طلب میں کمی کے خدشات، خام تیل کی قیمتیں گرگئیں
- برینٹ خام تیل کے سودے 1.29 ڈالر یا 1.5 فیصد کمی کے بعد 87.69 ڈالر فی بیرل پر ہوئے
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں جمعرات کو ایک ڈالر سے زائد گر گئیں، کیونکہ عالمی اداروں نے امریکا اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ کے باعث 2026 کے لیے تیل کی طلب کے تخمینے کم کر دیے۔ تاہم مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور سپلائی کے خدشات نے قیمتوں کو مکمل طور پر گرنے سے روک رکھا ہے۔
برینٹ خام تیل کے سودے 1.29 ڈالر یا 1.5 فیصد کمی کے بعد 87.69 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 1.30 ڈالر یا 1.6 فیصد گر کر 81.97 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔
اوپیک نے اپنی ماہانہ آئل مارکیٹ رپورٹ میں 2026 کے لیے عالمی تیل کی طلب میں اضافے کا تخمینہ کم کرکے 5 لاکھ 80 ہزار بیرل یومیہ کر دیا۔ دوسری جانب انٹرنیشنل انرجی ایجنسی (آئی ای اے) نے کہا ہے کہ اسے رواں سال عالمی تیل کی کھپت میں 16 لاکھ بیرل یومیہ کمی کی توقع ہے، جبکہ گزشتہ ماہ یہ تخمینہ 10 لاکھ بیرل یومیہ تھا۔ ادارے کے مطابق جنگ کے باعث ایندھن کی محدود فراہمی اور بلند قیمتوں نے طلب کو متاثر کیا ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن (ای آئی اے) کے مطابق 7 اگست کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران امریکا کے تجارتی خام تیل کے ذخائر میں 1 کروڑ 74 لاکھ بیرل کا غیرمتوقع اضافہ ہوا، جو جنوری 2023 کے بعد سب سے بڑا ہفتہ وار اضافہ ہے۔ مجموعی ذخائر بڑھ کر 42 کروڑ 44 لاکھ بیرل تک پہنچ گئے، جبکہ ماہرین نے 14 لاکھ بیرل کمی کی توقع ظاہر کی تھی۔
ادھر ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے سے بھی منڈی میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ ایک سینئر ایرانی ذریعے نے بتایا کہ جون میں طے پانے والے عبوری معاہدے پر عمل درآمد کے لیے مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔
دریں اثنا آبنائے ہرمز اور باب المندب میں بحری جہازوں پر حملوں نے مشرق وسطیٰ سے تیل اور گیس کی ترسیل کے حوالے سے خدشات مزید بڑھا دیے ہیں۔ ہیٹونگ فیوچرز کے تجزیہ کاروں کے مطابق بحری راستوں کی سیکیورٹی مزید خراب ہونے سے کئی جہاز اپنے سگنل بند کرنے پر مجبور ہیں، جس سے سپلائی کی نگرانی اور حقیقی صورتحال کا اندازہ لگانا مزید مشکل ہو گیا ہے۔


Comments