امریکا نے دوبارہ حملہ کیا تو خطے میں اہم تنصیبات نشانے پر ہوں گی، ایران
- ٹرمپ کی دھمکی کے بعد تہران نے اعلیٰ سطحی سفارتی رابطے شروع کیے
ایران نے خلیجی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے اس کی سرزمین پر دوبارہ حملہ کیا تو تہران خطے کی اہم توانائی تنصیبات کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ پانچ ذرائع کے مطابق ایران نے یہ پیغام امریکا کے قریبی اتحادی خلیجی ممالک کو پہنچایا ہے تاکہ واشنگٹن کے لیے فوجی کارروائی کی قیمت بڑھائی جا سکے۔
ذرائع کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 28 جولائی کو ایران کے توانائی نیٹ ورک اور انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی دھمکی کے بعد تہران نے اعلیٰ سطحی سفارتی رابطے شروع کیے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سعودی عرب، ترکی، قطر کے وزرائے خارجہ اور پاکستان کے آرمی چیف سے بھی رابطے کیے۔
ایک علاقائی سفارت کار کے مطابق عباس عراقچی نے امریکا کے خلیجی اتحادیوں پر زور دیا کہ وہ ٹرمپ پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے انہیں ایران کے خلاف نئے حملوں سے روکیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایران پر کسی بھی حملے کا جواب خلیج میں امریکی تنصیبات اور توانائی کے مراکز کو نشانہ بنا کر دیا جا سکتا ہے۔
ایرانی پیغام کے حوالے سے سفارت کار نے کہا کہ تہران جنگ میں توسیع نہیں چاہتا اور سفارتی حل کو ترجیح دیتا ہے۔ تاہم ایران کسی بھی حملے کی صورت میں جواب دینے کے لیے تیار ہے۔
ذرائع کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے بعد ازاں صدر ٹرمپ سے رابطہ کیا اور انہیں فوجی کارروائی مؤخر کرنے، مذاکرات بحال کرنے، جنگ بندی اور سفارتی حل کی کوشش کرنے پر زور دیا۔
ایران نے واضح کیا ہے کہ امریکی حملے کی صورت میں تیل کے کنوؤں، ریفائنریوں، بجلی کے نظام، پانی کے منصوبوں، ٹرانسپورٹ نیٹ ورک اور دیگر اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
تہران نے 2019 میں سعودی عرب کی آرامکو تنصیبات پر ہونے والے ڈرون اور میزائل حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خلیجی توانائی انفرااسٹرکچر پہلے بھی خطرات کا سامنا کر چکا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایران کی حکمت عملی کا مقصد امریکا اور عرب اتحادیوں کو یہ باور کرانا ہے کہ کسی بھی نئی فوجی کارروائی کے نتیجے میں پورے خطے میں اقتصادی اور اسٹرٹیجک نقصانات بڑھ سکتے ہیں۔


Comments