مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کا نیا نقشہ
- مکہ معاہدہ کسی کے خلاف اعلانِ جنگ سے زیادہ اپنے لیے ایک تزویراتی گنجائش کے اعلان کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کی حقیقی اہمیت اس بات میں نہیں کہ یہ کس کی مخالفت کرتا ہے، بلکہ اس میں ہے کہ یہ کس کو بااختیار بناتا ہے۔
حال ہی میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے دفاعی معاہدے نے معلومات سے زیادہ قیاس آرائیوں کو جنم دیا ہے۔ معاہدے کی تفصیلات سامنے نہ آنے کے باعث اسے سنی، اسرائیل مخالف، بھارت مخالف یا ایران مخالف اتحاد قرار دینا آسان ہے۔
تاہم ابھرتی ہوئی جغرافیائی سیاسی حقیقت اس سے کہیں زیادہ اہم منظرنامے کی نشاندہی کرتی ہے: مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کی بنیادی ازسرنو تقسیم کے دوران تین اہم مسلم ممالک اپنے لیے ایک خودمختار تزویراتی دائرہ تشکیل دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
تینوں شراکت دار برابر کی حیثیت رکھتے ہیں اور ہر ملک اپنی اپنی اہمیت اور صلاحیت اس شراکت داری میں شامل کررہا ہے۔ ان کی دفاعی، معاشی اور سیاسی ترجیحات مختلف ہیں اور ہر ایک کو اپنی ترجیحات کے مطابق آزادانہ طور پر آگے بڑھنے کی گنجائش حاصل ہے۔ تاہم مشرقِ وسطیٰ میں اپنے اپنے اثر و رسوخ اور موجودگی کو محفوظ بنانے کے ایک نکاتی ایجنڈے پر تینوں میں اتفاق ہے۔ یہی امر اس اتحاد کو پائیدار اور قابلِ عمل بناتا ہے۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے دفاعی معاہدے، جسے عام طور پر مکہ معاہدہ کہا جارہا ہے، نے غیر معمولی حد تک قیاس آرائیوں کو جنم دیا ہے۔
چنانچہ اس معاہدے کو مختلف حلقوں نے ’’سنی اتحاد‘‘، ’’اسرائیل مخالف انتظام‘‘، ’’بھارت مخالف معاہدہ‘‘، ’’ایران مخالف اتحاد‘‘ اور حتیٰ کہ ’’نئے فوجی بلاک‘‘ کے طور پر بھی پیش کیا ہے۔ تاہم ان میں سے کوئی بھی تعبیر اس معاہدے کی تزویراتی منطق اور اس کے پس منظر کی مکمل وضاحت نہیں کرتی۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس معاہدے کو فرقہ واریت یا کسی مخصوص ملک کے خلاف دشمنی کے محدود تناظر میں نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے جغرافیائی سیاسی، معاشی اور سلامتی سے متعلق مفادات میں اتنا واضح فرق ہے کہ کسی مخصوص دشمن کے خلاف روایتی فوجی اتحاد تشکیل دینا نہ صرف ناقابلِ عمل بلکہ تزویراتی اعتبار سے نقصان دہ بھی ہوگا۔
اس معاہدے کی زیادہ قابلِ قبول وضاحت مشرقِ وسطیٰ میں بدلتے ہوئے طاقت کے توازن میں ملتی ہے۔
کئی دہائیوں سے امریکا خطے میں غالب فوجی، سیاسی اور معاشی موجودگی رکھتا آیا ہے۔ تاہم واشنگٹن ایک عرصے سے اپنے تزویراتی مفادات برقرار رکھتے ہوئے خطے میں براہِ راست فوجی موجودگی کی لاگت کم کرنے کی کوشش کررہا ہے۔
