500 ملین روپے سے زائد آمدن رکھنے والے ایکسپورٹرز پر سپر ٹیکس ختم
- سیکنڈ شیڈول کے پارٹ IV میں نئی شق (104B) شامل کرکے 500 ملین روپے سے زائد آمدن رکھنے والے ایکسپورٹرز کے لیے بھی سپر ٹیکس مکمل طور پر ختم کردیا گیا ہے
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے مقررہ شرائط پوری کرنے کے بعد 500 ملین روپے سے زائد آمدن حاصل کرنے والے ایکسپورٹرز کے لیے سپر ٹیکس مکمل طور پر ختم کردیا ہے۔
ایف بی آر کی جانب سے منگل کو جاری کردہ انکم ٹیکس ایکسپلینیٹری سرکلر 2 آف 2026 کے مطابق اس ترمیم کا مطلب ہے کہ جدول میں درج افراد کے علاوہ 500 ملین روپے تک آمدن رکھنے والے ہر شخص کے لیے سپر ٹیکس ختم کردیا گیا ہے۔
تاہم سیکنڈ شیڈول کے پارٹ IV میں نئی شق (104B) شامل کرکے 500 ملین روپے سے زائد آمدن رکھنے والے ایکسپورٹرز کے لیے بھی سپر ٹیکس مکمل طور پر ختم کردیا گیا ہے، بشرطیکہ ٹیکس سال کے دوران وصول ہونے والی ایکسپورٹ پروسیڈز اسی سال ایکسپورٹر کے کل ٹرن اوور کے 80 فیصد سے زائد ہوں۔
مزید برآں مذکورہ افراد کے علاوہ 500 ملین روپے سے زائد آمدن رکھنے والے شخص کے لیے سپر ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے کم کرکے 8 فیصد کردی گئی ہے۔
ایف بی آر کے مطابق سیکشن 177 میں نئی ذیلی شق (68) شامل کی گئی ہے، جس کے تحت کمشنر اکاؤنٹس کی نوعیت اور پیچیدگی، حجم، ان کی درستگی سے متعلق شکوک، لین دین کی کثرت یا ٹیکس دہندہ کے کاروبار کی خصوصی نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے، ٹیکس دہندہ کو معقول موقع فراہم کرنے اور چیف کمشنر کی پیشگی منظوری کے بعد اکاؤنٹس کا دوبارہ آڈٹ کرانے کی ہدایت دے سکتا ہے۔
اس مقصد کے لیے بورڈ کی جانب سے نامزد پینل میں شامل اکاؤنٹنٹ سے اکاؤنٹس کا دوبارہ آڈٹ، کاسٹ اکاؤنٹنٹ سے انوینٹری کی دوبارہ ویلیوایشن یا ایکچوئری سے اکاؤنٹس میں درج ایکچوئیریل ویلیوز کا تعین کرایا جاسکے گا۔ رجسٹرڈ شخص کو کسی مخصوص اکاؤنٹنٹ یا کاسٹ اکاؤنٹنٹ کی نامزدگی پر اعتراض کرنے کا طریقہ کار بھی فراہم کیا گیا ہے۔
ایف بی آر نے مزید بتایا کہ سیکشن 182A کی ذیلی شق (1) کی شق (a) کے پروویزو میں ایکٹو ٹیکس پیئرز لسٹ میں شامل نہ ہونے والے افراد کے قابل ادائیگی سرچارج کی رقوم میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔
نئی ذیلی شق (3) بھی شامل کی گئی ہے، جس کے تحت سرچارج کی ادائیگی کی شرائط ایسے فرد پر لاگو نہیں ہوں گی جو کمشنر کے سامنے یہ تحریری یقین دہانی جمع کرائے کہ وہ یقین دہانی جمع کرانے کی تاریخ سے شروع ہونے والے 6 ماہ کے عرصے کے دوران کسی جائیداد کو خریدنے، حاصل کرنے یا کسی بھی طریقے سے اس کی ملکیت یا بینیفیشل انٹرسٹ حاصل کرنے کا اقدام نہیں کرے گا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments