BR100 Increased By (0.34%)
BR30 Increased By (1.32%)
KSE100 Increased By (0.58%)
KSE30 Increased By (0.57%)
BAFL 59.31 Increased By ▲ 0.17 (0.29%)
BIPL 26.98 Increased By ▲ 0.36 (1.35%)
BOP 35.22 Increased By ▲ 0.10 (0.28%)
CNERGY 8.15 No Change ▼ 0.00 (0%)
DFML 20.10 Increased By ▲ 0.41 (2.08%)
DGKC 219.65 Increased By ▲ 1.03 (0.47%)
FABL 97.00 Decreased By ▼ -0.06 (-0.06%)
FCCL 57.60 Increased By ▲ 0.85 (1.5%)
FFL 17.97 Increased By ▲ 0.09 (0.5%)
GGL 23.50 Decreased By ▼ -0.16 (-0.68%)
HBL 295.89 Increased By ▲ 2.90 (0.99%)
HUBC 231.60 Decreased By ▼ -0.21 (-0.09%)
HUMNL 11.08 Decreased By ▼ -0.04 (-0.36%)
KEL 8.64 Increased By ▲ 0.22 (2.61%)
LOTCHEM 28.20 Decreased By ▼ -0.02 (-0.07%)
MLCF 105.65 Increased By ▲ 2.35 (2.27%)
OGDC 338.33 Increased By ▲ 0.16 (0.05%)
PAEL 44.65 Increased By ▲ 1.18 (2.71%)
PIBTL 18.85 Increased By ▲ 1.15 (6.5%)
PIOC 271.00 Increased By ▲ 1.00 (0.37%)
PPL 245.75 Increased By ▲ 1.43 (0.59%)
PRL 35.40 Decreased By ▼ -0.03 (-0.08%)
SNGP 122.28 Decreased By ▼ -3.38 (-2.69%)
SSGC 31.90 Decreased By ▼ -1.04 (-3.16%)
TELE 8.86 Decreased By ▼ -0.05 (-0.56%)
TPLP 10.89 Increased By ▲ 0.06 (0.55%)
TRG 65.71 Increased By ▲ 0.81 (1.25%)
UNITY 11.21 Increased By ▲ 0.18 (1.63%)
WTL 1.26 Increased By ▲ 0.01 (0.8%)
دنیا

ایران بحران پر اتحادیوں کے سوالات، مارکو روبیو مشرقِ وسطیٰ روانہ

  • چار ماہ طویل تنازع کے دوران خلیجی رہنماؤں نے امن کے لیے زور دیا تھا، تاہم ان میں سے کئی اس معاہدے کی شرائط سے حیران اور مایوس ہیں
شائع June 24, 2026 اپ ڈیٹ June 24, 2026 11:54am

امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو بدھ کو مشرقِ وسطیٰ کے دورے کا آغاز کر رہے ہیں تاکہ ان خلیجی اتحادیوں کو مطمئن کیا جاسکے جو ٹرمپ کے ایران معاہدے میں شامل رعایتوں، بالخصوص 300 ارب ڈالر کے مجوزہ فنڈ، کو ایران کے حق میں ضرورت سے زیادہ نرم رویہ قرار دے رہے ہیں۔

مارکو روبیو منگل کی شب ابوظہبی پہنچے جہاں سے وہ خلیجی ممالک کے تین روزہ دورے کا آغاز کر رہے ہیں۔ یہ ایران کے ساتھ چار ماہ جاری رہنے والی امریکہ۔اسرائیل جنگ کے خاتمے کے لیے گزشتہ ہفتے طے پانے والے معاہدے کے بعد ان کا پہلا اعلیٰ سطح سفارتی مشن ہے۔

ابوظہبی پہنچنے پر جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ معاہدے کے حوالے سے اتحادیوں کے خدشات کو دور کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو مارکو روبیو نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ بات یقیناً ان مباحثوں میں سامنے آئے گی۔

انہوں نے کہا کہ وہ ان امور پر بھی بات چیت کریں گے جو مفاہمتی یادداشت میں شامل نہیں ہیں۔

امریکی سفارت کاری کے سربراہ حالیہ ہفتوں میں ایران سے متعلق بات چیت سے بڑی حد تک غیر حاضر رہے ہیں اور ان کی جگہ نائب صدر جے ڈی وینس نے ویک اینڈ پر سوئٹزرلینڈ میں ایرانی ہم منصبوں کے ساتھ مذاکرات کے ایک دور کی قیادت کی۔

خطے کے دورے کے دوران روبیو کے ریمارکس کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ ایران کے سخت ناقد کے طور پر جانے جانے والے یہ رہنما اس معاہدے کو کیسے پیش کرتے ہیں، جسے کانگریس کے بہت سے ریپبلکن ارکان شکست تسلیم کرنے کے مترادف قرار دیتے ہیں۔

سابق امریکی سینیٹرز روبیو اور وینس دونوں کو ریپبلکن پارٹی کے حلقوں میں ٹرمپ کے ممکنہ جانشین کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور پارٹی کے اندرونی حلقے اور ابتدائی پولنگ اکثر اس مقابلے کو ان دونوں کے درمیان دو طرفہ مقابلہ قرار دیتی ہیں۔

روبیو کا مشن نازک نوعیت کا ہے: ایک طرف انہیں اس ابتدائی معاہدے کا دفاع کرنا ہے جس کی ٹرمپ بھرپور حمایت کرتے ہیں تو دوسری طرف انہیں اپنے خلیجی ہم منصبوں کے خدشات کا بھی معقول جواب دینا ہے جو اس معاہدے کے حوالے سے کافی محتاط ہیں۔

اگرچہ خلیجی رہنماؤں نے چار ماہ طویل تنازع کے دوران امن کے لیے زور دیا تھا لیکن ان میں سے کئی اس معاہدے کی شرائط سے حیران اور مایوس ہیں۔

امریکہ کے علاقائی اتحادیوں کو خاص طور پر اس بات کا خدشہ ہے کہ ایران 300 ارب ڈالر کے مجوزہ تعمیر نو کے فنڈ کو اپنی عسکری طاقت کی بحالی کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔

یہ معاہدہ تہران کی بیلسٹک میزائل صلاحیت کو بھی حل نہیں کرتا جو خلیجی ممالک کے لیے ایک بڑا خدشہ ہے کیونکہ جنگ کے دوران ان تمام ممالک کو ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

تہران نے اس بات پر بھی نشاندہی کی کہ خلیجی ممالک نے واشنگٹن کی جنگی کوششوں کے لیے مختلف لاجسٹک سہولیات فراہم کیں جبکہ وہ ان امریکی فوجی اڈوں کی میزبانی بھی کررہے تھے جو اس تنازع کا مرکز تھے۔

مارکو روبیو جن ممالک کا دورہ کر رہے ہیں ان میں متحدہ عرب امارات اور کویت شامل ہیں۔ دونوں ممالک اسٹریٹجک امریکی فوجی اڈوں کی میزبانی کرتے ہیں اور دونوں پر ہی ایرانی میزائلوں کی بوچھاڑ کی گئی تھی۔

گزشتہ ہفتے رائٹرز نے رپورٹ کیا کہ ایران نے کویت اور متحدہ عرب امارات سمیت خلیجی ممالک پر حملے کرنے کے لیے عراق میں خفیہ نئے سیل قائم کیے ہیں۔

رائٹرز کے مطابق ان سیلز نے اپریل اور مئی کے دوران تقریباً ایک ماہ کے عرصے میں کویت، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں مقامات کے خلاف کم از کم سات ڈرون حملے کیے۔

Comments

200 حروف