BR100 Increased By (0.64%)
BR30 Increased By (0.68%)
KSE100 Increased By (0.54%)
KSE30 Increased By (0.62%)
BAFL 58.60 Decreased By ▼ -0.16 (-0.27%)
BIPL 28.20 Increased By ▲ 0.19 (0.68%)
BOP 36.17 Increased By ▲ 0.21 (0.58%)
CNERGY 9.70 Increased By ▲ 0.30 (3.19%)
DFML 19.80 Increased By ▲ 0.02 (0.1%)
DGKC 224.01 Increased By ▲ 0.71 (0.32%)
FABL 101.90 Increased By ▲ 0.58 (0.57%)
FCCL 56.05 Increased By ▲ 0.58 (1.05%)
FFL 17.60 Increased By ▲ 0.12 (0.69%)
GGL 25.00 Increased By ▲ 0.19 (0.77%)
HBL 314.50 Increased By ▲ 5.61 (1.82%)
HUBC 226.99 Increased By ▲ 0.06 (0.03%)
HUMNL 11.11 No Change ▼ 0.00 (0%)
KEL 8.10 Increased By ▲ 0.16 (2.02%)
LOTCHEM 31.59 Increased By ▲ 1.16 (3.81%)
MLCF 104.50 Increased By ▲ 1.73 (1.68%)
OGDC 334.00 Increased By ▲ 0.45 (0.13%)
PAEL 45.00 Decreased By ▼ -0.07 (-0.16%)
PIBTL 17.98 Decreased By ▼ -0.04 (-0.22%)
PIOC 271.97 Increased By ▲ 0.13 (0.05%)
PPL 237.01 Increased By ▲ 1.39 (0.59%)
PRL 42.10 Increased By ▲ 0.25 (0.6%)
SNGP 112.34 Decreased By ▼ -1.89 (-1.65%)
SSGC 30.89 Decreased By ▼ -0.18 (-0.58%)
TELE 9.19 Increased By ▲ 0.19 (2.11%)
TPLP 12.61 Decreased By ▼ -0.06 (-0.47%)
TRG 65.60 Increased By ▲ 0.43 (0.66%)
UNITY 10.31 Increased By ▲ 0.11 (1.08%)
WTL 1.33 Increased By ▲ 0.01 (0.76%)
دنیا

ایران سے کشیدگی میں اضافہ : آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمد و رفت سست پڑ گئی

  • حالیہ دنوں میں بغیر کارگو کے کم از کم پانچ ایل این جی ٹینکرز آبنائے ہرمز میں داخل ہو چکے ہیں
شائع اپ ڈیٹ

بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے ڈیٹا کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک کی یومیہ شرح میں نمایاں کمی آئی ہے۔ تاہم حالیہ دنوں میں قطر انرجی اور یونانی کمپنیوں سے وابستہ ایل این جی کے پانچ خالی ٹینکرز آبنائے ہرمز میں داخل ہوئے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی جانب سے مخصوص بحری راستوں پر حملوں کے بعد اب جہازوں نے سراغ رانی سے بچنے کے لیے اپنے ٹریکنگ سسٹم (اے آئی ایس) بند کرنا شروع کر دیے ہیں، جس سے ان کی نگرانی مشکل ہو گئی ہے۔دوسری جانب جاپانی وزیرِ ٹرانسپورٹ یاسوشی کانیکو نے تصدیق کی ہے کہ منگل سے اب تک جاپان سے منسلک 22 بحری جہاز خلیج سے نکل چکے ہیں اور اب وہاں صرف 4 جہاز باقی رہ گئے ہیں۔ جنگ کے آغاز پر ان جہازوں کی تعداد 45 تھی۔ تجارتی جہازوں پر ایرانی حملوں اور امریکی جوابی کارروائی کے بعد انشورنس کمپنیوں نے جہاز مالکان کو سفر روکنے کا مشورہ دیا ہے، جس کے باعث بحری انشورنس کی شرح (وار انشورنس ریٹس) میں ایک بار پھر بھاری اضافہ ہو گیا ہے۔

Comments

200 حروف