BR100 Increased By (1.66%)
BR30 Increased By (1.7%)
KSE100 Increased By (1.09%)
KSE30 Increased By (1.13%)
BAFL 57.54 Increased By ▲ 0.51 (0.89%)
BIPL 27.00 Increased By ▲ 0.19 (0.71%)
BOP 33.85 Increased By ▲ 0.13 (0.39%)
CNERGY 9.48 Decreased By ▼ -0.09 (-0.94%)
DFML 18.40 Increased By ▲ 0.07 (0.38%)
DGKC 207.75 Increased By ▲ 0.95 (0.46%)
FABL 99.27 Increased By ▲ 0.30 (0.3%)
FCCL 52.03 Increased By ▲ 0.15 (0.29%)
FFL 16.70 Increased By ▲ 0.01 (0.06%)
GGL 23.40 Decreased By ▼ -0.08 (-0.34%)
HBL 305.25 Increased By ▲ 1.93 (0.64%)
HUBC 218.50 Increased By ▲ 0.98 (0.45%)
HUMNL 10.97 Increased By ▲ 0.12 (1.11%)
KEL 7.43 No Change ▼ 0.00 (0%)
LOTCHEM 30.74 Increased By ▲ 0.16 (0.52%)
MLCF 96.15 Increased By ▲ 0.48 (0.5%)
OGDC 322.11 Increased By ▲ 1.12 (0.35%)
PAEL 41.80 Increased By ▲ 0.42 (1.01%)
PIBTL 16.85 Increased By ▲ 0.08 (0.48%)
PIOC 270.00 Increased By ▲ 7.15 (2.72%)
PPL 224.75 Increased By ▲ 0.55 (0.25%)
PRL 41.18 Decreased By ▼ -0.22 (-0.53%)
SNGP 104.00 Decreased By ▼ -0.13 (-0.12%)
SSGC 28.55 Increased By ▲ 0.14 (0.49%)
TELE 8.65 Decreased By ▼ -0.04 (-0.46%)
TPLP 12.49 Increased By ▲ 0.36 (2.97%)
TRG 57.75 Increased By ▲ 0.12 (0.21%)
UNITY 9.85 Increased By ▲ 0.14 (1.44%)
WTL 1.26 Increased By ▲ 0.02 (1.61%)
مارکٹس

ایران پر امریکی حملوں کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ

  • برینٹ خام تیل کے سودے 33 سینٹ یا 0.4 فیصد اضافے کے ساتھ 85.28 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے
شائع اپ ڈیٹ

امریکا کی جانب سے ایران کی فوجی تنصیبات پر نئے حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھ گئی، جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں جمعرات کو مسلسل چوتھے روز بھی بڑھ گئیں۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان دوبارہ بھرپور جنگ چھڑنے کی صورت میں آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے۔

برینٹ خام تیل کے سودے 33 سینٹ یا 0.4 فیصد اضافے کے ساتھ 85.28 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 42 سینٹ یا 0.5 فیصد اضافے کے بعد 80.02 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں عالمی معیار بدھ کو بھی تقریباً 0.3 فیصد بڑھے تھے اور ایک ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب برقرار ہیں۔

امریکا نے بدھ کو ایران کی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرنے کے بعد ایرانی ساحلی دفاعی نظام اور میزائل تنصیبات کو نشانہ بنایا، جبکہ ایران نے خبردار کیا ہے کہ وہ خطے سے توانائی کی مزید برآمدات روک سکتا ہے۔ تہران نے موجودہ صورتحال کو امریکا کے خلاف بقا کی جنگ قرار دیا ہے۔

نسان سیکیورٹیز انویسٹمنٹ کے چیف اسٹریٹجسٹ ہیرویوکی کیکوکاوا کے مطابق مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے خریداری کے رجحان کو تقویت دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ پڑوسی ممالک ثالثی کی کوششیں کر رہے ہیں اور عمومی رائے یہ ہے کہ مکمل جنگ کا امکان کم ہے، تاہم صورتحال بگڑنے کی صورت میں ڈبلیو ٹی آئی خام تیل کی قیمت 85 سے 87 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اپنے حوثی اتحادیوں کے ذریعے بحیرہ احمر کے اہم باب المندب راستے کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے، جس سے عالمی توانائی کی سپلائی مزید خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

ادھر سرمایہ کاری بینک گولڈمین سیکس نے پیش گوئی کی ہے کہ اگر خلیجی ممالک سے تیل کی برآمدات کی بحالی مزید تاخیر کا شکار رہی تو سال کی آخری سہ ماہی میں برینٹ خام تیل کی قیمت 110 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر سکتی ہے، تاہم کشیدگی کم ہونے اور پیداوار میں تیزی سے بحالی کی صورت میں سال کے اختتام تک قیمتیں 60 ڈالر کی سطح تک واپس آ سکتی ہیں۔

Comments

200 حروف