مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی برقرار، خام تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی
- برینٹ خام تیل کے فیوچرز 6 سینٹ یا 0.08 فیصد کمی کے بعد 76.24 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتے رہے
عالمی منڈی میں جمعہ کو ابتدائی کاروبار کے دوران خام تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی دیکھی گئی، تاہم امریکا اور ایران کے درمیان جاری حملوں کے تبادلے کے باعث دونوں اہم عالمی بینچ مارکس ہفتہ وار بنیاد پر نمایاں اضافے کی جانب گامزن رہے۔
برینٹ خام تیل کے فیوچرز 6 سینٹ یا 0.08 فیصد کمی کے بعد 76.24 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتے رہے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 4 سینٹ یا 0.06 فیصد کمی کے ساتھ 72.04 ڈالر فی بیرل پر آگیا۔
ہفتہ وار بنیاد پر برینٹ خام تیل کی قیمت میں تقریباً 6 فیصد جبکہ ڈبلیو ٹی آئی میں 5 فیصد اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
مارکیٹ پر دباؤ کی ایک بڑی وجہ مہنگائی میں ممکنہ اضافے کے خدشات ہیں، کیونکہ سرمایہ کاروں کو اندیشہ ہے کہ بلند افراطِ زر عالمی سطح پر تیل کی طلب کو کمزور کر سکتا ہے۔
ادھر ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا۔ ایران کی مسلح افواج نے جمعرات کو خلیجی ممالک میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جو امریکا کی جانب سے ایران کے جنوبی ساحلی اور مشرقی صوبوں پر حملوں کے جواب میں کیا گیا۔ اس پیش رفت سے تین ہفتے قبل ہونے والی جنگ بندی مزید کمزور پڑ گئی۔
دوسری جانب ایرانی میڈیا نے جنوبی ایران کے مختلف علاقوں، خصوصاً بوشہر میں متعدد دھماکوں کی اطلاعات بھی دیں، جہاں ایران کا ایک اہم جوہری بجلی گھر واقع ہے۔
یہ تازہ جھڑپیں اسی روز سامنے آئیں جب ایران نے اپنے مقتول سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین کی۔ سرکاری اطلاعات کے مطابق وہ 28 فروری کو جنگ کے پہلے روز ہلاک ہوئے تھے، جبکہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ملک بھر میں ان کے جنازے اور تعزیتی ریلیاں منعقد کی گئیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس تنازع نے آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی میں بھی تاخیر پیدا کر دی ہے۔ جنگ سے قبل دنیا کی یومیہ تیل اور گیس کی تقریباً 20 فیصد ترسیل اسی اہم آبی گزرگاہ سے ہوتی تھی۔


Comments