BR100 Decreased By (-0.7%)
BR30 Decreased By (-0.59%)
KSE100 Decreased By (-0.64%)
KSE30 Decreased By (-0.82%)
BAFL 61.80 Decreased By ▼ -0.33 (-0.53%)
BIPL 29.29 Increased By ▲ 0.87 (3.06%)
BOP 37.42 Increased By ▲ 0.29 (0.78%)
CNERGY 8.51 Increased By ▲ 0.01 (0.12%)
DFML 20.19 Decreased By ▼ -0.33 (-1.61%)
DGKC 233.50 Decreased By ▼ -0.48 (-0.21%)
FABL 103.70 Decreased By ▼ -0.48 (-0.46%)
FCCL 57.91 Decreased By ▼ -0.72 (-1.23%)
FFL 17.92 Decreased By ▼ -0.18 (-0.99%)
GGL 26.05 Decreased By ▼ -0.38 (-1.44%)
HBL 319.49 Increased By ▲ 1.34 (0.42%)
HUBC 233.60 Decreased By ▼ -2.05 (-0.87%)
HUMNL 11.20 Decreased By ▼ -0.05 (-0.44%)
KEL 8.15 Decreased By ▼ -0.02 (-0.24%)
LOTCHEM 30.68 Increased By ▲ 0.12 (0.39%)
MLCF 107.10 Decreased By ▼ -2.41 (-2.2%)
OGDC 343.49 Decreased By ▼ -5.23 (-1.5%)
PAEL 47.23 Increased By ▲ 0.51 (1.09%)
PIBTL 18.71 Decreased By ▼ -0.15 (-0.8%)
PIOC 281.99 Decreased By ▼ -4.22 (-1.47%)
PPL 247.25 Decreased By ▼ -5.41 (-2.14%)
PRL 37.20 Increased By ▲ 0.75 (2.06%)
SNGP 118.79 Decreased By ▼ -1.76 (-1.46%)
SSGC 32.01 Decreased By ▼ -0.34 (-1.05%)
TELE 9.20 Increased By ▲ 0.11 (1.21%)
TPLP 13.37 Increased By ▲ 0.83 (6.62%)
TRG 67.57 Increased By ▲ 0.27 (0.4%)
UNITY 10.65 Decreased By ▼ -0.10 (-0.93%)
WTL 1.28 Increased By ▲ 0.02 (1.59%)
کاروبار اور معیشت

نوٹسز جاری کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی نیا ٹیکس نظام متعارف کرایا جا رہا ہے، وزیرِ خزانہ

  • رواں سال ترسیلاتِ زر 41 سے 42 ارب ڈالر کے درمیان رہنے کی توقع ہے، محمد اورنگزیب
شائع اپ ڈیٹ

وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے منگل کے روز کہا ہے کہ ریکارڈ ترسیلاتِ زر کے باعث کرنٹ اکاؤنٹ کی کارکردگی مضبوط ہے۔

انہوں نے کہا، ”ہمیں توقع ہے کہ رواں سال ترسیلاتِ زر کا حجم 41 سے 42 ارب ڈالر کے درمیان رہے گا۔“

کراچی میں منعقدہ پاکستان بینکنگ سمٹ 2026 کے دوسرے ایڈیشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ مالی سال تمام اہم معاشی اشاریوں کے اعتبار سے مضبوط انداز میں اختتام پذیر ہوا۔ ان کے بقول، ملک نے پرائمری سرپلس حاصل کیا، مالی خسارہ تاریخ کی کم ترین سطح پر رہا، قرض سے جی ڈی پی کا تناسب 70 فیصد سے خاصا کم رہا، جبکہ بڑی صنعتوں (ایل ایس ایم) میں نمایاں بحالی کے باعث جی ڈی پی کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔

وزیرِ خزانہ نے کہا کہ برآمدات میں کمی کا تذکرہ کیا جاتا ہے، تاہم یہ کمی بنیادی طور پر غذائی شعبے تک محدود ہے، جبکہ ویلیو ایڈڈ مصنوعات، خصوصاً ٹیکسٹائل، کی برآمدات میں سال بہ سال اضافہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو توقع ہے کہ رواں مالی سال کے اختتام پر زرمبادلہ کے ذخائر تقریباً 18.4 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے، جو پہلے کے تخمینوں سے زیادہ ہیں۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان نے عالمی سرمایہ منڈیوں میں واپسی کا آغاز یورو بانڈ سے کیا، تاہم سب سے اہم پیش رفت پانڈا بانڈ کا اجرا تھا، کیونکہ گزشتہ سات سے آٹھ برس سے دنیا کی دوسری بڑی اور دوسری گہری سرمایہ منڈی تک رسائی نہ ہونا ایک بڑی کمی تھی۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ صرف انڈیکس کی سطح سے زیادہ اہم مارکیٹ کی سرگرمیاں ہیں۔ ان کے مطابق سرمایہ کاروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر جنریشن زیڈ کے سرمایہ کار مارکیٹ میں آ رہے ہیں، جبکہ کارپوریٹ منافع بھی دوبارہ دوہرے ہندسے میں پہنچ گیا ہے۔

انہوں نے رواں مالی سال کے بجٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پہلی مرتبہ بجٹ کی تیاری میں ٹیکس پالیسی آفس نے مرکزی کردار ادا کیا، جسے وزارتِ خزانہ کے ماتحت منتقل کیا گیا ہے۔

وزیرِ خزانہ نے کہا، ”ہم نے برآمدات پر مبنی معاشی نمو پر توجہ دی، ایڈوانس ٹیکس اور سپر ٹیکس میں کمی کی، کم لاگت رعایتی مالی سہولتیں فراہم کیں اور ٹیرف پالیسی کا تسلسل برقرار رکھا۔“

انہوں نے اس سلسلے میں وزیراعظم اور وفاقی کابینہ کا شکریہ بھی ادا کیا۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت جلد درمیانی مدت کی ٹیکس حکمتِ عملی بھی متعارف کرائے گی۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ نے ٹیکس انتظامی نظام کے نئے آپریٹنگ ماڈل کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت ٹیکس حکام اور ٹیکس دہندگان کے درمیان ایک نیا نظام قائم کیا جائے گا، جہاں انسانی مداخلت نہ ہونے کے برابر ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایک بنیادی نوعیت کی اصلاح ہے کیونکہ نیا نظام مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی ہوگا اور ٹیکس نوٹس بھی اسی نظام کے ذریعے جاری کیے جائیں گے۔

وزیرِ خزانہ نے کہا کہ معاشی استحکام سے پائیدار ترقی کے سفر میں مالی وسائل تک رسائی اور بینکاری شعبے کا کردار انتہائی اہم رہے گا۔ ان کے بقول ایس ایم ایز، برآمدی شعبے، زراعت، صنعت، تعمیرات اور آئی ٹی کو قرضوں کی فراہمی میں اضافہ ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا، ”میرا خیال ہے کہ ہم درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں، لیکن ابھی بہت طویل سفر طے کرنا باقی ہے۔“

نجکاری کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پی آئی اے اب کامیابی سے نجی شعبے کے حوالے کی جا چکی ہے، جبکہ تین ڈسکوز کی روڈ شو سرگرمیاں بھی مکمل ہو چکی ہیں۔ اس کے علاوہ 28 سرکاری ادارے نجکاری کمیشن کے سپرد کیے جا چکے ہیں۔

انہوں نے آخر میں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن (پی بی اے) کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے سمٹ کے شرکا سے تجاویز بھی طلب کیں۔

Comments

200 حروف