وزیراعظم کی بینکوں کو ایس ایم ایز کیلئے قرضوں میں نمایاں اضافے کی ہدایت
- معیشت کو برآمدات پر مبنی ماڈل میں تبدیل کرنے کی رفتار بڑھانے کے لیے سستی اور قابلِ رسائی مالی سہولتوں کی دستیابی ناگزیر ہے ، شہباز شریف
وزیراعظم شہباز شریف نے پائیدار معاشی ترقی کے لیے مختلف شعبوں کو آسان شرائط پر مالی سہولیات کی فراہمی کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ بینک ترجیحی شعبوں بالخصوص ایس ایم ای سیکٹر کے لیے قرضوں کی فراہمی میں نمایاں اضافہ کریں۔ حکومت برآمدات بڑھانے، روزگار پیدا کرنے اور پائیدار معاشی ترقی کے حصول کے لیے مالی وسائل تک رسائی کو وسیع کرنے کی کوششیں تیز کررہی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ایکسیس ٹو فائنانس کے فروغ کے حوالے سے اعلیٰ سطح اجلاس منعقد ہوا۔ اس موقع پر وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ملکی معیشت کو مضبوط بنانے اور اسے برآمدات پر مبنی ماڈل میں تبدیل کرنے کی رفتار بڑھانے کے لیے سستی اور قابلِ رسائی مالی سہولتوں کی دستیابی ناگزیر ہے۔
اجلاس میں وزیراعظم کو ایکسیس ٹو فائنانس پلان پر بریفنگ دی گئی اور معاشی استحکام سے پائیدار معاشی ترقی کے سفر کو تیز کرنے کے لیے ایکسیس ٹو فائنانس پلان کی ترجیحات اور اہداف پر روشنی ڈالی گئی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ بنیادی ترجیحات میں مالی سہولیات کی فراہمی کو وسعت دینا اور اسے قومی سطح پر مرکزی دھارے کا حصہ بنانا شامل ہے۔
بریفنگ کے مطابق ایس ایم ایز زراعت، برآمدات، قابل تجدید توانائی، ہائوسنگ اور آئی ٹی شعبوں کے لیے آسان قرضوں اور کریڈٹ تک رسائی بڑھانا پلان کا مرکزی نکتہ ہے، برآمدات میں اضافہ، پائیدار معاشی ترقی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا پلان کا بنیادی مقصد ہے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ اس منصوبہ پر عملدرآمد کرتے ہوئے وزارت خزانہ، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، صوبائی حکومتوں اور متعلقہ اداروں پر مشتمل پورے نظام پر مبنی طریقہ کار اختیار کیا جائے گا۔
بریفنگ کے مطابق نئے گورننس اسٹرکچر کے تحت اگلے 2 سال کے لیے مختلف شعبوں میں مالی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے پرعزم اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔
وزیراعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی پائیدار معاشی ترقی کے لیے مختلف شعبوں کو آسان شرائط پر مالی سہولیات کی فراہمی ناگزیر ہے، ایس ایم ای سیکٹر ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔
انہوں نے ہدایت کی کہ بینک ترجیحی شعبوں بالخصوص ایس ایم ای سیکٹر کے لیے قرضوں کی فراہمی میں نمایاں اضافہ کریں۔
وزیراعظم نے کہا کہ آسان شرائط پر مالی سہولیات کی دستیابی سے برآمدات میں اضافہ، روزگار کے نئے مواقع اور پائیدار معاشی ترقی ممکن ہوگی، مالی سہولیات کی فراہمی میں بہتر کارکردگی دکھانے والے بینکوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔
وزیراعظم نے کہا کہ ایکسیس ٹو فائنانس پلان پر پیش رفت کے حوالے سے ماہانہ جائزہ اجلاس کی صدارت وہ خود کریں گے، حکومت مالی سہولیات تک رسائی بڑھا کر معیشت کو مزید مضبوط اور برآمدات پر مبنی بنانا چاہتی ہے۔
وزیراعظم کو بتایا گیا کہ ایکسیس ٹو فائنانس پلان کے اہداف میں بینکوں کی جانب سے ایس ایم ای سیکٹر کے لیے قرضوں کی تعداد اور قرض حاصل کرنے والے کاروباروں کی تعداد میں نمایاں اضافہ شامل ہے، نجی شعبے کے قرضوں میں ایس ایم ای سیکٹر کا حصہ 7 فیصد سے بڑھا کر اگلے دو سال میں 10 فیصد کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
بریفنگ کے مطابق ایس ایم ای شعبے میں قرضوں سے مستفید افراد کی تعداد 310,000 سے بڑھا کر اگلے دو سال میں 750,000 کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزراء رانا تنویر حسین، اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، عطاء اللہ تارڑ، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی ہارون اختر، گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد، پاکستانی بینکوں کے صدور و سی ای اوز، صوبائی چیف سیکرٹریز اور اعلیٰ سرکاری حکام شریک تھے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026


Comments