مشرقِ وسطیٰ میں فضائی حملوں میں شدت، تیل کی قیمتیں تقریباً 7 فیصد بڑھ گئیں
- برینٹ خام تیل کے فیوچرز میں 6.8 فیصد، یعنی 5.70 ڈالر فی بیرل اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد قیمت 89.79 ڈالر فی بیرل ہوگئی
مشرقِ وسطیٰ میں بڑے پیمانے پر فضائی حملوں کے دوبارہ شروع ہونے اور ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ کے جلد خاتمے کی امیدیں معدوم ہونے کے بعد بدھ کو خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 7 فیصد اضافہ ہوگیا، جبکہ صنعتی اعداد و شمار کے مطابق امریکا میں خام تیل کے ذخائر بھی کم ہوئے ہیں۔
برینٹ خام تیل کے فیوچرز 5.70 ڈالر، یعنی 6.8 فیصد اضافے کے بعد 89.79 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 4.94 ڈالر، یا 6.2 فیصد اضافے کے ساتھ 84.20 ڈالر فی بیرل پر جا پہنچا۔
یو بی ایس کے تجزیہ کار جیوانی اسٹاؤنووو نے کہا کہ ”مشرقِ وسطیٰ میں دوبارہ فوجی حملوں اور ایرانی حکام کی جانب سے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی پر کنٹرول برقرار رکھنے کے عزم، جبکہ اس اہم گزرگاہ سے تیل کی ترسیل پہلے ہی متاثر ہے، نے تیل کی قیمتوں کو ایک بار پھر اوپر دھکیل دیا ہے۔“
امریکا اور سعودی عرب نے بدھ کو عراق میں ایران نواز گروہوں پر حملے کیے اور انہیں سعودی تیل تنصیبات پر ڈرون حملوں کا ذمہ دار قرار دیا۔
یہ حملے اس اعلان کے چند گھنٹے بعد کیے گئے جب امریکی فوج نے کہا تھا کہ اس نے خطے میں تعینات امریکی فوجیوں پر ایران کے ایک اچانک حملے کو ناکام بنا دیا ہے۔ ایران نے دعویٰ کیا کہ اس نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں اور اردن میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
اس کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے ایران کے خلاف جوابی حملوں کا وعدہ کیا، جس کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں مزید تیزی آگئی۔
دوسری جانب ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ تہران نے آبنائے ہرمز کے مشترکہ علاقائی انتظام سے متعلق عمان کی تجویز مسترد کردی ہے، جس سے کئی ماہ سے خلیجی تجارت کو متاثر کرنے والے تعطل کے خاتمے کی امیدوں کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔
رواں ہفتے اب تک صرف چند تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے گزر سکے ہیں، جبکہ بدھ کو پانچ اور منگل کو 39 جہاز باب المندب کی آبنائے سے گزرے، جو سعودی تیل کو ایشیا منتقل کرنے کا متبادل راستہ ہے۔ یہ تعداد 19 جولائی کے بعد سب سے زیادہ تھی، جب یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا تھا۔
ذرائع کے مطابق یمن کے حوثی گروہ جنوبی بحیرۂ احمر سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر فیس عائد کرنے پر بھی غور کر رہے ہیں، جبکہ چھ ذرائع نے بتایا کہ چین نے اپنے آئل ٹینکروں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنانے کے لیے حوثیوں سے براہِ راست مذاکرات کیے ہیں۔
ڈی بی ایس بینک کے سربراہ برائے توانائی تحقیق، سوورو سرکار نے کہا کہ ”ہمارا خیال ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے اتار چڑھاؤ کے باعث قلیل مدت میں برینٹ خام تیل کی قیمتیں 80 سے 100 ڈالر فی بیرل کے درمیان شدید اتار چڑھاؤ کا شکار رہیں گی۔“
ان کے مطابق صورتحال اس وقت مزید سنگین ہوگئی جب ہفتے کے آغاز میں صدر ٹرمپ نے سفارت کاری کی طرف واپسی کا عندیہ دیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ”رک رک کر ہونے والے مذاکرات کے باعث آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی مکمل طور پر ختم ہونے کا امکان نہیں، اور اگر کشیدگی میں کمی بھی آتی ہے تو خام تیل کی قیمتوں کی کم از کم سطح تقریباً 80 ڈالر فی بیرل رہ سکتی ہے۔“
دریں اثنا، امریکن پیٹرولیم انسٹیٹیوٹ کے اعداد و شمار کے مطابق 24 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران امریکا میں خام تیل کے ذخائر تقریباً 33 لاکھ بیرل کم ہوئے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کی جانب سے سرکاری ذخائر کے اعداد و شمار بدھ کو بعد میں جاری کیے جائیں گے۔
ادھر ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ اوپیک پلس رضاکارانہ پیداوار میں کٹوتیوں کے بعد طے شدہ اضافی پیداوار کی بحالی مکمل ہونے پر اکتوبر سے آئندہ تین ماہ کے لیے تیل کی پیداوار میں مزید اضافے کا عمل روکنے کا امکان رکھتا ہے، جس سے قیمتوں کو مزید سہارا مل سکتا ہے۔


Comments