BR100 Increased By (1.21%)
BR30 Increased By (1.41%)
KSE100 Increased By (1.13%)
KSE30 Increased By (1.26%)
BAFL 59.10 Increased By ▲ 0.34 (0.58%)
BIPL 28.40 Increased By ▲ 0.39 (1.39%)
BOP 36.17 Increased By ▲ 0.21 (0.58%)
CNERGY 9.38 Decreased By ▼ -0.02 (-0.21%)
DFML 20.25 Increased By ▲ 0.47 (2.38%)
DGKC 226.50 Increased By ▲ 3.20 (1.43%)
FABL 101.99 Increased By ▲ 0.67 (0.66%)
FCCL 56.35 Increased By ▲ 0.88 (1.59%)
FFL 17.67 Increased By ▲ 0.19 (1.09%)
GGL 25.35 Increased By ▲ 0.54 (2.18%)
HBL 314.49 Increased By ▲ 5.60 (1.81%)
HUBC 228.93 Increased By ▲ 2.00 (0.88%)
HUMNL 11.15 Increased By ▲ 0.04 (0.36%)
KEL 8.12 Increased By ▲ 0.18 (2.27%)
LOTCHEM 31.15 Increased By ▲ 0.72 (2.37%)
MLCF 105.95 Increased By ▲ 3.18 (3.09%)
OGDC 337.56 Increased By ▲ 4.01 (1.2%)
PAEL 45.54 Increased By ▲ 0.47 (1.04%)
PIBTL 18.15 Increased By ▲ 0.13 (0.72%)
PIOC 274.65 Increased By ▲ 2.81 (1.03%)
PPL 238.49 Increased By ▲ 2.87 (1.22%)
PRL 42.02 Increased By ▲ 0.17 (0.41%)
SNGP 114.50 Increased By ▲ 0.27 (0.24%)
SSGC 31.18 Increased By ▲ 0.11 (0.35%)
TELE 9.15 Increased By ▲ 0.15 (1.67%)
TPLP 12.65 Decreased By ▼ -0.02 (-0.16%)
TRG 65.64 Increased By ▲ 0.47 (0.72%)
UNITY 10.26 Increased By ▲ 0.06 (0.59%)
WTL 1.32 No Change ▼ 0.00 (0%)
مارکٹس

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی برقرار، خام تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی

  • برینٹ خام تیل کے فیوچرز 6 سینٹ یا 0.08 فیصد کمی کے بعد 76.24 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتے رہے
شائع اپ ڈیٹ

عالمی منڈی میں جمعہ کو ابتدائی کاروبار کے دوران خام تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی دیکھی گئی، تاہم امریکا اور ایران کے درمیان جاری حملوں کے تبادلے کے باعث دونوں اہم عالمی بینچ مارکس ہفتہ وار بنیاد پر نمایاں اضافے کی جانب گامزن رہے۔

برینٹ خام تیل کے فیوچرز 6 سینٹ یا 0.08 فیصد کمی کے بعد 76.24 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتے رہے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 4 سینٹ یا 0.06 فیصد کمی کے ساتھ 72.04 ڈالر فی بیرل پر آگیا۔

ہفتہ وار بنیاد پر برینٹ خام تیل کی قیمت میں تقریباً 6 فیصد جبکہ ڈبلیو ٹی آئی میں 5 فیصد اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

مارکیٹ پر دباؤ کی ایک بڑی وجہ مہنگائی میں ممکنہ اضافے کے خدشات ہیں، کیونکہ سرمایہ کاروں کو اندیشہ ہے کہ بلند افراطِ زر عالمی سطح پر تیل کی طلب کو کمزور کر سکتا ہے۔

ادھر ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا۔ ایران کی مسلح افواج نے جمعرات کو خلیجی ممالک میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جو امریکا کی جانب سے ایران کے جنوبی ساحلی اور مشرقی صوبوں پر حملوں کے جواب میں کیا گیا۔ اس پیش رفت سے تین ہفتے قبل ہونے والی جنگ بندی مزید کمزور پڑ گئی۔

دوسری جانب ایرانی میڈیا نے جنوبی ایران کے مختلف علاقوں، خصوصاً بوشہر میں متعدد دھماکوں کی اطلاعات بھی دیں، جہاں ایران کا ایک اہم جوہری بجلی گھر واقع ہے۔

یہ تازہ جھڑپیں اسی روز سامنے آئیں جب ایران نے اپنے مقتول سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین کی۔ سرکاری اطلاعات کے مطابق وہ 28 فروری کو جنگ کے پہلے روز ہلاک ہوئے تھے، جبکہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ملک بھر میں ان کے جنازے اور تعزیتی ریلیاں منعقد کی گئیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس تنازع نے آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی میں بھی تاخیر پیدا کر دی ہے۔ جنگ سے قبل دنیا کی یومیہ تیل اور گیس کی تقریباً 20 فیصد ترسیل اسی اہم آبی گزرگاہ سے ہوتی تھی۔

Comments

200 حروف