ایران کا خلیج میں امریکی فوجی ٹھکانوں پر حملوں کا دعویٰ، شہید علی خامنہ ای سپرد خاک
- امریکہ کی جانب سے کسی بھی مزید مداخلت کا سخت اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا، پاسدارانِ انقلاب
ایران کے جنوبی ساحلی اور مشرقی صوبوں پر امریکی حملوں کے بعد ایرانی مسلح افواج نے جمعرات کو خلیجی ممالک میں واقع امریکی فوجی تنصیبات پر حملے کیے جس کے نتیجے میں 3 ہفتے قبل ہونے والے جنگ بندی معاہدے پر مزید دباؤ بڑھ گیا۔
بعد ازاں ایرانی میڈیا نے جنوبی ایران کے مختلف علاقوں میں متعدد دھماکوں کی اطلاعات دیں جن میں بوشہر بھی شامل ہے جہاں ایران کا ایک جوہری بجلی گھر واقع ہے۔ اس کے علاوہ کونارک، چوغادک اور بندر عباس میں بھی دھماکوں کی خبریں موصول ہوئیں۔ امریکی فوج نے ان رپورٹس پر تبصرے کے لیے کی گئی درخواست پر فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔
یہ پیشرفت ایسے دن سامنے آئی جب ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو مشہد میں امام علی رضا کے روضہ کے احاطے میں سپرد خاک کردیا گیا۔ شہید سپریم لیڈر کو آخری الوداع کہنے کے لیے مشہد کی سڑکوں پر انسانوں کا سمندر امڈ آیا۔
خامنہ ای 28 فروری کو جنگ کے پہلے دن امریکی فضائی حملے میں شہید ہوئے تھے۔ یہ حملہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کی گئی اس بمباری کا حصہ تھا جس نے مہینوں طویل تنازع کو جنم دیا جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد مارے گئے اور دنیا بھر میں توانائی کی سپلائی بری طرح متاثر ہوئی۔ اس ہفتے کے اوائل میں قطری اور سعودی تجارتی جہازوں پر ہونے والے حملوں نے نازک جنگ بندی کو درہم برہم کردیا جس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس جنگ بندی کے خاتمے کا اعلان کر دیا۔
آیت اللہ خامنہ ای کا جنازہ تدفین کے لیے ملک کے مقدس ترین مزار پہنچا جہاں صحن میں لاکھوں سوگواروں کا ہجوم موجود تھا۔ وہاں موجود کچھ افراد نے امریکی صدر کے خلاف بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر یہ عبارت درج تھی: ہم ٹرمپ کو قتل کریں گے۔
ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے کہا ہے کہ امریکی حملوں اور آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری جہازوں کی آمدورفت کا رخ موڑنے کی امریکی مداخلت کے باعث اس اہم آبی گزرگاہ کو دوبارہ بحال کرنے کا عمل متاثر ہو رہا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران ایران کی نگرانی میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی تعداد جنگ سے پہلے کی سطح کے تقریباً 50 فیصد تک بحال ہو گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صرف انہی جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جا رہی ہے جو تہران کی جانب سے مقرر کردہ بحری راستوں پر سفر کررہے ہیں۔
پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا کہ امریکہ کی جانب سے کسی بھی مزید مداخلت کا سخت اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
امریکی فوج کا کہنا تھا کہ ان کے تازہ ترین حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنا ہے جس کے بارے میں امریکہ نے دعویٰ کیا کہ ایرانی افواج نے اس علاقے میں تین آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا تھا۔ یہ امریکی کارروائی صدر ٹرمپ کے اس بیان کے چند گھنٹوں بعد عمل میں آئی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ عبوری جنگ بندی کا خاتمہ ہو چکا ہے۔
اگرچہ ایران نے بحری جہازوں پر ہونے والے حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی، تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تہران مذاکرات میں اپنی پوزیشن مضبوط بنانے اور دباؤ بڑھانے کے لیے اس نوعیت کی کارروائیاں ایک حربے کے طور پر استعمال کرتا ہے۔