امریکا کی توجہ بتدریج ہند بحرالکاہل خطے اور چین کے ساتھ مسابقت کی جانب منتقل ہوئی ہے۔ چنانچہ مقصد مشرقِ وسطیٰ سے مکمل انخلا نہیں بلکہ کم لاگت پر ایسی شمولیت ہے جس میں علاقائی شراکت دار خطے کی سلامتی کی زیادہ ذمہ داری خود سنبھالیں۔
ابراہیم معاہدے اسی حکمت عملی کی ایک شکل تھے۔ اسرائیل اور بعض منتخب عرب ممالک مل کر ایک نئے علاقائی نظام کے لیے امریکا کی حمایت یافتہ بنیادی ساخت کے طور پر ابھر رہے تھے۔
اس حکمت عملی کی منطق واضح تھی: ایران کو محدود کرنا، اسرائیل کو عرب تزویراتی اور معاشی نظام میں ضم کرنا، توانائی اور تجارتی راستوں کو محفوظ بنانا اور واشنگٹن کو علاقائی سلامتی کا مکمل بوجھ اٹھائے بغیر اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھنے کا موقع دینا۔
لیکن اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ نے اس پورے توازن کو بنیادی طور پر متاثر کردیا ہے۔
چنانچہ آج مشرقِ وسطیٰ محض امریکا اور ایران کے درمیان کشمکش کا میدان نہیں رہا، جس میں اسرائیل واشنگٹن کے اہم ترین علاقائی شراکت دار کا کردار ادا کرتا ہو۔
اب تین بڑے تزویراتی محور ابھرتے دکھائی دے رہے ہیں: ایران کے گرد مرکوز محور، اسرائیل کے گرد مرکوز محور اور وہ محور جو بتدریج مکہ معاہدے کی شکل اختیار کرسکتا ہے، جس میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ شامل ہیں۔
مکہ معاہدے کا محور اس لیے خاص طور پر اہم ہے کہ تینوں ممالک عالمی طاقتوں کے ساتھ اپنے اپنے تعلقات برقرار رکھتے ہیں۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ بدستور مغرب کے معاشی اور سلامتی کے نظام میں مضبوطی سے جڑے ہوئے ہیں، جبکہ ساتھ ہی چین اور کسی حد تک روس کے ساتھ بھی اہم تزویراتی اور معاشی تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
دوسری جانب ایران کے بھی چین اور روس کے ساتھ گہرے تزویراتی تعلقات ہیں اور وہ خطے میں امریکا کی حد سے زیادہ فوجی موجودگی کی مسلسل مخالفت کرتا رہا ہے۔
یہ صورتحال ایک دلچسپ تضاد پیدا کرتی ہے۔ مکہ معاہدہ ضروری نہیں کہ امریکا مخالف انتظام ہو۔ درحقیقت اس کے فریقین کے پاس واشنگٹن کے ساتھ قابلِ عمل تعلقات برقرار رکھنے کی مضبوط وجوہات موجود ہیں۔ اسی طرح یہ لازماً ایران مخالف بھی نہیں۔ ایک مضبوط علاقائی سلامتی کا نظام تصادم کے بجائے مذاکرات اور مؤثر دفاعی ڈھال (ڈیٹرنس) کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ معاہدہ مشرقِ وسطیٰ کو مستقل طور پر دو متحارب دھڑوں میں تقسیم ہونے سے روکنے کی کوشش ہوسکتا ہے۔
معاہدے سے منسوب جملے ’’ایک سب کے لیے اور سب ایک کے لیے‘‘ کو بھی احتیاط سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ بظاہر یہ اجتماعی دفاع کی ضمانت معلوم ہوتا ہے، لیکن عملی طور پر اس کا اطلاق خودکار طور پر ہونا بعید ہے۔ تینوں ممالک کے خطرات کے بارے میں تصورات اور معاشی و جغرافیائی سیاسی ترجیحات مختلف ہیں۔
