BR100 Decreased By (-0.16%)
BR30 Decreased By (-0.43%)
KSE100 Decreased By (-0.11%)
KSE30 Decreased By (-0.07%)
BAFL 56.50 Increased By ▲ 0.03 (0.05%)
BIPL 24.76 Increased By ▲ 0.13 (0.53%)
BOP 29.95 Decreased By ▼ -0.17 (-0.56%)
CNERGY 12.74 Decreased By ▼ -0.24 (-1.85%)
DFML 18.66 Increased By ▲ 1.17 (6.69%)
DGKC 188.00 Increased By ▲ 0.78 (0.42%)
FABL 93.12 Decreased By ▼ -0.59 (-0.63%)
FCCL 51.67 Increased By ▲ 0.02 (0.04%)
FFL 14.43 Decreased By ▼ -0.06 (-0.41%)
GGL 18.90 Decreased By ▼ -0.14 (-0.74%)
HBL 303.00 Decreased By ▼ -0.78 (-0.26%)
HUBC 199.15 Increased By ▲ 0.19 (0.1%)
HUMNL 9.73 Decreased By ▼ -0.12 (-1.22%)
KEL 6.04 Decreased By ▼ -0.02 (-0.33%)
LOTCHEM 26.26 Increased By ▲ 0.09 (0.34%)
MLCF 91.00 Decreased By ▼ -0.23 (-0.25%)
OGDC 314.90 Increased By ▲ 1.51 (0.48%)
PAEL 34.98 Decreased By ▼ -0.26 (-0.74%)
PIBTL 14.29 Decreased By ▼ -0.42 (-2.86%)
PIOC 235.00 Decreased By ▼ -4.62 (-1.93%)
PPL 220.44 Decreased By ▼ -0.92 (-0.42%)
PRL 90.10 Decreased By ▼ -1.12 (-1.23%)
SNGP 91.00 Increased By ▲ 0.13 (0.14%)
SSGC 23.30 No Change ▼ 0.00 (0%)
TELE 7.42 Decreased By ▼ -0.19 (-2.5%)
TPLP 12.14 Decreased By ▼ -0.42 (-3.34%)
TRG 54.59 Decreased By ▼ -1.20 (-2.15%)
UNITY 7.97 Decreased By ▼ -0.05 (-0.62%)
WTL 1.01 Increased By ▲ 0.01 (1%)
کاروبار اور معیشت

مالی استحکام کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں، وزیرِ خزانہ

  • لندن میں سرمایہ کاروں سے ملاقات، نجی شعبے کے فروغ اور معاشی اصلاحات پر زور
شائع اپ ڈیٹ

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان کی مالیاتی استحکام کی کوششیں پرائمری سرپلس، بجٹ خسارے میں کمی اور محصولات کی وصولی میں بہتری کی صورت میں نتائج دے رہی ہیں۔

یہ ریمارکس انہوں نے لندن میں پاکستان کے ہائی کمشنر کی میزبانی میں پاکستان سرمایہ کاری گول میز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس میں لندن کے معروف سرمایہ کاروں اور عالمی مالی مینجمنٹ کمپنیوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

جمعرات کو جاری کردہ ایک بیان کے مطابق وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اجلاس میں کلیدی مقرر کی حیثیت سے شرکت کی۔ اس موقع پر گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد اور برطانیہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر طیب عثمان بھی موجود تھے۔

اپنے خطاب میں محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومتِ پاکستان میکرو اکنامک استحکام کے لیے پُرعزم ہے اور پائیدار معاشی نمو کے حصول کے لیے بھرپور کوششیں کررہی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ساختی اصلاحات کے ایجنڈے پر عملدرآمد جاری ہے جس کا مقصد نجی شعبے کو بھی مؤثر انداز میں فعال اور بااختیار بنانا ہے۔

محمد اورنگزیب نے بتایا کہ حکومت نے نجکاری کے علاوہ سرکاری ملکیتی اداروں (ایس او ایز) میں بھی اصلاحات کا عمل شروع کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ توانائی شعبے میں اصلاحات، مالی شفافیت اور کاروبار کرنے میں آسانی سے متعلق اقدامات حکومت کے میکرو اکنامک استحکام کے وژن کو مزید تقویت دیں گے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ معاشی نمو کے لیے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا اور ٹیکس قوانین پر مؤثر عملدرآمد ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ٹیکس حکام کے صوابدیدی اختیارات ختم کردیے گئے ہیں اور ٹیکس کے معاملے میں کسی کو ترجیحی سلوک حاصل نہیں ہے۔ تاہم، تنخواہ دار طبقے پر کوئی اضافی ٹیکس عائد نہیں کیا گیا۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ گزشتہ سال ملک بھر میں آنے والے بڑے سیلاب اور مشرق وسطیٰ میں حالیہ جنگ کے باعث پاکستان کی معیشت کو دھچکا لگا ہے جس نے دنیا بھر میں تیل کی قیمتوں کو منفی طور پر متاثر کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کاروبار کے لیے اوپن ہے اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی جانب سے ملک میں دلچسپی دوبارہ بڑھ رہی ہے۔ پاکستان نے آئی ایم ایف کے تمام جائزے مقررہ شیڈول کے مطابق مکمل کیے ہیں جن کی توثیق ریٹنگ میں تین مرتبہ بہتری سے بھی ہوئی ہے۔

محمد اورنگزیب نے سوال و جواب کے سیشن میں مالیاتی اداروں کے نمائندوں سے بھی تبادلہ خیال کیا جس میں پاکستان کی معیشت، سرمایہ کاری کے ماحول، بین الاقوامی اداروں کے ساتھ شراکت داری اور مختلف شعبوں میں ممکنہ سرمایہ کاری کے مواقع پر گفتگو ہوئی۔

Comments

200 حروف