وزیراعظم پی ٹی آئی سے مذاکرات کیلئے کمیٹی تشکیل دیں، علامہ راجہ ناصر عباس
- بڑی سے بڑی لڑائیاں بھی مذاکرات کی میز پر حل کی جاتی ہیں، صحافیوں سے گفتگو
سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس نے وزیراعظم شہباز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایک کمیٹی تشکیل دیں، جسے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ساتھ مذاکرات کی ذمہ داری سونپی جائے تاکہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ سے قبل حکومت اور سیاسی جماعت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کیا جاسکے۔
انہوں نے پیر کو پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بڑی سے بڑی لڑائیاں بھی مذاکرات کی میز پر حل کی جاتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کو مذاکرات کے لیے ایک ٹیم تشکیل دینی چاہیے، کیونکہ جب سیاسی رہنما مل بیٹھتے ہیں تو مسائل کا حل تلاش کرلیتے ہیں۔
راجہ ناصر عباس نے وزیراعظم کے علاوہ مولانا فضل الرحمان، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی)، پاکستان مسلم لیگ (ن)، جماعت اسلامی اور دیگر سیاسی جماعتوں کی قیادت سے بھی کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔
انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کو اس عمل میں شریک ہونا چاہیے، پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو بھی شامل ہونا چاہیے۔ اسی طرح مولانا فضل الرحمان، جماعت اسلامی اور دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی اس عمل کا حصہ بنایا جائے۔ ان رہنماؤں کو آج، کل یا پرسوں مل بیٹھنا چاہیے، لیکن انہیں مذاکرات ضرور کرنے چاہئیں۔ اگر پاکستان واقعی انہیں عزیز ہے تو انہیں سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
علامہ راجہ ناصر عباس نے اعتراف کیا کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے وزیر داخلہ محسن نقوی سے ان کی حالیہ ملاقات کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکی، تاہم انہوں نے کہا کہ مذاکرات کا عمل جاری رہنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ مذاکرات سے فوری طور پر کوئی حتمی نتیجہ برآمد نہیں ہوا، اس لیے مذاکراتی عمل کو مزید وقت دیا جانا چاہیے۔ اگر مذاکرات سے کوئی نتیجہ سامنے نہ آئے تو ہی کہا جاسکتا ہے کہ ہم ناکام ہوگئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دونوں فریقوں کی جانب سے مذاکرات کے لیے ٹیمیں تشکیل دی جانی چاہئیں اور ایسے بااختیار افراد کو آگے آنا چاہیے جو ملک کو اس بحران سے نکالنے کا اختیار رکھتے ہوں۔
27 ستمبر کے لانگ مارچ سے قبل پی ٹی آئی ارکان اسمبلی کی رضاکارانہ گرفتاریوں سے متعلق سوال پر راجہ ناصر عباس نے کہا کہ یہ سوال کیوں نہیں کیا جاتا کہ ارکان کو غیرقانونی طور پر گرفتار کیا جارہا ہے؟ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ لاجز میں پرامن طور پر بیٹھے لوگوں کو گرفتار کرنا آئین اور قانون کے خلاف ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ پرامن ارکان اسمبلی کو گرفتار کرنے والے کون ہیں اور انہیں یہ اختیار کس نے دیا؟
گزشتہ ماہ پی ٹی آئی نے جیل میں قید پارٹی کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی حمایت میں لانگ مارچ شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔
5 اگست کو پی ٹی آئی نے عمران خان کی قید کے تین سال مکمل ہونے پر ملک بھر میں عوامی اجتماعات منعقد کیے تھے۔
اسی روز پشاور میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے سابق وزیراعظم کے خلاف مبینہ بے بنیاد مقدمات کے خلاف لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments