اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ، 100 انڈیکس 500 پوائنٹس گرگیا
- بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 175,547.98 پوائنٹس پر بند
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں جمعرات کو اتار چڑھاؤ سے بھرپور کاروباری سیشن دیکھنے میں آیا جہاں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس تقریباً 500 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ بند ہوا۔
تفصیلات کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز مثبت زون میں ہوا، ابتدائی ٹریڈنگ کے دوران بھرپور خریداری سے انڈیکس دن کی بلند ترین سطح 176,234.28 پوائنٹس پر جاپہنچا۔تاہم یہ تیزی زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی اور فروخت کا دباؤ غالب آگیا جس سے انڈیکس بتدریج نیچے کی جانب گامزن رہا۔
دوپہر کے قریب 100 انڈیکس گر کر دن کی کم ترین سطح 174,612.14 پوائنٹس تک آگیا۔
کاروباری سیشن کے دوسرے نصف میں خریداری کا رجحان دوبارہ ابھرا جس سے انڈیکس اپنی بڑی حد تک ہونے والی کمی کا ازالہ کرنے میں کامیاب رہا، تاہم اختتامی کاروبار کے دوران نئی فروخت شروع ہونے سے مارکیٹ ایک بار پھر اپنی رفتار برقرار نہ رکھ سکی۔
کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 495 پوائنٹس یا 0.28 فیصد اضافے سے 175,547.98 پوائنٹس پر بند ہوا۔
بروکیج ہاؤس ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے اپنی پوسٹ مارکیٹ رپورٹ میں بتایا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان نئے حملوں کے بعد سرمایہ کاروں کا جذبہ کمزور ہونے سے جغرافیائی سیاسی کشیدگی دوبارہ بڑھ گئی اور بین الاقوامی خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا، جس کی وجہ سے مقامی اسٹاک ایکسچینج پورے کاروباری سیشن میں دباؤ کا شکار رہی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافے نے مہنگائی کے دباؤ اور وسیع تر معیشت پر اس کے ممکنہ اثرات کے بارے میں خدشات کو بڑھا دیا، جس سے سرمایہ کاروں کو محتاط رویہ اپنانے پر مجبور ہونا پڑا۔ اگرچہ مارکیٹ نے اپنے دن بھر کے خسارے کا ایک بڑا حصہ پورا کر لیا لیکن جغرافیائی سیاسی صورتحال کے ارد گرد مسلسل غیر یقینی صورتحال نے خریداری کے رجحان کو دبا کر رکھا۔
ٹاپ لائن نے بتایا کہ انڈیکس میں حصہ ڈالنے کے لحاظ سے اینگرو کارپوریشن ، لکی سیمنٹ، سسٹمز لمیٹڈ، حب پاور کمپنی اور پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ بڑے خسارے والے حصص ثابت ہوئے جنہوں نے مجموعی طور پر بینچ مارک انڈیکس سے تقریباً 547 پوائنٹس کم کیے۔
یاد رہے کہ بدھ کو اسٹاک ایکسچینج مسلسل دوسرے روز بھی دباؤ کا شکار رہی کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تیز اضافے نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا جس کے نتیجے میں اہم شعبوں میں وسیع پیمانے پر فروخت کا رجحان دیکھنے میں آیا۔
گزشتہ روز بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 1,580.90 پوائنٹس یا 0.89 فیصد کی کمی سے 176,042.99 پوائنٹس پر بند ہوا۔
