بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے مالی سال 2026-27 کے دوران پاکستان کی معیشت کی شرح نمو 3.5 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی ہے جبکہ حکومت نے 4 فیصد شرح نمو کا ہدف مقرر کر رکھا ہے، تاہم یہ پیش گوئی صرف معمول کے مطابق نصف فیصد اختلاف تک محدود نہیں رہ سکتی بلکہ امکان ہے کہ یہ کہیں زیادہ اہم اور دور رس انداز میں غلط ثابت ہو۔
ممکن ہے کہ آئی ایم ایف ایک جانب پاکستان کی معاشی نمو کی رفتار کا کم اندازہ لگا رہا ہو تو دوسری جانب وہ اس مضبوط معاشی نمو کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بیرونی شعبے پر دباؤ کو بھی کم تر سمجھ رہا ہو۔
آئی ایم ایف کی یہ پیش گوئی اس مفروضے پر مبنی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے بعد اشیائے ضروریہ کی بلند قیمتیں، مالی حالات میں سختی اور بیرونی طلب میں کمی پاکستان کی اندرونی معاشی سرگرمیوں کو سست کر دے گی۔ فنڈ کی اسٹاف رپورٹ کے مطابق اس تنازع کے باعث مالی سال 2026-27 میں پاکستان کی معاشی شرح نمو میں 0.6 فیصد پوائنٹس کی کمی آئے گی جس کے نتیجے میں پروگرام کے تحت پہلے متوقع 4.1 فیصد شرح نمو کم ہو کر 3.5 فیصد رہ جائے گی۔ اگرچہ یہ اندازہ اپنے اندر منطقی مطابقت رکھتا ہے تاہم ممکن ہے کہ یہ پاکستان کے اندرونی معاشی چکر کی سمت کو درست طور پر نہ سمجھ رہا ہو۔
دستیاب شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیرونی جھٹکا آنے سے پہلے ہی پاکستان کی معیشت میں نمو کی رفتار مضبوطی سے قائم ہوچکی تھی۔ ادارہ شماریات کے تخمینوں کے مطابق مالی سال 2025-26 کی پہلی سہ ماہی میں جی ڈی پی کی شرح نمو 3.92 فیصد، دوسری سہ ماہی میں 4.05 فیصد اور تیسری سہ ماہی میں 3.99 فیصد رہی، اسی تناظر میں حکومت کا پورے مالی سال کے لیے 3.7 فیصد شرح نمو کا عبوری تخمینہ ابتدائی نو ماہ کے دوران ریکارڈ ہونے والی رفتار سے کم ہے، اس لیے اس میں نظرثانی کا امکان برقرار ہے۔ حالیہ برسوں میں قومی آمدنی کے اعداد و شمار میں کی جانے والی نظرثانی عموماً اوپر کی جانب ہی کی گئی ہے۔
اسٹیٹ بینک کا اپنا ابتدائی جائزہ بھی اسی سمت اشارہ کرتا تھا۔ فروری میں جاری مانیٹری پالیسی رپورٹ میں مالی سال 2025-26 کیلئے معاشی شرح نمو کا تخمینہ بڑھا کر 3.75 سے 4.75 فیصد کر دیا گیا تھا جب کہ مالی سال 2026-27 میں اس سے بھی زیادہ نمو کی توقع ظاہر کی گئی تھی، اگرچہ بعد ازاں خطے میں پیدا ہونے والی کشیدگی کے بعد اسٹیٹ بینک نے مالی سال 2025-26 کی شرح نمو کے تخمینے کو اس حد کے نچلے حصے کی طرف منتقل کردیا، تاہم اس کا بنیادی تجزیہ یہی رہا کہ صنعتی سرگرمی، تعمیراتی شعبے، نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی اور مجموعی طلب میں مضبوط رفتار برقرار ہے۔