سعودی عرب کی اولین ترجیحات میں علاقائی استحکام، ویژن 2030 کے تحت جاری معاشی تبدیلی کے تحفظ، توانائی کا تحفظ اور خلیج کی سلامتی شامل ہیں۔ ترکیہ کے تزویراتی مفادات مشرقِ وسطیٰ، قفقاز، بحیرۂ روم اور بحیرۂ اسود تک پھیلے ہوئے ہیں، جبکہ انقرہ کے روس، نیٹو اور عرب دنیا کے ساتھ اپنے آزادانہ تعلقات بھی ہیں۔ پاکستان کے بنیادی سلامتی کے خدشات اس کی مشرقی اور مغربی سرحدوں، معاشی استحکام اور چین کے ساتھ تزویراتی تعلقات سے جڑے ہیں۔
اس لیے یہ فرض کرنا غیرحقیقی ہوگا کہ تینوں میں سے کسی ایک کو علاقائی تنازع کا سامنا ہونے پر باقی دونوں ممالک بھی لازماً جنگ میں کود پڑیں گے۔
اجتماعی دفاع اس وقت کہیں زیادہ قابلِ اعتبار ہوجاتا ہے جب کسی رکن کو وجودی خطرہ لاحق ہو، خصوصاً ایسی کوشش کی صورت میں جس کا مقصد کسی رکن کی خودمختاری کو عملاً ختم یا تباہ کرنا ہو۔ اس کے علاوہ ہر ملک کو کسی مخصوص تنازع میں اپنی شمولیت کی حد طے کرنے کی خاصی آزادی حاصل رہنے کا امکان ہے۔
یہ کوئی کمزوری نہیں۔ ممکن ہے یہی معاہدے کی سب سے بڑی طاقت ہو۔
ابھرتے ہوئے علاقائی نظام کا تعین صرف سخت اور جامد اتحادوں سے نہیں ہوگا۔ اس کی نمایاں خصوصیت تزویراتی خودمختاری، باہم جڑی شراکت داریوں اور لچک دار اتحادوں کا بڑھتا ہوا رجحان ہوگا۔ ممالک ایک معاملے پر واشنگٹن، دوسرے پر بیجنگ، تیسرے پر ماسکو اور کسی اور معاملے پر علاقائی طاقتوں کے ساتھ تعاون کرسکتے ہیں۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو مکہ معاہدہ کسی کے خلاف اعلانِ جنگ سے زیادہ اپنے لیے ایک تزویراتی گنجائش کے اعلان کی حیثیت رکھتا ہے۔
تاہم اس کی حتمی کامیابی کا انحصار اجتماعی دفاع کے نعروں پر نہیں بلکہ اس بات پر ہوگا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ اپنی سیاسی مفاہمت کو عملی تعاون میں کس حد تک تبدیل کرسکتے ہیں۔ اس میں انٹیلی جنس کا تبادلہ، دفاعی پیداوار، انسدادِ دہشت گردی، بحری سلامتی، ٹیکنالوجی، معاشی انضمام اور مربوط سفارت کاری شامل ہیں۔
اگر تینوں ممالک اس میں کامیاب ہوگئے تو مکہ معاہدہ ایران کے ساتھ جنگ کے بعد کے مشرقِ وسطیٰ میں ہونے والی اہم ترین پیش رفتوں میں سے ایک بن سکتا ہے۔
خطہ ایسے دور میں داخل ہورہا ہے جہاں کوئی ایک بیرونی طاقت غیر معینہ مدت تک اس کے سلامتی کے نظام کو اپنی مرضی کے مطابق چلانے کی پوزیشن میں نہیں رہے گی۔ امریکا کی براہِ راست شمولیت میں بتدریج کمی سے پیدا ہونے والا خلا پہلے ہی علاقائی اور خطے سے باہر کی طاقتوں کے درمیان مسابقت کو جنم دے رہا ہے۔
چنانچہ مکہ معاہدے کی حقیقی اہمیت شاید اس بات میں نہیں کہ وہ کس کی مخالفت کرتا ہے، بلکہ اس بات میں ہے کہ وہ کس کو بااختیار بناتا ہے۔
اور بالآخر یہی پہلو اسے مشرقِ وسطیٰ میں ابھرنے والے تین تزویراتی محوروں میں سب سے زیادہ اہم بنا سکتا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments