ہوگا۔

اے ڈی بی نے کہا کہ مینوفیکچرنگ شعبے میں بحالی اور عالمی توانائی کی منڈیوں میں جاری رکاوٹوں، بشمول مال برداری اور انشورنس پریمیم میں اضافے کے باعث درآمدات میں تیز رفتار نمو متوقع ہے جس سے تجارتی خسارہ وسیع ہوگا، اگرچہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی آئے گی۔

اس کے باوجود جون 2027 کے اختتام تک پاکستان کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر 21 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کی توقع ہے جو تقریباً 3.3 ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہوں گے اور قلیل مدت میں بیرونی استحکام فراہم کریں گے۔

اے ڈی بی نے خبردار کیا کہ اگر مشرقِ وسطیٰ کا تنازع شدت اختیار کرتا ہے تو اس سے توانائی کی درآمدی لاگت بڑھ سکتی ہے، ملک میں مہنگائی کے دباؤ میں اضافہ ہوسکتا ہے اور خلیجی ممالک کی لیبر مارکیٹوں میں رکاوٹیں طویل ہوسکتی ہیں جس سے ورکرز کی ترسیلاتِ زر محدود ہوسکتی ہیں۔

اے ڈی بی نے کہا کہ پاکستان کو اس صورتحال سے خاص طور پر خطرہ لاحق ہے کیونکہ پٹرولیم مصنوعات درآمدات میں نمایاں حصہ رکھتی ہیں جبکہ خلیجی معیشتوں سے آنے والی ترسیلاتِ زر ملک کیلئے زرمبادلہ کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔

منیلا میں قائم اس مالیاتی ادارے نے عالمی مالیاتی حالات میں سختی، محصولات میں کمی، موسمی حالات کے باعث زرعی شعبے کو پہنچنے والے نقصانات اور توانائی و سرکاری ملکیتی اداروں کی اصلاحات میں تاخیر کو بھی اہم منفی خطرات قرار دیا۔

اے ڈی بی نے کہا کہ آئی ایم ایف کی حمایت یافتہ اصلاحات پر مسلسل عملدرآمد، توانائی شعبے میں بہتری، نجکاری اور آئی ٹی و ڈیجیٹل خدمات کے فروغ سے پاکستان کے درمیانی مدت میں معاشی نمو کے امکانات مضبوط ہوسکتے ہیں۔

اے ڈی بی نے کہا کہ پاکستان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل خدمات کی بڑھتی صنعت برآمدات پر مبنی معاشی نمو کی راہ ہموار کرتی ہے جو اجناس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے نسبتاً کم متاثر ہوگی۔

Comments

200 حروف