BR100 Decreased By (-0.07%)
BR30 Decreased By (-0.14%)
KSE100 No Change (0%)
KSE30 No Change (0%)
BAFL 55.50 Decreased By ▼ -0.70 (-1.25%)
BIPL 26.90 Increased By ▲ 0.13 (0.49%)
BOP 32.64 Decreased By ▼ -0.34 (-1.03%)
CNERGY 10.29 Increased By ▲ 0.19 (1.88%)
DFML 17.81 Increased By ▲ 0.09 (0.51%)
DGKC 195.18 Decreased By ▼ -1.49 (-0.76%)
FABL 98.68 Decreased By ▼ -0.30 (-0.3%)
FCCL 51.74 Increased By ▲ 0.49 (0.96%)
FFL 16.49 Increased By ▲ 0.31 (1.92%)
GGL 25.06 Increased By ▲ 0.07 (0.28%)
HBL 292.00 Decreased By ▼ -3.49 (-1.18%)
HUBC 213.97 Decreased By ▼ -0.21 (-0.1%)
HUMNL 10.45 Increased By ▲ 0.09 (0.87%)
KEL 7.14 Increased By ▲ 0.08 (1.13%)
LOTCHEM 26.81 Decreased By ▼ -2.31 (-7.93%)
MLCF 88.17 Decreased By ▼ -0.65 (-0.73%)
OGDC 310.38 Decreased By ▼ -1.57 (-0.5%)
PAEL 40.85 Decreased By ▼ -0.14 (-0.34%)
PIBTL 15.85 Decreased By ▼ -0.11 (-0.69%)
PIOC 283.69 Increased By ▲ 0.85 (0.3%)
PPL 211.10 Decreased By ▼ -1.56 (-0.73%)
PRL 53.14 Increased By ▲ 0.60 (1.14%)
SNGP 98.25 Decreased By ▼ -1.11 (-1.12%)
SSGC 24.85 Decreased By ▼ -0.25 (-1%)
TELE 8.29 Decreased By ▼ -0.03 (-0.36%)
TPLP 12.97 Decreased By ▼ -0.25 (-1.89%)
TRG 58.97 Increased By ▲ 2.08 (3.66%)
UNITY 9.88 Decreased By ▼ -0.06 (-0.6%)
WTL 1.23 Increased By ▲ 0.01 (0.82%)
کاروبار اور معیشت

یوفون ٹیلی نار انضمام، مجوزہ ری برانڈنگ پر نیا تنازع کھڑا ہوگیا

  • حکومت نے نئی کمپنی کو "e&" کے نام سے ری برانڈ کرنے کے مجوزہ منصوبے پر عارضی طور پر روک لگا دی ہے
شائع اپ ڈیٹ

حکومت نے یوفون اور ٹیلی نار پاکستان کے انضمام کے بعد نئی کمپنی کو ”e&“ کے نام سے ری برانڈ کرنے کے مجوزہ منصوبے پر عارضی طور پر روک لگا دی ہے۔ ذرائع کے مطابق کمپنی کی شناخت سے لفظ پاکستان ہٹانے اور اس فیصلے کی قانونی حیثیت پر سنگین سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ اس معاملے نے سرکاری ملکیتی اداروں (ایس او ایز) کے بورڈز میں حکومت کے نامزد ڈائریکٹرز کی جوابدہی پر بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ذرائع کے مطابق ان میں سے بعض ڈائریکٹرز کو ہر بورڈ اجلاس کے عوض 5,000 امریکی ڈالر تک معاوضہ دیا جاتا ہے۔

تنازع اس وقت سامنے آیا جب یوفون کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے یوفون اور ٹیلی نار کے انضمام کے بعد قائم ہونے والی کمپنی کے لیے ”e&“ برانڈ نام کی منظوری دی۔ بورڈ میں حکومت کے نامزد اراکین بھی شامل ہیں، جن میں مسلم لیگ (ن) کی ایک سینیٹر اور دو وفاقی سیکریٹریز شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق اس سے قبل پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) کے بورڈ نے یہی تجویز مؤخر کر دی تھی، تاہم یوفون بورڈ کی منظوری کے بعد حکومت کی اعلیٰ سطح پر تشویش پیدا ہوئی اور فوری مداخلت کی گئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت اب ری برانڈنگ کا عمل روکنے اور معاملہ وزارت قانون کو بھجوانے پر غور کر رہی ہے تاکہ یہ رائے لی جا سکے کہ آیا یوفون کا بورڈ انضمام سے قبل تمام قانونی، ریگولیٹری اور کارپوریٹ تقاضے مکمل ہوئے بغیر نئی کمپنی کی کارپوریٹ شناخت کی منظوری دینے کا اختیار رکھتا ہے یا نہیں۔

حتمی قانونی رائے آنے تک ”e&“ برانڈ کے اجراء کا فیصلہ مؤخر رہنے کا امکان ہے، جس کے باعث ری برانڈنگ کا عمل عملاً معطل ہو سکتا ہے۔

ادھر اس معاملے نے سرکاری کمپنیوں میں کارپوریٹ گورننس کے معیار پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ قومی اہمیت کے حامل اداروں کے بورڈ اراکین، خصوصاً سرکاری نمائندوں، کو ایسے فیصلے کرتے وقت قانون، کارپوریٹ گورننس اور قومی مفاد کو اولین ترجیح دینی چاہیے۔

دریں اثنا، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے 16 جون 2026 کو برانڈ نام کی منظوری دیتے ہوئے ہدایت کی تھی کہ کمپنی انضمام کے قانونی مراحل مکمل ہونے اور برانڈ کے تجارتی آغاز سے قبل اتھارٹی کو باضابطہ طور پر آگاہ کرے۔ بعد ازاں 2 جولائی کے خط میں بھی پی ٹی اے نے یہی ہدایت دہرائی کہ انضمام قانون کے مطابق مؤثر ہونے کے بعد ہی برانڈ کے تجارتی استعمال یا تشہیری مہم کا آغاز کیا جائے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

Comments

200 حروف