پیداواری اعدادوشمار میں کسی نمایاں گراوٹ کے آثار نہیں ملتے۔ مالی سال 2025-26 کے جولائی تا اپریل ایل ایس ایم میں 6.44 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جب کہ صرف اپریل کی پیداوار بھی گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 6.06 فیصد زیادہ رہی۔ نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی بھی ورکنگ کیپٹل، فکسڈ سرمایہ کاری اور صارفین کی مالی معاونت سمیت مختلف شعبوں میں مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق مالی سال 2025-26 کی پہلی ششماہی کے دوران نجی کاروباری اداروں کو فراہم کیے گئے قرضوں میں 862 ارب روپے کا اضافہ ہوا جو گزشتہ پانچ برسوں کی اوسط سے نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ بعد ازاں جون میں جاری مانیٹری پالیسی بیان میں اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی کی شرح نمو تقریباً 13 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔
یہی وہ علامات ہیں جو کسی معیشت کے ترقی کے نئے مرحلے میں داخل ہونے کی نشاندہی کرتی ہیں، اس دوران صنعتی پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے، ذخائر اور ورکنگ کیپٹل کی ضرورت بڑھتی ہے، صارفین کو قرضوں کی فراہمی بحال ہوتی ہے، تعمیراتی سرگرمیاں تیز ہوتی ہیں اور خدمات کا شعبہ بھی اشیاء پیدا کرنے والے شعبوں کے ساتھ ترقی کی راہ پر گامزن ہو جاتا ہے۔ جون 2024 سے اب تک 1,150 بیسس پوائنٹس کی مجموعی مانیٹری نرمی (شرح سود میں کمی) کے اثرات بھی اب تک قرضوں کی فراہمی اور سرمایہ کاری کے فیصلوں پر مرتب ہو رہے ہیں۔ مانیٹری پالیسی کے اثرات ظاہر ہونے میں وقت لگتا ہے، اس لیے صرف اس وجہ سے کہ کسی بیرونی ادارے نے اپنی پیش گوئی تبدیل کر دی ہو، معاشی سرگرمیاں اچانک اپنی رفتار نہیں کھو دیتیں۔
مہنگائی ممکن ہے اس معاشی چکر کو فوری ختم کرنے کے بجائے مزید تقویت دے۔ جون میں ہیڈ لائن انفلیشن کی شرح 11.1 فیصد رہی جبکہ ہول سیل پرائس انڈیکس گزشتہ سال کے مقابلے میں 10.7 فیصد زیادہ رہا۔ دوسری جانب پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر ہونے کی وجہ سے ایکس پوسٹ حقیقی پالیسی ریٹ تقریباً صفر کے قریب آ گیا ہے۔ اسی طرح کور انفلیشن بھی بدستور بلند سطح پر برقرار ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مالی حالات اتنے سخت نہیں جتنے بظاہر پالیسی شرح سود سے محسوس ہوتے ہیں، خاص طور پر ان کاروبار کے لیے جن کی فروخت، انونٹری کی مالیت اور ورکنگ کیپٹل کی ضروریات بڑھ رہی ہیں۔
یہ صورتحال اس امکان کو تقویت دیتی ہے کہ مالی سال 2026-27 میں پاکستان کی معاشی شرح نمو آئی ایم ایف کے 3.5 فیصد تخمینے اور حکومت کے 4 فیصد ہدف، دونوں سے زیادہ رہ سکتی ہے۔ اگر بعد میں مالی سال 2025-26 کی شرح نمو پر نظرثانی کرتے ہوئے اسے 4 فیصد سے اوپر کر دیا جاتا ہے تو صنعتی پیداوار، نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی اور خدمات کے شعبے کی مضبوط کارکردگی کے باعث مالی سال 2026-27 میں شرح نمو 4.5 فیصد سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔ عام حالات میں ایسے نتائج کا خیرمقدم کیا جاتا لیکن پاکستان کی موجودہ معاشی صورتحال میں اسے ایک ابتدائی انتباہ کے طور پر بھی دیکھنا چاہیے۔
