عمران خان صحت مند، مگر تنہائی کے باعث اضطراب کا شکار ہیں، بہن
- بانی پی ٹی آئی نے بارہا ناانصافی کی شکایت کی ہے، ڈاکٹر عظمیٰ خان
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان نے کہا ہے کہ عمران خان سے ملاقات کے دوران انہوں نے بارہا شکایت کی کہ ان کے ساتھ بہت بڑی ناانصافی ہو رہی ہے اور دعویٰ کیا کہ دورانِ قید انہیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے عظمیٰ خان نے کہا کہ ان کے بھائی جسمانی طور پر صحت مند ہیں اور جب انہوں نے پمز میں طبی معائنے کے دوران عمران خان سے ملاقات کی تو ان کا بلڈ پریشر بھی معمول کے مطابق تھا، تاہم وہ تنہائی کے باعث اضطراب کا شکار تھے۔
انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کا بلڈ پریشر نارمل تھا، وہ فِٹ ہیں۔ ان کے مطابق عمران خان کا بلڈ پریشر تقریباً 120/70 یا 120/80 تھا۔تاہم عظمیٰ خان نے دعویٰ کیا کہ طبی معائنے کے دوران خون کے کوئی ٹیسٹ نہیں کیے گئے اور صرف آنکھ میں ایک انجیکشن لگایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان نے بارہا بتایا کہ ان کے ساتھ بہت زیادہ ناانصافی ہو رہی ہے اور دعویٰ کیا کہ گزشتہ 10 ماہ کے دوران انہیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
عظمیٰ خان کے مطابق عمران خان نے شکایت کی کہ انہیں ٹیلی ویژن دیکھنے یا مطالعے کا مواد فراہم کیے بغیر رکھا گیا اور وہ جیل کے ڈاکٹروں کے سامنے بارہا اپنی صحت سے متعلق خدشات بھی ظاہر کر چکے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ عمران خان نے سابق مصری صدر محمد مرسی کا بھی حوالہ دیا اور خدشہ ظاہر کیا کہ ان کے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک کیا جا سکتا ہے۔ محمد مرسی 2019 میں دورانِ حراست عدالت میں سماعت کے دوران گرنے کے بعد انتقال کر گئے تھے۔
عظمیٰ خان نے کہا کہ عمران خان کے صحت سے متعلق مسائل بنیادی طور پر بلند فشارِ خون کے بجائے طویل تنہائی کے باعث پیدا ہونے والے اضطراب سے منسلک ہیں۔ ان کے مطابق عمران خان اس سے قبل دل کی دھڑکن میں اتار چڑھاؤ کی شکایت بھی کر چکے ہیں اور جیل میں طبی امداد حاصل کر چکے ہیں۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ عمران خان نے بتایا کہ ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو بھی مبینہ طور پر تنہائی میں رکھا جا رہا ہے۔
اسپتال منتقلی کے واقعات بیان کرتے ہوئے عظمیٰ خان نے کہا کہ وہ تقریباً رات 8 بج کر 15 منٹ پر اڈیالہ جیل پہنچی تھیں، جس کے بعد انہیں رات گئے ایک الگ گاڑی میں منتقل کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ابتدا میں انہیں یقین تھا کہ انہیں سپریم کورٹ کے سابقہ حکم کے مطابق شفا انٹرنیشنل اسپتال لے جایا جا رہا ہے، تاہم بعد میں بتایا گیا کہ عمران خان کو پمز منتقل کیا گیا ہے۔
عظمیٰ خان کے مطابق پی آئی ایم ایس میں علی الصبح عمران خان کا بلڈ پریشر چیک کیا گیا اور اس کے بعد ان کی آنکھ میں انجیکشن لگایا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ عمل عجلت میں مکمل کیا گیا اور خون کے کوئی ٹیسٹ نہیں کیے گئے۔
انہوں نے بتایا کہ عمران خان کو آگاہ کیا گیا تھا کہ بعد ازاں انہیں جامع طبی معائنے کے لیے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے گا اور وہ اس امکان پر مطمئن تھے۔
ان کے بیانات عمران خان کے طبی معائنے سے متعلق سامنے آنے والے متضاد دعوؤں کے درمیان آئے ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے اس سے قبل کہا تھا کہ عمران خان کا پمز اسپتال میں تفصیلی طبی معائنہ کیا گیا، جس میں شفا انٹرنیشنل اسپتال کے ڈاکٹروں نے بھی شرکت کی اور انہیں صحت مند قرار دیا گیا۔
دوسری جانب پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے عمران خان کو دوسرے اسپتال منتقل کیے جانے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انہیں توقع نہیں تھی کہ پی ٹی آئی کے بانی کو کسی دوسرے اسپتال منتقل کیا جائے گا۔
عمران خان کے طبی معائنے کے حوالے سے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ جو کچھ ہوا وہ انتہائی افسوسناک ہے اور کوئی نہیں چاہتا کہ معاملات حل ہوں۔
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ بالکل واضح تھا۔ اگر سپریم کورٹ کے فیصلے میں کوئی ابہام تھا تو نظرثانی کی درخواست دائر کی جا سکتی تھی۔
پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت عمران خان کو اسپتال منتقل کرکے وہیں رکھا جانا تھا، تاہم انہیں ایک اسپتال سے دوسرے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

Comments