وزارتِ تجارت نے ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی صنعت سمیت دیگر برآمدی شعبوں کے لیے ڈیوٹی ڈرا بیک اور ٹیکنالوجی اپ گریڈیشن اسکیموں کے تحت 10 ارب روپے کی منظوری دی ہے جس کا مقصد صنعتی شعبے میں نقدی کی دستیابی بہتر بنانا اور برآمدات کے فروغ میں معاونت فراہم کرنا ہے۔
وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے ہفتے کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ کے ذریعے اس پیش رفت کا اعلان کیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ بتاتے ہوئے خوشی ہورہی ہے کہ وزارتِ تجارت نے ٹیکسٹائل و ملبوسات اور دیگر برآمدی شعبوں کیلئے ڈیوٹی ڈرا بیک اور ٹیکنالوجی اپ گریڈیشن اسکیموں کے تحت 10 ارب روپے کی منظوری دے دی ہے۔
جام کمال نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ اس اقدام سے صنعتوں میں نقدی کی دستیابی بہتر ہوگی اور انہیں برآمدات بڑھانے کے قابل بنایا جاسکے گا۔
وزیر تجارت نے کہا کہ منظور شدہ فنڈز سے برآمدی صنعتوں کو درکار مالی وسائل کی فراہمی میں مدد ملے گی اور ٹیکنالوجی کو اپ گریڈ کرنے میں سہولت ہوگی جس کے نتیجے میں برآمد کنندگان اپنی مسابقتی صلاحیت بہتر بنانے اور عالمی منڈیوں میں اپنی موجودگی وسعت دینے کے قابل ہوں گے۔
اس اقدام سے برآمدی شعبوں کو مضبوط بنانے، صنعتوں کو سہولت فراہم کرنے اور پائیدار برآمدی نمو کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے پر حکومت کی مسلسل توجہ ظاہر ہوتی ہے۔
ڈیوٹی ڈرا بیک اسکیمیں جن میں ڈیوٹی اینڈ ٹیکس ریمیشن فار ایکسپورٹ اسکیم اور ڈیوٹی ڈرا بیک آف لوکل ٹیکسز اینڈ لیویز اسکیم شامل ہیں، حکومت نے برآمد کنندگان کو برآمدی مال پر ادا کیے گئے مقامی ٹیکسوں کی واپسی کے لیے متعارف کرائی تھیں۔
ان اسکیموں کو ترغیبات نہیں سمجھا جاتا بلکہ پہلے سے ادا کردہ ڈیوٹیز اور ٹیکسز کی جائز واپسی تصور کیا جاتا ہے۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) مختلف برآمدی سہولت اسکیموں کے تحت فعال مینوفیکچررز کی فہرست مرتب کرتا ہے جن میں ڈیوٹی اینڈ ٹیکس ریمیشن فار ایکسپورٹ ، ایکسپورٹ فسیلیٹیشن اسکیم، مینوفیکچرنگ بانڈز اسکیم اور ایکسپورٹ اورینٹڈ یونٹ اسکیم شامل ہیں۔


Comments