ایک ارب ڈالر کے پن بجلی منصوبے غیر یقینی کا شکار، کورین کمپنی کی اسلام آباد سے تعاون کی اپیل
- ٹیرف تعین میں تاخیر اور مستقبل کے بجلی پیداوار منصوبے سے متعلق غیر یقینی منصوبوں کی پیش رفت میں بڑی رکاوٹ ہے، کم من ینگ
جنوبی کوریا کی سرکاری ملکیت میں قائم کوریا ساؤتھ ایسٹ پاور کمپنی (KOEN) نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ تقریباً ایک ارب ڈالر مالیت کی مجوزہ پن بجلی سرمایہ کاری کی راہ میں حائل ریگولیٹری رکاوٹیں دور کرے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ ٹیرف کے تعین میں تاخیر اور ملک کے مستقبل کے بجلی پیداوار منصوبے سے متعلق غیر یقینی صورتحال ان منصوبوں کی پیش رفت میں بڑی رکاوٹ بن رہی ہے۔
یہ پیشرفت وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان اور کورین پاور کمپنی کے وفد کے درمیان ہونے والی ملاقات میں سامنے آئی جس میں پاکستان کے پن بجلی شعبے میں کمپنی کی مجوزہ سرمایہ کاری اور سوات میں اس کے دو منصوبوں سے متعلق امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
وفد کی قیادت کوریا ساؤتھ ایسٹ پاور کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کم من ینگ کر رہے تھے جبکہ وفد میں ڈپٹی چیف ایگزیکٹو آفیسر جانگ سنگ کیو، چیف آپریٹنگ آفیسر جاوید رشید چوہدری، ڈائریکٹر فنانس عاصم جاوید اور جنرل منیجر (پروجیکٹ ڈویلپمنٹ) شاہد جاوید بھی شامل تھے۔
ملاقات کے دوران ڈائریکٹر فنانس عاصم جاوید نے وفاقی وزیر جام کمال خان کو پاکستان میں کوریائی پاور کمپنی کی سرمایہ کاری کے پروفائل، منصوبوں پر پیشرفت، مالیاتی انتظامات، ریگولیٹری منظوریوں اور متعلقہ حکام سے درکار تعاون کے بارے میں ایک تفصیلی پریزنٹیشن دی۔
وفد نے وفاقی وزیر کو بتایا کہ کوریائی پاور کمپنی 2011 سے پاکستان کے توانائی شعبے میں سرمایہ کاری کررہی ہے۔ کمپنی نے مارچ 2020 میں 102 میگاواٹ گلپور پن بجلی منصوبہ مکمل کیا جس کے بعد بجلی پیداوار پالیسی 2015 کے تحت سوات میں 229 میگاواٹ اسریت کیڈم اور 238 میگاواٹ کالام اسریت ہائیڈرو پاور منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔
وفد نے بتایا کہ منصوبوں سے متعلق اہم منظوریوں کا عمل مکمل ہوچکا ہے، تقریباً 1 ارب ڈالر کی قرض اور ایکویٹی فنانسنگ کا انتظام کیا جاچکا ہے جبکہ پروجیکٹ اسٹڈیز اور ترقیاتی سرگرمیوں پر اب تک تقریباً 2 کروڑ 50 لاکھ ڈالر خرچ کئے گئے ہیں۔
وفد نے ٹیرف کے تعین میں تاخیر، انڈیکیٹو جنریشن کیپیسٹی ایکسپینشن پلان 2025–35 کے مسودے میں ان منصوبوں کو شامل کرنے اور منصوبوں پر مستقبل میں عمل درآمد کے حوالے سے واضح حکمت عملی کی ضرورت پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔
وفد نے اس بات پر زور دیا کہ یہ منصوبے سوات میں کلین انرجی کی پیداوار، روزگار کے مواقع، مقامی ترقی اور معاشی سرگرمیوں میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کمپنی پاکستان کے ساتھ وابستہ ہے اور اپنے تجارتی منصوبوں کو حکومت کی مستقبل کی توانائی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے کے لیے تیار ہے۔
جام کمال خان نے پاکستان میں کوریائی کمپنی کی مسلسل دلچسپی اور ملک کی طویل مدتی سرمایہ کاری کی صلاحیت پر ان کے اعتماد کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان جمہوریہ کوریا کے ساتھ اپنے اقتصادی تعلقات کو اہمیت دیتا ہے اور قابل تجدید توانائی، پائیدار بنیادی ڈھانچے، ٹیکنالوجی، لاجسٹکس اور دیگر ترجیحی شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کا خیرمقدم کرتا ہے۔
جام کمال نے کہا کہ پاکستان کو طویل مدتی غیر ملکی سرمایہ کاری راغب کرنے کے لیے ایک مستحکم، شفاف اور سرمایہ کار دوست ماحول کی ضرورت ہے۔ سرمایہ کاروں کا اعتماد مضبوط کرنے کے لیے اداروں کے درمیان واضح مواصلات اور موثر رابطہ کاری انتہائی اہم ہے۔
وفاقی وزیر نے وفد کو یقین دلایا کہ کوریائی کمپنی کے خدشات پر مربوط غور و فکر کی سہولت کے لیے متعلقہ وفاقی وزارتوں، محکموں اور متعلقہ حکام کو شامل کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان موجودہ صلاحیت کے تناظر میں اپنی توانائی کی ضروریات کا جائزہ لے رہا ہے، تاہم گرین انرجی، صنعتی ترقی، ڈیٹا سینٹرز اور دیگر ترقی پذیر شعبوں میں مستقبل میں نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔
انہوں نے کوریائی کمپنی کو یقین دہانی کرائی کہ وزارتِ تجارت کمپنی اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے درمیان تعمیری روابط کی حمایت جاری رکھے گی۔


Comments