اصلاحات پر مبنی بجٹ اور مشرق وسطی امن معاہدہ مالی سال 2027 میں معاشی ترقی کا باعث بنیں گے، محمد اورنگزیب
- پاکستان مالی سال 2027 میں معاشی استحکام سے پائیدار اور برآمدات پر مبنی ترقی کی طرف قدم بڑھائے گا، وزیرِ خزانہ
وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان مالی سال 2027 میں معاشی استحکام سے پائیدار اور برآمدات پر مبنی ترقی کی طرف قدم بڑھانے کے لیے تیار ہے اور انہوں نے ملک کے معاشی منظرنامے کو بہتر بنانے کا سہرا وفاقی بجٹ اور پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے امریکہ ایران امن معاہدے کے سر باندھا۔
پاکستان کی اعلیٰ قیادت تین ماہ سے زائد عرصے سے جاری مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کو کامیابی سے ختم کرانے میں کامیاب رہی ہے۔ سینیٹر اورنگزیب نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں سروس لانگ مارچ (ایس ایل ایم) کی لسٹنگ کی تقریب سے آن لائن خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس تنازع کا حل ہمیں اگلے مالیاتی سال کے لحاظ سے ایک بہترین اور مثبت موقع فراہم کرتا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ جمعہ کے روز جو بجٹ پیش کیا گیا ہے، اس نے میکرو اکنامک استحکام سے پائیدار اور برآمدات پر مبنی معاشی ترقی کی طرف بڑھنے کے لیے ایک واضح سمت متعین کر دی ہے ۔
محمد اورنگزیب نے بجٹ تقریر میں اعلان کیا کہ ان کی حکومت نے مالی سال 2027 کے لیے ملک کی اقتصادی ترقی کا ہدف 4 فیصد مقرر کیا ہے، جبکہ ختم ہونے والے مالیاتی سال 2026 میں یہ شرح 3.7 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔
ملکی معیشت گزشتہ تین سالوں سے استحکام کے مرحلے میں تھی، کیونکہ مئی 2023 میں ریکارڈ کی گئی 38 فیصد مہنگائی نے، جو کہ چھ دہائیوں کی بلند ترین سطح تھی، ان مہنگائی کے سالوں کے دوران جی ڈی پی (مجموعی ملکی پیداوار) کی شرحِ نمو کو بری طرح متاثر کیا تھا۔
امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کا معاہدہ طے پا گیا ہے اور اس کی باقاعدہ دستخطی تقریب جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں ہوگی۔
وزیرِ خزانہ نے کہا کہ ہم نے اس (امریکی-ایران) تنازع کے گزشتہ تین مہینوں کے دوران مذاکرات کیے ہیں ، جس کا پہلا بڑا اثر جیو پولیٹیکل کشیدگی کو کم کرنے میں مدد کی صورت میں سامنے آیا۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ یہ (امن معاہدے کا) اعلان جیسے جیسے آگے بڑھے گا، انشاء اللہ ان دوسرے اور تیسرے درجے کے اثرات کو کم کرنے میں مدد ملے گی جن کا پہلے خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا۔
معلوم ہوا ہے کہ ان دوسرے اور تیسرے درجے کے اثرات کے تحت اگر یہ جنگ طویل عرصے تک برقرار رہتی تو ملکی اور عالمی معیشت کو شدید مہنگائی، کاروباری لاگت میں مزید اضافے، عالمی تجارت اور جہاز رانی کی آمدورفت میں مسلسل خلل اور معاشی ترقی میں رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ حالات کو مکمل معمول پر آنے میں کچھ وقت لگے گا۔ لیکن یہ (امن معاہدہ) ہمیں اگلے مالیاتی سال کے لیے ایک اچھا اور مثبت پہلو فراہم کرتا ہے۔
وزیرِ خزانہ نے یاد دلایا کہ سروس لانگ مارچ جو چینی اور پاکستانی کمپنیوں کا ایک مشترکہ منصوبہ ہے، کو کووڈ-19 کے دوران قائم کیا گیا تھا۔
ایس ایل ایم نے حال ہی میں پی ایس ایکس میں 7.78 ارب روپے مالیت کا دوسرا سب سے بڑا انیشل پبلک آفرنگ (آئی پی او ) پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کمپنی انشاء اللہ اگلے سال تک برآمدات میں 100 ملین ڈالر کا ہدف حاصل کرنے جا رہی ہے۔


Comments