بیرونی شعبے کے اعدادوشمار بھی اب اس عدم توازن کی نشاندہی کرنے لگے ہیں جو بظاہر اطمینان بخش منظرنامے کے پیچھے موجود ہے۔ مالی سال 2025-26 کے جولائی تا مئی پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس صرف 255 ملین ڈالر رہا جو ایک سال قبل اسی عرصے میں 1.6 ارب ڈالر تھا۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اشیا اور خدمات کا مجموعی خسارہ 27 ارب ڈالر سے بڑھ کر 32.2 ارب ڈالر ہو گیا جبکہ صرف تجارتی خسارہ تقریباً 6 ارب ڈالر بڑھ کر 24.4 ارب ڈالر سے 30.2 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ اس عرصے میں ترسیلاتِ زر میں نمایاں اضافے نے جو جولائی تا مئی 38.1 ارب ڈالر اور پورے مالی سال 2025-26 میں 41.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، تجارتی کھاتے میں پیدا ہونے والی اس بگاڑ کی بڑی حد تک پردہ پوشی کردی۔
درآمدات کی ساخت بھی اہم اشارے فراہم کرتی ہے۔ گاڑیاں، لوہا و اسٹیل، مشینری اور دیگر درمیانی صنعتی خام مال نان آئل امپورٹ گروتھ میں اضافے کی بڑی وجوہات رہے ہیں۔ یہی وہ شعبے ہیں جن کی درآمدات اس وقت تیزی سے بڑھتی ہیں جب ملکی پیداوار، تعمیراتی سرگرمیاں اور صارفین کی طلب بحال ہونا شروع ہوتی ہے۔ اب اس بڑھتی طلب کے ساتھ عالمی سطح پر توانائی اور دیگر اشیائے ضروریہ کی بلند قیمتیں بھی شامل ہورہی ہیں۔ اس کے نتیجے میں ملکی بیرونی شعبے میں بیک وقت دوہرا دباؤ درپیش ہے، ایک طرف درآمدات کے حجم میں اضافہ اور دوسری جانب ان درآمدات کی قیمتوں میں ممکنہ اضافہ۔
شرح مبادلہ میں بھی تاحال کسی نمایاں ایڈجسٹمنٹ کے آثار نظر نہیں آرہے۔ مئی میں روپیہ اوسطاً 278.84 روپے فی ڈالر پر رہا جبکہ جولائی میں بھی یہ تقریباً 278 روپے فی ڈالر کے قریب برقرار رہا حالانکہ مہنگائی دوبارہ دو ہندسوں میں داخل ہو چکی ہے اور تجارتی خسارہ بھی بڑھ رہا ہے۔ دوسری جانب ریئر جون 2025 میں 98.03 سے بڑھ کر مئی 2026 میں 106.15 ہو گئی۔ اسٹیٹ بینک بجا طور پر خبردار کرتا ہے کہ ریئر کا 100 سے اوپر ہونا ازخود اس کی ”اوور ویلیوایشن“ (حد سے زیادہ قدر) کو ثابت نہیں کرتا، تاہم اس کی سمت، مقامی مہنگائی اور تقریباً ساکت نامینل ایکسچینج ریٹ کے ساتھ مل کر یہ ظاہر کرتی ہے کہ کرنسی حقیقی معنوں میں اس وقت مضبوط ہو رہی ہے جب بیرونی دباؤ دوبارہ بڑھ رہا ہے۔
یہ وہ مرحلہ ہے جہاں پاکستان ماضی میں بارہا شرح مبادلہ کے استحکام کو معاشی استحکام سمجھنے کی غلطی کرتا رہا ہے۔ مالی سال 2007-08، 2018 اور 2022 سے پہلے پیش آنے والے معاشی بحرانوں کی تفصیلات اگرچہ مختلف تھیں، لیکن ان کا مجموعی سلسلہ حیران کن حد تک ایک جیسا تھا۔ معاشی نمو اور قرضوں کی فراہمی میں تیزی آئی، درآمدات برآمدات کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے بڑھیں، عالمی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے سے درآمدی بل مزید بڑھ گیا جبکہ روپے کی قدر کو بروقت ایڈجسٹ ہونے سے روک دیا گیا۔ اس کے بعد زرمبادلہ کے ذخائر کو بظاہر استحکام برقرار رکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا، یہاں تک کہ بیرونی مالیاتی خسارہ اس حد تک بڑھ گیا کہ اسے مزید چھپانا ممکن نہ رہا۔ نتیجتاً بعد میں ہونے والی ایڈجسٹمنٹ کہیں زیادہ شدید، مہنگائی میں اضافے کا باعث اور معیشت کے لیے زیادہ نقصان دہ ثابت ہوئی جبکہ اگر بروقت اقدامات کیے جاتے تو اس کے اثرات نسبتاً کم ہوسکتے تھے۔
