وزیرِ اعظم نے ایک بار پھر پی ٹی آئی کو مذاکرات کی دعوت دیدی
- ملکی معیشت اور جمہوریت کو مزید مضبوط بنانے کے لیے سیاسی معاملات بات چیت کے ذریعے حل کیے جانے چاہئیں، شہباز شریف
وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو ایک بار پھر اپوزیشن پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو حکومت کے ساتھ بامعنی مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ ملکی معیشت اور جمہوریت کو مزید مضبوط بنانے کے لیے سیاسی معاملات بات چیت کے ذریعے حل کیے جانے چاہئیں۔
اسلام آباد میں وفاقی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ حکومت ہمیشہ مذاکرات کے لیے تیار رہی ہے اور وہ قومی اسمبلی کے ایوان کے ساتھ ساتھ کابینہ کے سامنے بھی متعدد بار اس مؤقف کا اظہار کرچکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میں ایک بار پھر اپوزیشن کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ ہمارے ساتھ بیٹھے، معاملات بات چیت کے ذریعے حل کیے جانے چاہئیں تاکہ پاکستان کی معیشت اور جمہوریت کو مزید مضبوط کیا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب اپوزیشن کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ تعمیری مذاکرات کے لیے کتنی جلد تیار ہوتی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ڈیزل کی قیمت میں 32 روپے فی لٹر کمی کا بھی خیرمقدم کیا اور کہا کہ خلیجی خطے میں جاری مشکل صورتحال اور عالمی سطح پر تیل کی فراہمی میں رکاوٹوں کے تناظر میں یہ کامیابی خاص طور پر اہم ہے۔
انہوں نے ڈیزل کی قیمت میں کمی کے لیے وزارتِ پٹرولیم اور ان کی ٹیم کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان توانائی کا بڑا درآمد کنندہ ملک ہے، اس لیے عالمی سطح پر توانائی کی فراہمی میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں سے اسے خاص طور پر خطرات لاحق ہوتے ہیں۔
خلیج اور آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ تیل کی فراہمی شدید متاثر ہوئی ہے جب کہ مختلف ممالک میں متعدد ریفائنریز اور گیس پلانٹس بند ہوگئے ہیں۔
وزیراعظم نے یاد دلایا کہ تنازع شروع ہونے کے بعد وفاقی حکومت نے تیل کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے 128 ارب روپے کا انتظام کیا تھا، بعد ازاں صوبوں نے بھی عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی کوششوں میں اپنا حصہ ڈالا۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ آنے والے ہفتوں میں خطے کی صورتحال بہتر ہوگی اور کہا کہ پاکستان کشیدگی میں کمی اور استحکام کے قیام کی کوششوں میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔
وزیراعظم نے معیشت میں حالیہ مثبت پیش رفت کو بھی اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی اقدامات کے بتدریج مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں تاہم اقتصادی صورتحال کو معمول پر لانے کے لیے ان اقدامات کا تسلسل برقرار رکھنا ضروری ہے۔
ریٹیلرز کے لیے ایپلی کیشن کے اجرا کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ یہ اقدام تاجر برادری سے مشاورت کے بعد کیا گیا ہے۔ انہوں نے ایف بی آر کو ہدایت کی کہ تاجروں کو بلاوجہ پریشان نہ کیا جائے کیونکہ اس معاملے پر کاروباری برادری میں اتفاق رائے ہوچکا ہے۔
شہباز شریف نے جولائی 2026 میں آئی ٹی برآمدات میں 18 فیصد اضافے پر وزارتِ آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن اور اس کی ٹیم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ اضافہ ملک کی ڈیجیٹل معیشت کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے۔
انہوں نے پاکستان میں گوگل کے دفتر کے قیام کا بھی خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ عالمی ٹیکنالوجی کمپنی کی موجودگی ملک کی ڈیجیٹل تبدیلی میں معاون ثابت ہوگی۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت تمام سرکاری محکموں کو ڈیجیٹلائز کرنے کے لیے کام کر رہی ہے ، انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان میں گوگل کی موجودگی ان کوششوں کو مزید تقویت دے گی۔


Comments