بھارت میں "کاکروچ مظاہرین " کی گرفتاریوں پر شدید احتجاج، رہائی کا مطالبہ
- ملک گیر احتجاج کے دوران حراست میں لیے گئے تمام افراد کو فوری رہا کیا جائے، کاکروچ جنتا پارٹی
بھارت میں طلبہ کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ تحریک، جس کے شدید مظاہروں نے ملک کے وزیرِ تعلیم کو مستعفی ہونے پر مجبور کر دیا، نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ملک گیر احتجاج کے دوران حراست میں لیے گئے تمام مظاہرین کو فوری رہا کیا جائے۔
امتحانی پیپر لیک اور دیگر بے ضابطگیوں کے خلاف مظاہرے منظم کرنے والی آن لائن تنظیم کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کا کہنا ہے کہ انہیں بالخصوص ریاست آسام، مغربی بنگال اور بہار سے طلبہ کی گرفتاریوں کی اطلاعات ملی ہیں۔تنظیم نے اپنے بیان میں کہا کہ حراست میں لیے گئے افراد کو رہا نہ کرنا یا ان کے خلاف درج مجرمانہ مقدمات واپس نہ لینا عوامی اعتماد کو توڑنے کے مترادف ہوگا جبکہ یہ دھمکی بھی دی گئی کہ مطالبہ پورا نہ ہونے کی صورت میں وہ آئندہ کا سخت لائحہ عمل اختیار کریں گے۔یہ بیان تعلیمی نظام اور مقابلے کے امتحانات میں مسلسل نا کامیوں کے بعد وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے دو دن بعد سامنے آیا ہے، جس نے بھارتی نوجوانوں کے غصے کو مزید ہوا دی تھی۔ سی جے پی نے حکومت پر عہد شکنی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ حکام نے پہلے یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ مظاہرین کے خلاف کوئی تادیبی یا انتقامی کارروائی نہیں کی جائے گی۔
مئی میں 30 سالہ پبلک ریلیشنز گریجویٹ ابھجیت دیپکے کی جانب سے شروع کی جانے والی اس تحریک نے سوشل میڈیا پر لاکھوں پیروکار حاصل کرلیے ہیں۔ گزشتہ ہفتے نئی دہلی اور دیگر شہروں میں دسیوں ہزار طلبہ نے سڑکوں پر نکل کر وزیرِ تعلیم کے استعفے اور امتحانی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کیا تھا۔نئی دہلی کے جنتر منتر سے پارلیمنٹ کی طرف مارچ کی کوشش کے دوران 20 جولائی کو یہ مظاہرے پرتشدد رخ اختیار کرگئے تھے، جہاں پولیس نے آنسو گیس کے شیل داغے اور لاٹھی چارج کیا، جس کے بعد جھڑپیں اور گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہوا۔
پیر کو یہ معاملہ بھارتی پارلیمنٹ میں بھی گونجتا رہا، جہاں اپوزیشن ارکان نے گزشتہ ہفتے کے کریک ڈاؤن پر حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے شور شرابہ کیا۔ اس ہنگامے کے باوجود حکومت نے امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے لیے سخت سزاؤں کا نیا مسودہ قانون ایوانِ زیریں (لوک سبھا) میں پیش کر دیا ہے۔


Comments