کینوا کی پی آئی اے کی ری برانڈنگ کیلئے ملک گیر ڈیزائن مقابلے کی تجویز
- کینوا اس مقابلے کے لیے بڑی انعامی رقم فراہم کرنے کے لیے بھی تیار ہے، احمد اقبال
کینوا (Canva) نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کی نئی ملکیت کے تحت اس کی برانڈ کی شناخت ازسرِنو تشکیل دینے کے لیے ملک گیر ڈیزائن مقابلہ منعقد کرنے اور اس کی مالی معاونت کی پیشکش کی ہے، جس کے ذریعے پاکستانیوں کو قومی ایئرلائن کی نئی شناخت تخلیق کرنے کا موقع دیا جائے گا۔
پیر کے روز لنکڈ اِن پر ایک پوسٹ میں کینوا کے مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان کے جنرل منیجر احمد اقبال نے کہا کہ کمپنی اس تجویز پر بات چیت کے لیے پی آئی اے کی قیادت سے رابطہ قائم کرنا چاہتی ہے۔
احمد اقبال کے مطابق اس منصوبے میں پی آئی اے کا لوگو، برانڈ گائیڈ لائنز، طیاروں کی بیرونی پینٹنگ (لِوری) اور دوبارہ لانچ کی مارکیٹنگ مہم کی ازسرِنو تشکیل شامل ہوگی۔ ان کے بقول یہ اقدام قومی ایئرلائن پر عوام کے اعتماد کی بحالی کا ایک بہترین موقع ثابت ہو سکتا ہے۔

انہوں نے لکھا کہ پاکستانیوں کی جانب سے، پاکستان کے لیے ڈیزائن۔ ان کا کہنا تھا کہ کینوا اس مقابلے کے لیے بڑی انعامی رقم فراہم کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔
کینوا ایک مفت ویب پر مبنی ڈیزائن پلیٹ فارم ہے، جس کی مدد سے صارفین بغیر کسی پیشہ ورانہ مہارت کے سوشل میڈیا گرافکس، پریزنٹیشنز، پوسٹرز اور دیگر معیاری بصری ڈیزائن آسانی سے تیار کر سکتے ہیں۔
احمد اقبال نے پی آئی اے کے ماضی کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایئرلائن کبھی خطے میں ہوا بازی کی صفِ اول کی کمپنی تھی، جبکہ 2026 میں وہ ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق اگر اس تبدیلی کے عمل میں عوام کو شریک کیا جائے تو اس سے پاکستان کے ڈیزائن ورثے اور قومی فخر کو بھی نئی زندگی مل سکتی ہے۔
انہوں نے اجرک کے خوبصورت رنگوں سے مزین پی آئی اے کے دو تصوراتی طیاروں کی تصاویر بھی شیئر کیں، جن کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک غیر پیشہ ور ڈیزائنر نے کینوا اور ایفینٹی سافٹ ویئر کی مدد سے تیار کی ہیں۔ انہوں نے لکھا، ذرا تصور کریں کہ اگر پورا ملک اس میں حصہ لے تو کیا کچھ ممکن ہو سکتا ہے۔ ایفینٹی کینوا کی ذیلی کمپنی اور ایک پیشہ ورانہ تخلیقی سافٹ ویئر ہے۔
اس تجویز پر لنکڈ اِن صارفین کے درمیان دلچسپ بحث چھڑ گئی۔ بعض صارفین نے طیاروں پر انتہائی رنگین ڈیزائن کو عملی اعتبار سے غیر موزوں قرار دیا۔
ایک صارف کا کہنا تھا کہ زیادہ پینٹ سے طیارے کا وزن اور آپریٹنگ اخراجات بڑھ سکتے ہیں، جبکہ دیگر نے نشاندہی کی کہ گہرے رنگ زیادہ حرارت جذب کرتے ہیں، جس سے طیارے کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے اضافی توانائی درکار ہوگی۔
دوسری جانب متعدد صارفین نے اس خیال کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس سے پاکستان میں ثقافتی احیا کو فروغ ملے گا اور نوجوان ڈیزائنرز کو مقامی فن اور ثقافتی ورثے کو عالمی سطح پر پیش کرنے کا موقع ملے گا۔
کچھ صارفین نے یہ بھی یاد دلایا کہ دنیا بھر میں زیادہ تر طیارے سفید رنگ میں اس لیے رنگے جاتے ہیں کیونکہ یہ دیکھ بھال، ٹھنڈک اور مجموعی آپریٹنگ لاگت کے لحاظ سے زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے۔ ان کے مطابق کسی بھی نئے ڈیزائن میں خوبصورتی اور عملی افادیت کے درمیان توازن برقرار رکھنا ضروری ہوگا۔


Comments