آبنائے ہرمز میں کشیدگی، پاکستان کا قطر سے مزید ایل این جی درآمد کرنیکا منصوبہ
- حکومت جولائی میں ڈلیوری کے لیے اسپاٹ مارکیٹ سے کم از کم ایک ایل این جی کارگو اور اگست کے لیے چھ کارگوز خریدنے کی حکمت عملی کو حتمی شکل دے رہی ہے، رپورٹ
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تنازع کے باعث آبنائے ہرمز کے راستے توانائی کی ترسیل مسلسل متاثر ہورہی ہے جس کے پیشِ نظر پاکستان اپنے اہم سپلائر قطر سے ایل این جی کی درآمدات میں اضافہ کرنے کا منصوبہ بنارہا ہے۔
بلومبرگ نے معاملے سے واقف افراد کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ حکومت جولائی میں ڈلیوری کے لیے اسپاٹ مارکیٹ سے کم از کم ایک ایل این جی کارگو اور اگست کے لیے چھ کارگوز خریدنے کی حکمت عملی کو حتمی شکل دے رہی ہے۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی جب ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے، دونوں جانب سے خلیج میں حملوں میں تیزی آئی ہے جس سے آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل محدود ہو گئی ہے۔ تہران نے حوثیوں سے کہا ہے کہ وہ بحیرہ احمر کے برآمدی راستے کو بند کرنے کے لیے تیار رہیں۔
اے کے ڈی سیکیورٹیز کے ریسرچ ڈائریکٹر اویس اشرف نے بلوم برگ کو بتایا کہ اس دوران پاکستان میں بڑھتے درجہ حرارت نے بجلی کی مانگ میں اضافہ کردیا ہے جبکہ گرڈ میں سولر پاور کی فراہمی میں کمی آئی ہے جس کی وجہ سے حکومت ایل این جی سے بجلی پیدا کرنے پر انحصار بڑھانے پر مجبور ہوگئی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے مزید ایل این جی حاصل کرنے کی کوشش اس بات کی نشاندہی کرسکتی ہے کہ اسلام آباد کو خدشہ ہے کہ یہ تنازع طویل عرصے تک جاری رہے گا۔
پاکستان گزشتہ چند سالوں سے عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور سپلائی میں تعطل کے باعث ایل این جی کارگوز حاصل کرنے میں مشکلات کا شکار رہا اور امریکہ ایران تنازع کے دوران ان چیلنجز میں مزید شدت آ گئی ہے۔
جولائی 2026 کے اوائل تک پاکستان نے آبنائے ہرمز میں دوبارہ شروع ہونے والی کشیدگی کے باعث قطر سے ہونے والی سپلائی میں تعطل کو پورا کرنے کے لیے، ٹوٹل انرجیز ایس ای سے 17.37 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کی قیمت پر 10-11 جولائی کی ڈیلیوری کے لیے ایک ایل این جی کارگو خریدا جو دو ہفتوں میں اس کی دوسری اسپاٹ خریداری تھی۔ اس کے بعد پاکستان ایل این جی لمیٹڈ نے قطر سے ایک کارگو کی منسوخی کے بعد 15-16 جولائی کی ڈلیوری کے لیے ایک ہنگامی ایل این جی کارگو کا ٹینڈر جاری کیا۔


Comments