آڈیٹر جنرل نے پی پی ایم سی کی مالیاتی رپورٹس میں سنگین بے ضابطگیوں کی نشاندہی کر دی
- رپورٹ کے مطابق سب سے اہم بے ضابطگی میٹیریل انسپیکشن فیس (ایم آئی ایف) کی آمدنی کے حساب کتاب میں سامنے آئی
آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی) نے وزارت توانائی کے پاور ڈویژن کے ماتحت ادارے پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی (پی پی ایم سی) میں سنگین مالی بے ضابطگیوں، گورننس کی خامیوں اور آپریشنل کمزوریوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ملک کے بجلی کے شعبے میں شفافیت اور احتساب پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
مالی سال 2025-26 کی آڈٹ پر مبنی مالیاتی تجزیاتی رپورٹ، جس میں 2020-21 سے 2024-25 تک کا جائزہ لیا گیا، کے مطابق کمپنی کی مالی رپورٹنگ، داخلی کنٹرول اور ریگولیٹری قوانین کی پاسداری میں نمایاں کمزوریاں موجود ہیں۔ انہی وجوہات کی بنا پر آڈیٹرز نے کمپنی کے مالیاتی گوشواروں پر کولیفائڈ آپشن جاری کیا، جس کا مطلب ہے کہ متعدد غیر حل شدہ مسائل کے باعث ان مالیاتی بیانات پر مکمل انحصار نہیں کیا جا سکتا۔
رپورٹ کے مطابق سب سے اہم بے ضابطگی میٹیریل انسپیکشن فیس (ایم آئی ایف) کی آمدنی کے حساب کتاب میں سامنے آئی۔ آڈٹ میں بتایا گیا کہ پی پی ایم سی نے نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی) کے نام پر 40 فیصد حصہ منہا کر دیا، حالانکہ اس کی قانونی یا معاہداتی بنیاد کے ثبوت موجود نہیں تھے۔ آڈیٹرز کے مطابق بین الاقوامی اکاؤنٹنگ معیارات کے تحت پوری رقم کو پی پی ایم سی کی آمدنی کے طور پر ظاہر کیا جانا چاہیے تھا۔ اس بے ضابطگی کی مالیت کروڑوں روپے بنتی ہے۔
آڈٹ رپورٹ میں سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے-جی) کے ساتھ ایڈوانس بیلنس کی تصدیق نہ ہونے پر بھی تشویش ظاہر کی گئی۔ ضروری ریکارڈ اور حسابات کی مطابقت نہ ہونے کی وجہ سے کمپنی کے واجبات اور قابل وصول رقوم کی درستگی پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
اسی طرح کمپنی اپنے فکسڈ اثاثوں کا مکمل رجسٹر فراہم نہ کر سکی اور نہ ہی آڈیٹرز کو ان اثاثوں کی فزیکل تصدیق کی اجازت دی گئی، جس کے باعث کروڑوں روپے مالیت کے اثاثوں کے وجود اور حالت کی تصدیق ممکن نہ ہو سکی۔
رپورٹ میں ڈسکوز، این ٹی ڈی سی اور بجلی کے شعبے کے دیگر اداروں کے ساتھ مالیاتی بیلنس میں اختلافات کو بھی سنگین مسئلہ قرار دیا گیا۔ کئی معاملات میں تصدیقی معلومات آزادانہ طور پر حاصل کرنے کے بجائے انتظامیہ کے ذریعے فراہم کی گئیں، جس سے ان کی ساکھ متاثر ہوئی۔
مالی کارکردگی کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا کہ کمپنی کی آمدنی میں نمایاں اضافہ ہوا اور 2024-25 میں مجموعی آمدنی 1.07 ارب روپے سے تجاوز کر گئی، تاہم آپریٹنگ اخراجات بڑھ کر 567 ملین روپے سے زیادہ ہو گئے، جس کے نتیجے میں آپریٹنگ منافع کا مارجن کم ہو گیا۔ مالیاتی اخراجات میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ ریٹرن آن کیپیٹل ایمپلائیڈ (آر او سی ای) میں کمی نے کمپنی کی سرمایہ استعمال کرنے کی صلاحیت میں گراوٹ ظاہر کی۔
اگرچہ کمپنی کی لیکویڈیٹی پوزیشن بہتر ہوئی اور قلیل مدتی واجبات ادا کرنے کی صلاحیت میں اضافہ دیکھا گیا، تاہم رپورٹ کے مطابق آپریٹنگ کیش فلو آخری سال میں منفی رہا، جو ورکنگ کیپیٹل کے ناقص انتظام اور مستقبل میں مالی خطرات کی نشاندہی کرتا ہے۔
آڈٹ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ پی پی ایم سی توانائی کی وزارت کے تکنیکی اور اسٹریٹجک ادارے کے طور پر اپنی بنیادی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہی۔ مقامی سطح پر آلات کی تیاری، پاور سیکٹر انڈیجینائزیشن پلان (پی ایس آئی پی) پر عملدرآمد اور ڈسکوز کے لیے یکساں تکنیکی ڈیزائن تیار کرنے میں خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوئی، جس کے باعث بجلی کی تقسیم کے نظام میں غیر ضروری تفاوت برقرار ہے۔
رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا کہ کمپنی نے ڈسکوز سے مینجمنٹ فیس وصول کرنے کے لیے باقاعدہ بلنگ نظام قائم نہیں کیا بلکہ بغیر انوائس جاری کیے اور نیپرا کی منظوری کے بغیر سی پی پی اے-جی سے ایڈوانس ادائیگیاں وصول کیں، جسے آڈیٹرز نے مالی شفافیت کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔
انسانی وسائل کے شعبے میں بھی متعدد بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔ منیجنگ ڈائریکٹر کی تنخواہ تقرری کے فوراً بعد اشتہار میں دی گئی حد سے زیادہ بڑھا دی گئی، جبکہ آزاد چیف فنانشل آفیسر کی اسامی ختم کر کے اسے دیگر ذمہ داریوں میں ضم کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ چیف انٹرنل آڈیٹر اور کمپنی سیکریٹری سمیت اہم عہدے تاحال مستقل طور پر خالی ہیں، جبکہ کنٹریکٹ ملازمین کی مدت میں بار بار توسیع اور تنخواہوں میں اضافے کو بھی ناقص انسانی وسائل کی منصوبہ بندی قرار دیا گیا۔
آڈیٹر جنرل نے سفارش کی ہے کہ داخلی کنٹرول کو مضبوط بنایا جائے، مالی ریکارڈ اور مفاہمتی عمل کو بہتر کیا جائے، ریگولیٹری تقاضوں پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے، ادارہ جاتی اصلاحات تیز کی جائیں، چیف فنانشل آفیسر جیسے کلیدی عہدوں کی خودمختاری بحال کی جائے اور شفاف و میرٹ پر مبنی بھرتیوں کے ذریعے کمپنی میں احتساب اور گورننس کو مضبوط بنایا جائے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments