BR100 Decreased By (-0.38%)
BR30 Decreased By (-0.46%)
KSE100 Decreased By (-0.42%)
KSE30 Decreased By (-0.52%)
BAFL 55.50 Decreased By ▼ -0.70 (-1.25%)
BIPL 26.90 Increased By ▲ 0.13 (0.49%)
BOP 32.64 Decreased By ▼ -0.34 (-1.03%)
CNERGY 10.29 Increased By ▲ 0.19 (1.88%)
DFML 17.81 Increased By ▲ 0.09 (0.51%)
DGKC 195.18 Decreased By ▼ -1.49 (-0.76%)
FABL 98.68 Decreased By ▼ -0.30 (-0.3%)
FCCL 51.74 Increased By ▲ 0.49 (0.96%)
FFL 16.49 Increased By ▲ 0.31 (1.92%)
GGL 25.06 Increased By ▲ 0.07 (0.28%)
HBL 292.00 Decreased By ▼ -3.49 (-1.18%)
HUBC 213.97 Decreased By ▼ -0.21 (-0.1%)
HUMNL 10.45 Increased By ▲ 0.09 (0.87%)
KEL 7.14 Increased By ▲ 0.08 (1.13%)
LOTCHEM 26.81 Decreased By ▼ -2.31 (-7.93%)
MLCF 88.17 Decreased By ▼ -0.65 (-0.73%)
OGDC 310.38 Decreased By ▼ -1.57 (-0.5%)
PAEL 40.85 Decreased By ▼ -0.14 (-0.34%)
PIBTL 15.85 Decreased By ▼ -0.11 (-0.69%)
PIOC 283.69 Increased By ▲ 0.85 (0.3%)
PPL 211.10 Decreased By ▼ -1.56 (-0.73%)
PRL 53.14 Increased By ▲ 0.60 (1.14%)
SNGP 98.25 Decreased By ▼ -1.11 (-1.12%)
SSGC 24.85 Decreased By ▼ -0.25 (-1%)
TELE 8.29 Decreased By ▼ -0.03 (-0.36%)
TPLP 12.97 Decreased By ▼ -0.25 (-1.89%)
TRG 58.97 Increased By ▲ 2.08 (3.66%)
UNITY 9.88 Decreased By ▼ -0.06 (-0.6%)
WTL 1.23 Increased By ▲ 0.01 (0.82%)
پاکستان

عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود عوام کو سبسڈی فراہم کر رہے ہیں، وزیر خزانہ

  • حالیہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے صنعتی لاگت اور قومی معیشت پر اثرات پڑے ہیں، محمد اورنگزیب
شائع اپ ڈیٹ

وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت عالمی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے کے باوجود عوام کو سبسڈی فراہم کر رہی ہے۔

وہ چیئرمین یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت سینیٹ اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے باعث حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کے لیے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) میں کٹوتی کی۔

انہوں نے پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر محسن عزیز کی جانب سے پیش کیے گئے توجہ دلاؤ نوٹس کے جواب میں بتایا کہ حالیہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے صنعتی لاگت اور قومی معیشت پر اثرات پڑے ہیں۔

وزیر خزانہ کے مطابق حکومت اب تک ہدف شدہ ایندھن سبسڈی پروگرام کے تحت 5.4 ارب روپے تقسیم کر چکی ہے جبکہ چھوٹے کسانوں کو 4.61 ارب روپے کی معاونت بھی فراہم کی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں حکومت نے عمومی سبسڈی دی تھی تاہم بعد ازاں اسے ہدف شدہ نظام میں تبدیل کیا گیا تاکہ موٹرسائیکل مالکان، پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے والے افراد، ٹرانسپورٹ آپریٹرز اور چھوٹے کسان اس سے براہ راست مستفید ہو سکیں۔

وزیر خزانہ کے مطابق تقریباً 8 لاکھ موٹرسائیکل مالکان اس اسکیم سے فائدہ اٹھا چکے ہیں جبکہ مسافر اور سامان بردار گاڑیوں کے مالکان کو 35 ہزار سے 1 لاکھ روپے تک کی مالی معاونت فراہم کی گئی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پہلے مرحلے میں ایک لاکھ پانچ ہزار سے زائد گاڑی مالکان میں 3.5 ارب روپے تقسیم کیے گئے جبکہ دوسرے مرحلے میں 65 ہزار سے زائد مستحقین کو 1.9 ارب روپے فراہم کیے گئے۔ یہ رقوم گاڑیوں کی رجسٹریشن کے ڈیٹا کی بنیاد پر شفاف تصدیقی نظام کے ذریعے تقسیم کی گئیں۔

مجموعی طور پر حکومت نے بڑھتی ہوئی ایندھن قیمتوں کے اثرات کم کرنے کے لیے 129 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کی ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی معیشت اس وقت مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے باعث دباؤ کا شکار ہے اور موجودہ صورتحال میں معاشی استحکام کے لیے سخت فیصلے ناگزیر ہیں۔

وزیر خزانہ نے یہ بھی تصدیق کی کہ آئندہ مالی سال کا اقتصادی سروے آج (جمعرات) پیش کیا جائے گا۔

دوسری جانب چیئرمین سینیٹ نے ایوان کو بتایا کہ سینیٹ سیکرٹریٹ نے کفایت شعاری اور اخراجات میں کمی کے جامع پروگرام کے تحت 1.436 ارب روپے قومی خزانے میں واپس جمع کرائے ہیں، جو ایوان کے بجٹ کا تقریباً 15.9 فیصد بنتا ہے۔ یہ بچت مالیاتی ڈویژن کے مقرر کردہ ہدف سے تقریباً پانچ گنا زیادہ ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

Comments

200 حروف