سابق فاٹا اور پاٹا کے علاقوں کے تاجروں کا ٹیکسوں کی واپسی کا مطالبہ
- ترقیاتی منصوبوں اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے بغیر ٹیکسز کا نفاذ سراسر ناانصافی ہے، انعام اللہ، عبدالرحیم ودیگر
مالاکنڈ ڈویژن اور نئے شامل ہونے والے قبائلی اضلاع کے تجارتی رہنماؤں نے سابق فاٹا اور پاٹا کے علاقوں میں کاروباری سرگرمیوں پر عائد ٹیکسز کو فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
مختلف چیمبرز آف کامرس اور تاجر تنظیموں کے صدور بشمول انعام اللہ، عبدالرحیم، نور محمد، امیر محمد، حاجی لال شاہ اور محبوب اعظم نے ایک مشترکہ بیان میں خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی کے موقف کی بھرپور حمایت کی، جنہوں نے حالیہ پریس کانفرنس میں تاجروں کے مسائل اور مطالبات کے حق میں آواز اٹھائی تھی۔
تاجر رہنما عبدالرحیم نے کہا کہ ریاست نے ان پسماندہ علاقوں کی ترقی اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے جو وعدے کیے تھے وہ تاحال ادھورے ہیں۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ ان اضلاع کو دیگر ترقی یافتہ علاقوں کے برابر لانے کے لیے ایک ہزار ارب روپے کی سرمایہ کاری کا اپنا عہد پورا کرے۔
ترقیاتی منصوبوں اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے بغیر ٹیکسز کا نفاذ سراسر ناانصافی ہے۔ تاجروں نے خبردار کیا کہ ایف بی آر کی موجودہ پالیسیوں اور بڑھتے ہوئے ٹیکسوں سے معاشی سرگرمیاں شدید متاثر ہو رہی ہیں۔ اگر یہ ٹیکس واپس نہ لیے گئے تو تاجر برادری اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے سخت لائحہ عمل اختیار کرنے پر مجبور ہو گی۔


Comments