بی آر آئی سمٹ، وزیر تجارت کا علاقائی رابطوں اور غذائی تحفظ پر زور
- جام کمال خان کی بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) سمٹ کے موقع پر سری لنکا، بنگلہ دیش اور قطر کے ہم منصب وزرا سمیت بین الاقوامی تنظیم برائے ثالثی کے سیکریٹری جنرل سے الگ الگ ملاقاتیں
وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) سمٹ کے موقع پر سری لنکا، بنگلہ دیش اور قطر کے ہم منصب وزرا سمیت بین الاقوامی تنظیم برائے ثالثی کے سیکریٹری جنرل سے الگ الگ ملاقاتیں کیں، جن میں تجارت، علاقائی رابطوں، غذائی تحفظ اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
سری لنکا کے وزیر تجارت وسنتھا سماراسنگھے سے ملاقات میں دونوں جانب سے دوطرفہ تجارت اور اقتصادی تعاون مضبوط بنانے کے طریقوں پر غور کیا گیا، جس میں پاکستان کے پہلے آزاد تجارتی معاہدے کے دائرہ کار اور استعمال میں اضافے پر بھی بات ہوئی۔ دونوں وزرا نے کاروباری اور عوامی روابط بڑھانے کے ساتھ رابطوں اور بنیادی ڈھانچے میں تعاون کے مواقع تلاش کرنے پر اتفاق کیا۔
سری لنکن وزیر نے مصنوعی ذہانت اور سائبر سکیورٹی کی بڑھتی اہمیت اجاگر کی، جبکہ جام کمال خان نے کہا کہ ڈیجیٹلائزیشن اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کررہی ہے اور ترقی پذیر ممالک کو ابھرتی ٹیکنالوجیز سے فائدہ اٹھانے کے ساتھ ان سے وابستہ چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت بھی پیدا کرنی چاہیے۔
دونوں جانب سے غذائی تحفظ اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے عالمی معیشت اور تجارت پر اثرات پر بھی گفتگو ہوئی۔ جام کمال خان نے پاکستانی کینو کی درجہ بندی بہتر بنانے اور مارکیٹ تک رسائی میں تعاون پر سری لنکا کا شکریہ ادا کیا، جبکہ سری لنکن وزیر نے پاکستانی تعاون سے انناس، ایووکاڈو اور کنگ کوکونٹ کی مارکیٹ تک رسائی کو سراہا۔
بنگلہ دیش کے وزیر تجارت، صنعت، ٹیکسٹائل و جوٹ کھنڈاکر عبدالمقتدر سے ملاقات میں دونوں ممالک نے اقتصادی تعاون اور برادرانہ تعلقات مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ جام کمال خان نے بنگلہ دیش کی نئی حکومت کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان اقتصادی روابط بڑھانے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے چاول کی برآمدات کو دوطرفہ تجارت میں حوصلہ افزا مثال قرار دیتے ہوئے ٹیکسٹائل سمیت دیگر شعبوں میں تجارت متنوع بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
قطر کے وزیر مملکت برائے خارجہ تجارت احمد بن محمد السید سے ملاقات میں مشرق وسطیٰ کی تازہ صورتحال، علاقائی امن اور اقتصادی اثرات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں جانب نے بی آر آئی اور علاقائی رابطوں کے ذریعے مشرق وسطیٰ، وسطی ایشیا، ترکیہ اور یورپ تک تجارتی راستے وسیع کرنے کے امکانات پر غور کیا۔
وزیر تجارت نے بین الاقوامی تنظیم برائے ثالثی کی سیکریٹری جنرل ٹریسا چان سے بھی ملاقات کی، جنہوں نے تنظیم کے قیام اور پاکستان کے بانی رکن کی حیثیت سے کردار سے آگاہ کیا۔ ملاقات میں حکومتوں اور نجی اداروں کے تنازعات کے پرامن اور ادارہ جاتی حل میں ثالثی کے کردار پر گفتگو ہوئی۔
ملاقاتوں سے پاکستان کی فعال اقتصادی سفارت کاری، علاقائی تجارت کے فروغ اور رابطوں و ٹیکنالوجی تعاون مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار ہوتا ہے۔


Comments