پاکستان نے غزہ امن منصوبے میں پیش رفت کا خیرمقدم، حماس کے غیر مسلح ہونے کے عمل کی حمایت کر دی
- وزیراعظم نے امریکا، مصر، قطر اور ترکیہ کی ثالثی کوششوں کو بھی سراہا
وزیراعظم شہباز شریف نے جمعہ کو غزہ امن منصوبے کے تحت بورڈ آف پیس کی جانب سے غیر مسلح کرنے کے عمل پر ہونے والی حالیہ پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس سے منصوبے کے تحت کیے گئے تمام وعدوں پر عمل درآمد کی راہ ہموار ہوگی۔
وزیراعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں امریکا، مصر، قطر اور ترکیہ کی ثالثی کوششوں کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ اس اہم پیش رفت میں کردار ادا کرنے پر یہ ممالک ”خصوصی خراجِ تحسین“ کے مستحق ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں حاصل ہونے والی یہ پیش رفت ”بورڈ آف پیس کے لیے ایک اہم کامیابی“ ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے امید ظاہر کی کہ حالیہ پیش رفت کے بعد غزہ امن منصوبے کے تحت کیے گئے تمام وعدوں پر عمل درآمد کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے۔
وزیراعظم نے فلسطینی عوام کے حق میں پاکستان کی دیرینہ حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں امید ہے یہ کوششیں بالآخر بین الاقوامی قانونی اصولوں اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق ایک قابلِ اعتماد اور مقررہ مدت پر مبنی سیاسی عمل کے ذریعے فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کی تکمیل کا باعث بنیں گی۔
انہوں نے 1967 سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد، خودمختار اور جغرافیائی طور پر متصل فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔
یہ بیان ان اطلاعات کے بعد سامنے آیا جن میں کہا گیا تھا کہ حماس نے امریکا کی حمایت سے تیار کیے گئے غزہ امن منصوبے کے فریم ورک کے تحت اصولی طور پر غیر مسلح ہونے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ اس پیش رفت میں امریکا، مصر، قطر اور ترکیہ نے ثالثی کا کردار ادا کیا۔
اس منصوبے کے تحت سلامتی اور سیاسی امور سے متعلق وعدوں پر مرحلہ وار عمل درآمد کی تجویز دی گئی ہے، جس کا مقصد تنازع کے جامع اور دیرپا حل کی جانب پیش رفت کو ممکن بنانا ہے۔


Comments