تیل کی قیمتوں میں جو حالیہ حملوں کے باعث ترسیل اور عالمی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات کی وجہ سے تیزی سے اضافہ ہوا تھا جمعرات کو کمی دیکھی گئی۔ اس کی وجہ سرمایہ کاروں کا یہ خدشہ تھا کہ یہ کشیدگی یا تو عارضی ہو سکتی ہے یا پھر یہ مکمل جنگ بندی کے خاتمے کا پیش خیمہ ثابت ہوگی۔
سرکاری میڈیا کے مطابق ایرانی حکام نے بتایا ہے کہ 8 اور 9 جولائی کو پانچ صوبوں میں ہونے والے امریکی حملوں میں 14 افراد مارے گئے جبکہ 78 زخمی ہوئے۔ فارس نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا کہ ایک امریکی حملے میں روس اور چین کے ساتھ تجارت کے لیے استعمال ہونے والا ایک ریلوے پل بھی تباہ ہوا ہے۔
نیم سرکاری خبر رساں ادارے مہر کے مطابق جمعرات کی صبح ایران کے صوبہ بوشہر اور جنوبی ساحلی شہر بندر عباس میں کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
بوشہر میں روس کا تعمیر کردہ جوہری بجلی گھر واقع ہے اور ایک مقامی عہدیدار نے بعد ازاں سرکاری میڈیا کو بتایا کہ ایک امریکی پروجیکٹائل (گولہ) تنصیب کے احاطے میں لگا ہے۔ یہ احاطہ 8 اپریل کو ہونے والی جنگ بندی سے پہلے بھی کئی بار نشانہ بن چکا ہے۔
ایران کے خلیجی ممالک اور اردن میں امریکی اڈوں پر حملے
ایرانی فوج نے سرکاری میڈیا کے ذریعے جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے کویت میں امریکی پیٹریاٹ سسٹمز، قطر میں ارلی وارننگ سائٹ اور بحرین میں امریکی فوج کے ایک فیول ڈپو پر حملے کیے ہیں۔
کویت کا کہنا ہے کہ اس کی مسلح افواج نے اپنی فضائی حدود میں ایک کروز میزائل، تین بیلسٹک میزائلوں اور 10 ڈرونز کو روکا ہے اور گرنے والے ملبے کی زد میں آکر ایک شخص زخمی ہوا ہے۔
اردن کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے رپورٹ کیا کہ ایران سے فائر کیے گئے میزائلوں کی نشاندہی کے بعد وہاں بھی سائرن بج اٹھے۔ آٹھ میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا اور کسی جانی نقصان یا تباہی کی اطلاع نہیں ملی۔
پاسدارانِ انقلاب نے بعد ازاں کہا کہ ایران نے اردن کے ازرق فوجی اڈے جو امریکی افواج کے زیرِ استعمال ہے پر 10 بیلسٹک میزائل داغے ہیں اور ساتھ ہی مشرقِ وسطیٰ میں ایک امریکی فوجی کنٹرول سینٹر کو بھی نشانہ بنایا ہے تاہم انہوں نے اس بارے میں مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔
قطر نے تجارتی جہازوں پر حملوں کی مذمت کی لیکن ساتھ ہی سفارت کاری کی طرف واپسی پر زور دیا۔
ترکیہ اور عمان کے وزرائے خارجہ نے بھی اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی کے ساتھ الگ الگ ٹیلی فون کالز میں مزید فوجی کشیدگی سے بچنے کی ضرورت پر زور دیا۔
پاکستان کے آرمی چیف کے ساتھ ایک ٹیلی فون کال میں عراقچی نے امریکہ کی جانب سے جنگجو پالیسیوں کی مذمت کی۔
ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے ایکس پر لکھا کہ آبنائے ہرمز صرف ایرانی انتظامات کے تحت کھولی جائے گی، امریکی دھمکیوں کے ذریعے نہیں۔
صدر ٹرمپ کا مکمل جنگ کی واپسی سے انکار
امریکی سینٹرل کمانڈ نے بدھ کو کہا ہے کہ اس کی افواج نے ایران کے تقریباً 90 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے جن میں ایئر ڈیفنس سسٹمز، ساحلی نگرانی کے اثاثے اور میزائل و ڈرون ذخیرہ کرنے کے مقامات شامل ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر لکھا کہ یہ ایران کی جانب سے جہازوں پر کی گئی بمباری کا انتقام ہے۔ اگر ایسا دوبارہ ہوا تو حالات اس سے کہیں زیادہ خراب ہو جائیں گے!
تاہم امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ حالیہ فوجی حملے ایران کے ساتھ مکمل جنگ میں تبدیل ہوں گے۔
انقرہ میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ بہت جلد ختم ہو جائے گا ۔


Comments