فنڈز کا مبینہ غلط استعمال، ایف آئی اے کا یونٹی فوڈز کے خلاف مقدمہ درج
- یہ کارروائی ایس ای سی پی کی تحقیقات کے بعد کی گئی
وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں لسٹڈ کمپنی یونٹی فوڈز لمیٹڈ کی سابق انتظامیہ کے خلاف مبینہ مالی بے ضابطگیوں پر فوجداری مقدمہ درج کرلیا۔ یہ کارروائی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کی تحقیقات کے بعد کی گئی جن میں کمپنی کے شائع کردہ حسابات اور اندرونی ریکارڈز کے درمیان تقریباً 44.7 ارب روپے کے تضادات بھی سامنے آئے۔
ایف آئی آر کے مطابق ایس ای سی پی نے اپنی تحقیقات میں کمپنی کے فنڈز کے استعمال، مالی رپورٹنگ اور انونٹری ریکارڈز سے متعلق ممکنہ جرائم کی نشاندہی کے بعد معاملہ سیکشن 41 بی کے تحت ایف آئی اے کو بھجوا دیا۔
ایس ای سی پی کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق یونٹی فوڈز نے رائٹ ایشو کے ذریعے اپنے شیئر ہولڈرز سے 3.75 ارب روپے حاصل کیے جن میں سے تقریباً 2.87 ارب روپے مبینہ طور پر ایشو دستاویزات میں بیان کردہ مقاصد کے بجائے دیگرمد میں استعمال کیے گئے۔
ایف آئی آر میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ کمپنی کے فنڈز سے سابق چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) کی والدہ کو قرض کی مد میں 5.318 ارب روپے ادا کیے گئے۔
ایف آئی آر کے مطابق زیرِ تفتیش ایک اور لین دین میں یونٹی فوڈز کی ایک ذیلی کمپنی نے مبینہ طور پر دو نامعلوم فریقین کو 2.6 ارب روپے بطور ایڈوانس ادا کیے۔
ایس ای سی پی کی تحقیقات میں کمپنی کے شائع کردہ مالی حسابات اور اس کے اندرونی ایس اے پی ریکارڈز کے درمیان تقریباً 44.7 ارب روپے کا مبینہ تضاد بھی سامنے آیا۔ اسی دوران ایف آئی آر میں کہا گیا کہ کمپنی کے ریکارڈ میں درج انونٹری اور حقیقی اسٹاک کے درمیان بھی تقریباً 5.2 ارب روپے کا فرق پایا گیا۔
ایف آئی آر کے مطابق تحقیقات میں تقریباً 5 ارب روپے کی پرانی واجب الادا رقم کے عوض سامان کی فراہمی کا ثبوت بھی نہیں ملا۔
ایس ای سی پی کی جانب سے معاملہ بھجوائے جانے کے بعد ایف آئی اے کے کارپوریٹ کرائم سرکل کراچی نے 29 اگست کو کمپنی کی سابق انتظامیہ اور دیگر ملزمان کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا۔
ایس ای سی پی کے چیئرمین کبیر احمد سدھو نے کہا کہ ریگولیٹر لسٹڈ کمپنیوں میں سرمایہ کاروں کے فنڈز کے تحفظ کو یقینی بنانے اور شفاف مالی رپورٹنگ کے فروغ کے لیے اقدامات کرے گا۔
کبیر احمد سدھو نے کہا کہ اقلیتی حصص داروں کے حقوق کا تحفظ ایس ای سی پی کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سرمایہ کاروں سے حاصل کیے گئے فنڈز صرف انہی مقاصد کے لیے استعمال کیے جانے چاہئیں جن سے انہیں آگاہ کیا گیا ہو۔
یونٹی فوڈز لمیٹڈ کو 1991 میں پاکستان میں پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی کے طور پر قائم کیا گیا، بعد ازاں 16 جون 1991 کو اسے پبلک لمیٹڈ کمپنی میں تبدیل کردیا گیا۔


Comments