ایس ایم ایز کو سب سے زیادہ قرض دینے والے بینکوں کو سالانہ ایوارڈز دیے جائیں گے،وزیراعظم
- شہباز شریف نے کاروباری افراد کیلئے قرضوں کی دستیابی تیز کرنے اور مالی سہولیات تک رسائی بہتر بنانے کے لیے ایک جامع فریم ورک کی منظوری دیدی
وزیراعظم شہباز شریف کو منگل کے روز بتایا گیا کہ بینکوں کی کارکردگی کو جانچنے، قرضہ فراہمی کے اہداف پر پیش رفت کا جائزہ لینے اور کاروباری شعبے کو زیادہ قرض فراہم کرنے کی ترغیب دینے کے لیے ایک نیا اسکورنگ نظام متعارف کرایا جائے گا۔
یہ تجویز وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والے ایک اعلیٰ سطح جائزہ اجلاس میں پیش کی گئی، جس میں کاروباری شعبے، خصوصاً چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کے لیے مالی سہولیات تک رسائی بہتر بنانے پر غور کیا گیا۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ مجوزہ بینک اسکورنگ سسٹم کے ذریعے مالیاتی اداروں کی جانب سے ایس ایم ایز اور دیگر ترجیحی شعبوں کو قرض فراہم کرنے میں کردار کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے گا، تاکہ کاروباری سرگرمیوں کے فروغ میں ان کی کارکردگی کو مؤثر انداز میں جانچا جا سکے۔
وزیراعظم نے کاروباری افراد کے لیے قرضوں کی دستیابی تیز کرنے اور مالی سہولیات تک رسائی بہتر بنانے کے لیے ایک جامع فریم ورک کی منظوری دے دی۔
بریفنگ کے مطابق جون 2026 میں بینکوں کی جانب سے ایس ایم ای فنانسنگ کا حجم 1.15 کھرب روپے تھا، جسے جون 2028 تک بڑھا کر 2 کھرب روپے کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
اسی طرح ایس ایم ای قرض لینے والوں کی تعداد موجودہ 3 لاکھ 24 ہزار سے بڑھا کر جون 2028 تک 7 لاکھ 75 ہزار کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے، جبکہ بینکوں کے مجموعی قرضوں میں ایس ایم ای فنانسنگ کا حصہ 9.9 فیصد سے بڑھا کر 13 فیصد کرنے کا بھی منصوبہ ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پائیدار معاشی ترقی کے لیے سستے اور آسان قرضوں کی فراہمی ناگزیر ہے۔ بہتر مالی سہولیات سرمایہ کاری، پیداواری صلاحیت میں اضافے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور برآمدات بڑھانے میں مددگار ثابت ہوں گی۔
انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ کاروباری اداروں، خصوصاً ایس ایم ایز، کو قرضوں کی فراہمی کا عمل مزید تیز کیا جائے کیونکہ یہ قومی معیشت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور انہیں مضبوط مالی معاونت کی ضرورت ہے۔
وزیراعظم نے اعلان کیا کہ کاروباری شعبے، خاص طور پر ایس ایم ایز، کو سب سے زیادہ قرض فراہم کرنے والے بینکوں کو ہر سال اعزازات دیے جائیں گے تاکہ نجی شعبے کی معاونت میں مالیاتی اداروں کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔
اجلاس میں ایکسس ٹو فنانس پروگرام کے لیے تین سطحی گورننس ڈھانچے کی بھی منظوری دی گئی۔
اس فریم ورک کے تحت مالی سہولیات تک رسائی سے متعلق اعلیٰ سطحی کمیٹی کی سربراہی وزیراعظم کریں گے، جبکہ اسٹیئرنگ کمیٹی برائے ایکسس ٹو فنانس کی سربراہی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کریں گے اور اسٹیٹ بینک کے گورنر جمیل احمد اس کے شریک چیئرمین ہوں گے۔
مزید برآں، ایس ایم ایز، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، قابلِ تجدید توانائی اور ہاؤسنگ فنانس کے لیے الگ الگ ذیلی کمیٹیاں قائم کی جائیں گی تاکہ ہر شعبے کی مالی ضروریات کو مؤثر انداز میں پورا کیا جا سکے۔
حکومت کے مطابق ان اقدامات کا مقصد نجی شعبے کی ترقی، معاشی سرگرمیوں میں تیزی اور بہتر مالی سہولیات کے ذریعے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔
اجلاس میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ، وزیر مملکت بلال کیانی، وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر، اسٹیٹ بینک کے گورنر جمیل احمد، پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے چیئرمین ظفر مسعود اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments