BR100 Increased By (1.77%)
BR30 Increased By (1.96%)
KSE100 Increased By (1.59%)
KSE30 Increased By (1.65%)
BAFL 58.99 Increased By ▲ 1.14 (1.97%)
BIPL 25.64 Increased By ▲ 0.17 (0.67%)
BOP 34.61 Increased By ▲ 0.93 (2.76%)
CNERGY 8.08 No Change ▼ 0.00 (0%)
DFML 19.08 Increased By ▲ 0.06 (0.32%)
DGKC 206.32 Increased By ▲ 12.22 (6.3%)
FABL 91.07 Increased By ▲ 1.18 (1.31%)
FCCL 54.40 Increased By ▲ 2.26 (4.33%)
FFL 18.05 Increased By ▲ 0.04 (0.22%)
GGL 20.80 Increased By ▲ 0.13 (0.63%)
HBL 288.35 Increased By ▲ 4.43 (1.56%)
HUBC 219.59 Increased By ▲ 7.11 (3.35%)
HUMNL 11.07 Increased By ▲ 0.03 (0.27%)
KEL 8.05 Increased By ▲ 0.21 (2.68%)
LOTCHEM 28.77 Decreased By ▼ -0.19 (-0.66%)
MLCF 90.52 Increased By ▲ 4.01 (4.64%)
OGDC 317.99 Increased By ▲ 1.79 (0.57%)
PAEL 41.07 Increased By ▲ 1.11 (2.78%)
PIBTL 17.51 Increased By ▲ 0.24 (1.39%)
PIOC 278.98 Increased By ▲ 11.40 (4.26%)
PPL 225.84 Increased By ▲ 3.17 (1.42%)
PRL 34.63 Increased By ▲ 0.17 (0.49%)
SNGP 100.42 Increased By ▲ 1.33 (1.34%)
SSGC 26.97 Increased By ▲ 0.30 (1.12%)
TELE 8.93 Increased By ▲ 0.02 (0.22%)
TPLP 10.90 Decreased By ▼ -0.30 (-2.68%)
TRG 69.78 Decreased By ▼ -0.81 (-1.15%)
UNITY 11.52 Increased By ▲ 0.08 (0.7%)
WTL 1.27 No Change ▼ 0.00 (0%)
دنیا

لبنان: انخلاء کی وارننگ کے بعد جنوب میں اسرائیلی حملے

  • اسرائیلی فوج کی وارننگ میں رہائشیوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ فوراً اپنے گھروں کو خالی کریں اور زہرانی دریا کے شمال کی طرف منتقل ہو جائیں
شائع June 13, 2026 اپ ڈیٹ June 13, 2026 05:28pm

لبنان نے ہفتے کے روز ملک کے جنوبی حصے میں اسرائیلی حملوں کی اطلاع دی ہے، یہ حملے اس وقت سامنے آئے جب اسرائیلی فوج نے نبطیہ شہر سمیت 20 مقامات کے لیے انخلاء کی وارننگ جاری کی تھی، جس میں ممکنہ فضائی کارروائی سے قبل رہائشیوں کو علاقے خالی کرنے کی ہدایت کی گئی۔

سرکاری خبر رساں ادارے نیشنل نیوز ایجنسی (این این اے) کے مطابق اسرائیلی فضائی حملوں نے ان علاقوں کو نشانہ بنایا جو وارننگ کے دائرے میں شامل تھے، جن میں نبطیہ کے قریب واقع دیہات ریحان اور سجد بھی شامل ہیں۔

اسرائیلی فوج کی وارننگ میں شہریوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ فوراً اپنے گھروں کو خالی کریں اور زہرانی دریا کے شمال کی طرف منتقل ہو جائیں، جو جنوبی سرحد سے تقریباً 45 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

اسرائیلی فوج نے گزشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ دریا کے جنوب کے تمام علاقے ’’جنگی زون‘‘ تصور کیے جائیں گے، اور اس کے بعد سے ان علاقوں کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

این این اے نے جمعہ کی رات نبطیہ کے اوپر واقع علی طاہر کی پہاڑیوں کے قریب دھماکوں اور توپ خانے کی گولہ باری کی بھی اطلاع دی تھی۔

جمعہ کے روز حزب اللہ نے کہا کہ اس کے جنگجوؤں نے اسرائیلی افواج کا مقابلہ کیا ہے جو جنوبی لبنان کے علاقے مَجدل زون کی طرف پیش قدمی کر رہی تھیں۔ حزب اللہ اسرائیلی فوجیوں پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے، جو جنوبی لبنان میں داخل ہو چکے ہیں۔

اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ کا آغاز مارچ کے اوائل میں ہوا، جب ایران کی حمایت یافتہ اس تنظیم نے مشرقِ وسطیٰ کے تنازع میں لبنان کو اس وقت گھسیٹ لیا جب اس نے اسرائیل پر راکٹ فائر کیے، جس کا مقصد ایران کے سپریم لیڈر کی ہلاکت کا بدلہ لینا بتایا گیا تھا، جو امریکی-اسرائیلی حملوں میں مارے گئے تھے۔

اس کے بعد اسرائیل نے لبنان میں وسیع پیمانے پر فضائی حملے اور زمینی کارروائی شروع کی، جس کے نتیجے میں حکام کے مطابق 3,700 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

نہ اسرائیل اور نہ ہی حزب اللہ نے اپریل میں ہونے والی جنگ بندی کی پاسداری کی ہے، جبکہ اس ماہ واشنگٹن میں لبنانی اور اسرائیلی فریقین کے درمیان چوتھے دور کی براہِ راست بات چیت کے بعد اعلان کردہ مشروط جنگ بندی بھی لڑائی روکنے میں ناکام رہی ہے۔

حزب اللہ نے ان براہِ راست مذاکرات اور مشروط معاہدے کو مسترد کر دیا ہے، جس میں اس سے حملے روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے، تاہم اس میں اسرائیل کی جانب سے کارروائی بند کرنے یا اپنی افواج کے لبنان سے انخلا کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔

ایران اس بات پر اصرار کر رہا ہے کہ وسیع تر مشرقِ وسطیٰ جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والے کسی بھی معاہدے میں لبنان کو شامل کیا جانا چاہیے، جبکہ ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے جمعہ کے روز کہا کہ ایران کے ساتھ امن معاہدے میں ’’لبنان بھی شامل ہے‘‘۔

تاہم لبنان کی قیادت نے تہران پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ لبنان کو ایک ’’مذاکراتی پتے‘‘ کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

حزب اللہ کے رکنِ پارلیمان علی فیاض نے ہفتے کے روز کہا کہ لبنان کو ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے کسی بھی ایسے معاہدے سے فائدہ اٹھانا چاہیے جس میں لبنان شامل ہو۔

انہوں نے کہا، ”ہم چاہتے ہیں کہ لبنانی ریاست خود اپنے لیے مذاکرات کرے، اور کوئی بھی اس کردار سے دستبرداری کی تجویز نہیں دے رہا، تاہم ریاست کو اسرائیل کے سامنے دب جانے اور امریکی دباؤ کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کی پالیسی ترک کرنا ہوگی۔“

لبنان کے صدر جوزف عون نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ لبنان اس وقت ایک ’’فیصلہ کن آزمائش‘‘ سے گزر رہا ہے۔

انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ یا تو ملک کے عوام ایک ایسے خودمختار ریاستی نظام کے گرد متحد ہو جائیں جو اسلحے پر مکمل اجارہ داری رکھتا ہو، قانون کی بالادستی قائم کرے اور شہریوں کو ان کی وابستگی یا حیثیت سے قطع نظر تحفظ فراہم کرے، یا پھر ملک بدستور مسلح گروہوں (ملیشیا) کی منطق کے زیرِ اثر یرغمال بنا رہے گا۔

Comments

200 حروف