عالمی سطح پر جمعرات کو ایشیائی اسٹاک مارکیٹیں واضح سمت اختیار نہ کرسکیں اور اے آئی سے متعلق سرمایہ کاری پر بڑھتی ہوئی سرمایہ کار بے چینی کے باعث ہفتے بھر کی بھاری گراوٹ کے دباؤ میں رہیں۔ دوسری جانب امریکی فیڈرل ریزرو نے اندرونی اختلافِ رائے کے باوجود شرحِ سود برقرار رکھی جس کے بعد بانڈ مارکیٹوں میں آئندہ شرحِ سود کی سمت کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار رہی۔
برینٹ خام تیل کے فیوچرز 90 ڈالر فی بیرل سے نیچے آگئے حالانکہ ایک روز قبل مشرقِ وسطیٰ میں لڑائی شدت اختیار کرنے کے باعث ان میں 7 فیصد سے زائد اضافہ ہوا تھا۔ تاہم اعدادوشمار سے ظاہر ہوا کہ مسلسل میزائل اور ڈرون حملوں کے باوجود آئل ٹینکر بدستور خطے سے روانہ ہورہے ہیں۔
امریکی مرکزی بینک کی جانب سے شرحِ سود برقرار رکھنے کے فیصلے کے بعد امریکی ڈالر دباؤ کا شکار رہا تاہم پالیسی سازوں کی منقسم رائے نے سرمایہ کاروں کو اس بارے میں غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا کہ آیا فیڈ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے مستقبل میں شرحِ سود میں مزید اضافہ کرے گا یا نہیں۔ دوسری جانب طویل مدت کے امریکی ٹریژری بانڈز ییلڈ بڑھ کر گزشتہ 19 برس کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔
ایشیائی چِپ ساز کمپنیاں رواں ہفتے سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکزرہیں کیونکہ جنوبی کوریا کی اسٹاک مارکیٹ میں شدید فروخت کے باعث ملکی ایکویٹی مارکیٹ کی مالیت میں 2 کھرب ڈالر سے زائد کی کمی واقع ہوئی جس نے عالمی مالیاتی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس کے ساتھ ہی سرمایہ کار اے آئی پر ہونے والے بھاری اخراجات سے حاصل ہونے والے ممکنہ منافع کے بارے میں بھی تشویش کا شکار رہے۔
جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس جمعرات کو غیر یقینی کاروبار کے دوران 4 فیصد بڑھ گیا تاہم ہفتہ وار بنیاد پر اس میں تقریباً 12 فیصد کمی کا خدشہ برقرار ہے۔ اس صورتحال پر وزیرِ خزانہ کو یون چیول نے سنگل اسٹاک لیوریجڈ ای ٹی ایف متعارف کرانے پر معذرت بھی کی۔
ادھر جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک خطے کے حصص پر مشتمل ایم ایس سی آئی کا وسیع ترین انڈیکس ابتدائی کاروبار میں 1 فیصد سے زائد بڑھ گیا جبکہ جاپان کا نکی انڈیکس 2 فیصد اضافے کے ساتھ ٹریڈ کرتا رہا تاہم ہفتہ وار بنیاد پر اس میں تقریباً 3 فیصد کمی کا امکان ہے۔
دریں اثنا جمعرات کو پاکستانی روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں معمولی بہتری برقرار رکھنے میں کامیاب رہا۔ کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی ایک پیسے کی بہتری کے ساتھ 277.81 روپے فی ڈالر پر بند ہوئی۔آل شیئر انڈیکس میں کاروباری حجم بڑھ کر 711.20 ملین شیئرز تک پہنچ گیا، جو گزشتہ سیشن میں 574.07 ملین شیئرز تھا۔اسی طرح حصص کی مالیت معمولی اضافے کے ساتھ 25.40 ارب روپے رہی، جبکہ گزشتہ سیشن میں یہ 25.37 ارب روپے ریکارڈ کی گئی تھی۔سب سے زیادہ کاروبار ٹرسٹ بروکریج کے حصص میں ہوا، جن کے 176.88 ملین شیئرز کا لین دین ہوا۔ اس کے بعد ورلڈ کال ٹیلی کام کے 32.31 ملین اور پاک انٹرنیشنل بلک کے 32.12 ملین شیئرز کا کاروبار ریکارڈ کیا گیا۔
جمعرات کو مجموعی طور پر 495 کمپنیوں کے حصص کا لین دین ہوا، جن میں سے 175 کمپنیوں کے حصص کی قیمت میں اضافہ، 279 کمپنیوں کے حصص میں کمی، جبکہ 41 کمپنیوں کے حصص کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔



Comments