پاکستان نے مالی سال 27ء کا آغاز گزشتہ بحرانوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط ذخائر کے ساتھ کیا ہے۔ جولائی 2026 کے اوائل میں اسٹیٹ بینک کے پاس زرِ مبادلہ کے ذخائر تقریباً 18.5 ارب ڈالر تھے۔ یہ ذخائر عارضی اتار چڑھاؤ کے خلاف ایک قیمتی تحفظ فراہم کرتے ہیں لیکن یہ ذخائر معاشی ایڈجسٹمنٹ کا متبادل نہیں بلکہ ایک عارضی ڈھال ہیں۔ ایک بڑا بفر (ذخائر) بعض اوقات پالیسی سازوں میں سہل پسندی کو جنم دیتا ہے کیونکہ اس سے ابھرتے ہوئے عدم توازن کو کئی مہینوں تک فنانس (تلافی) کرنے کی گنجائش مل جاتی ہے۔ تاہم جب درآمدی ادائیگیاں، بیرونی قرضوں کی واپسی اور نجی شعبے کی مانگ بیک وقت ذخائر کو کم کرنا شروع کردیتی ہیں تو معاشی اعتماد حیران کن حد تک تیزی سے گر سکتا ہے۔
اگر ملکی طلب میں تیزی، اجناس کی بلند قیمتیں، تقریباً غیر جانبدار (نیوٹرل) حقیقی پالیسی ریٹ اور سخت (جامد) نامینل ایکسچینج ریٹ کا موجودہ امتزاج برقرار رہتا ہے تو بیرونی دباؤ مارچ اور ستمبر 2027 کے درمیان کافی زیادہ نمایاں ہونے کا امکان ہے۔ یہ ناگزیر بحران کی پیش گوئی نہیں ہے بلکہ یہ وہ عرصہ ہے جس میں مالی سال 27ء کے دوران کریڈٹ میں نمو، درآمدات اور حقیقی شرحِ مبادلہ میں اضافے کے مجموعی اثرات کا مقابلہ دستیاب زرِ مبادلہ ذخائر اور فنانسنگ بفرز (سہارے) سے ہونے کا امکان ہے۔
لہٰذا اس صورتحال کا تقاضا ایک احتیاطی حکمتِ عملی ہے۔ زرِ مبادلہ کی شرح میں لچک کو اس قدر گنجائش دینی چاہیے کہ وہ ذخائر میں کمی کے مستقل ہونے سے پہلے ہی بیرونی دباؤ کو جذب کرسکے۔ مانیٹری پالیسی کو افراطِ زر کے بدلتے رجحانات کے ساتھ ہم آہنگ رہتے ہوئے ایک مناسب حد تک مثبت حقیقی شرحِ سود برقرار رکھنی چاہیے جبکہ مالیاتی پالیسی کو اکاؤنٹنگ کی ایڈجسٹمنٹس یا اخراجات کو مؤخر کیے بغیر وعدہ کردہ پرائمری سرپلس فراہم کرنا ہوگا۔ نجی شعبے کے لیے قرضوں کی نمو، اشیائے صرف کی درآمدات اور ماہانہ تجارتی خسارے کو بیرونی دباؤ کے پیشگی اشاروں کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، نہ کہ اس ثبوت کے طور پر کہ معاشی بحالی کو بلا تردد اپنے حال پر چھوڑا جا سکتا ہے۔
پاکستان کے لیے فوری پالیسی خطرہ اب شاید یہ نہیں کہ شرحِ نمو 3.5 فیصد سے کم رہے۔ بلکہ اصل خطرہ یہ ہے کہ نمو 4.5 فیصد سے تجاوز کر جائے اور یہ اضافہ انہی کھپت ، کریڈٹ اور درآمدی راستوں سے ہو جو ماضی میں بار بار ادائیگیوں کے توازن کے بحران پیدا کرچکے ہیں۔ شرحِ نمو کا بلند تر ہدف آئی ایم ایف کی پیش گوئی کو ضرورت سے زیادہ مایوس کن تو دکھا دے گا لیکن پاکستان کو اس پیش گوئی سے کہیں زیادہ خطرناک پوزیشن میں چھوڑ دے گا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026


Comments