ایران کے ساتھ آبنائے ہرمز کے معاہدے کا بدھ تک امکان ہے، امریکی وزیر خزانہ
- معاہدے سے توانائی کی قیمتیں مستحکم ہوں گی، اسکاٹ بیسنٹ کی پیشگوئی
امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ امریکہ بدھ تک آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایران کے ساتھ معاہدے پر پہنچ سکتا ہے، جس سے توانائی کی قیمتوں کو مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔
اسکاٹ بیسنٹ نے سی این بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ہم ایرانیوں کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں اور مجھے لگتا ہے کہ اس بات کا امکان ہے کہ آج یا کل تک آبنائے کو کھولنے اور اس تنازع میں صورتحال کو معمول پر لانے کے لیے ہمارا کوئی معاہدہ ہو جائے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اس معاہدے کے تحت ایران کو آبنائے سے گزرنے والے بحری جہازوں سے ٹول (ٹیکس) وصول کرنے کی اجازت ہوگی تو بیسنٹ نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ یہ آمد و رفت کی مکمل آزادی ہوگی۔
اسکاٹ بیسنٹ کے یہ بیانات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیر کو دیے گئے بیانات کی عکاسی کرتے ہیں، جنہوں نے ایران پر بڑے پیمانے پر فوجی حملے کی دھمکیوں سے پیچھے ہٹنے کے بعد اس بات پر زور دیا تھا کہ یہ آبی گزرگاہ چند گھنٹوں میں دوبارہ کھل سکتی ہے۔دوسری جانب ایران کی وزارتِ خارجہ نے واشنگٹن کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کی تردید کی ہے، جبکہ منگل کو ایک نامعلوم میزائل/پروجیکٹائل آبنائے ہرمز میں ایک مال بردار جہاز سے ٹکرا گیا، جو امریکہ ایران تنازع میں کشیدگی کا ایک اہم نقطہ بنا ہوا ہے۔بیسنٹ نے آبنائے کے حوالے سے ایران کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے توانائی کی قیمتوں پر مثبت اثرات کی امید ظاہر کی، جہاں ان کے بقول سینکڑوں بحری جہاز نکلنے کا انتظار کر رہے ہیں۔بیسنٹ نے کہا کہ اگرچہ گزشتہ چند دنوں میں وہاں صورتحال اب بھی کچھ غیر یقینی (پریشان کن) رہی ہے، لیکن ہم نے دیکھا ہے کہ اس وقت بھی کافی بحری جہاز باہر آ رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس لیے مجھے توقع ہے کہ توانائی کی قیمتیں واپس نیچے آ کر مستحکم ہو جائیں گی ۔


Comments