بحیرہ عرب میں بڑھتا درجہ حرارت، وفاقی وزیر کا فوری اقدامات پر زور
- حالیہ ہفتوں میں شمالی بحیرۂ عرب میں سمندر کی سطح کا درجۂ حرارت معمول سے بہت زیادہ رہا ہے، جنید انور
وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے جمعہ کو بحیرہ عرب میں انڈر واٹر ہیٹ ایمرجنسی سے متعلق خبردار کیا ہے اور ساحلی آبادیوں، ماہی گیری (فشریز) اور بحری انفرااسٹرکچر کے تحفظ کے لیے فوری ماحولیاتی اقدامات پر زور دیا ہے۔
کلائمیٹ ڈے کے موقع پر جاری اپنے بیان میں وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ قدرت، سمندروں کی گہرائیوں سے لے کر پہاڑوں کی بلندیوں تک، موسمیاتی بحران کے لیے بے شمار پائیدار حل فراہم کرتی ہے۔
پریس ریلیز کے مطابق انہوں نے ماحولیاتی نظام کے تحفظ اور دنیا بھر میں ماحولیاتی لچک و پائیداری کو مضبوط بنانے کے لیے فوری اقدامات پر زور دیا۔
حالیہ ہفتوں کے دوران شمالی بحیرۂ عرب میں سمندر کی سطح کا درجۂ حرارت مسلسل معمول سے بہت زیادہ رہا ہے، جو خطے کے 30 فیصد سے زائد حصے میں 90ویں پرسنٹائل سے تجاوز کر چکا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ سائنسدان اس صورتحال کو ایک غیر معمولی سمندری ہیٹ ویو قرار دے رہے ہیں، جو پہلے ہی پاکستان کے ساحلی علاقوں میں موسمیاتی خطرات کو بڑھا رہی ہے اور آنے والے مون سون کے انداز کو تبدیل کر رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پانی سائیکلونز کی تشکیل اور ان کی شدت میں اضافے کا ایک معروف عنصر ہے، اور اسی تناظر میں انہوں نے سمندری ہیٹ ویو کو شمالی بحیرۂ عرب میں ممکنہ طور پر بڑھتی ہوئی طوفانی سرگرمیوں سے جوڑا۔
چوہدری انور نے خبردار کیا کہ طوفانوں کی تعداد اور شدت میں اضافہ بندرگاہوں، فشنگ فلیٹس اور ساحلی انفرااسٹرکچر پر اضافی دباؤ ڈالے گا اور انہوں نے حکومت اور صنعت دونوں سطح پر پیشگی تیاریوں کو مزید بہتر بنانے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ موسمیاتی ریکارڈز 1980ء کی دہائی سے درجہ حرارت میں اضافے کا رجحان (وارمنگ ٹرینڈ) ظاہر کرتے ہیں اور مون سون کی نمی کے مغرب کی جانب منتقل ہونے کی نشاندہی کرتے ہیں، جس سے اگست کے وسط اور ستمبر کے وسط کے درمیان جنوبی پاکستان، بالخصوص کراچی اور سندھ میں معمول سے زیادہ تیز بارشوں کا امکان بڑھ سکتا ہے۔
انور چوہدری نے کہا کہ زمین تیزی سے بڑھتے ہوئے شدید موسمیاتی تغیرات کے ذریعے فوری انتباہی سگنلز بھیج رہی ہے۔
انہوں نے بڑھتی ہوئی ہیٹ ویوز، طویل خشک سالی اور تباہ کن سیلابوں کی طرف بھی اشارہ کیا جو کہ عالمی ماحولیاتی نظام میں تبدیلی کا واضح ثبوت ہیں۔
یہ واقعات دنیا بھر میں آبادیوں کے بڑھتے ہوئے خطرات اور فوری اقدامات کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں بڑھتے ہوئے ماحولیاتی خطرات سے آئندہ نسلوں کے تحفظ اور پائیدار ترقیاتی پالیسیوں کو یقینی بنانے کے لیے اجتماعی طور پر اقدامات کرنا ہوں گے۔


Comments