ٹرمپ کا ایران ڈیل پر جلد فیصلے کا عندیہ، آبنائے ہرمز کھولنے پر زور
- امریکی صدر کا کہنا ہے کہ حتمی فیصلہ جمعے کو کریں گے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ جمعہ کو ایران کے ساتھ ہونے والے امن معاہدے پر حتمی فیصلہ کریں گے، جس کا مقصد موجودہ جنگ بندی میں توسیع اور تیل و گیس کی ترسیل کے لیے آبنائے ہرمز کھولنا اور ایران کی جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت ختم کرنا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ”میں اب وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں ملاقات کر رہا ہوں تاکہ حتمی فیصلہ کیا جا سکے۔“ (سچویشن روم وہ مرکزی کمرہ ہے جہاں امریکہ عالمی بحرانوں کی نگرانی کرتا ہے۔)
ذرائع کے مطابق ایران کے ساتھ ایک معاہدے پر بات چیت مکمل ہونے کے قریب ہے، جس کے تحت اپریل کے اوائل سے نافذ جنگ بندی میں 60 دن کی توسیع کی جا سکے گی، تاکہ ہرمز کے ذریعے تیل و گیس کی ترسیل دوبارہ بحال ہو سکے اور ساتھ ہی ایران کے جوہری پروگرام جیسے پیچیدہ مسائل پر مذاکرات جاری رہیں۔
ٹرمپ نے واضح کیا کہ ”ایران کو ماننا ہوگا کہ وہ کبھی بھی جوہری ہتھیار یا بم نہیں بنائیں گے۔ آبنائے ہرمز فوراً کھلا ہونا چاہیے، بغیر کسی ٹول یا پابندی کے، دونوں سمتوں میں آزادانہ بحری آمدورفت کے لیے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ جوہری مواد کو امریکہ کی جانب سے ’کھود کر‘ ختم کیا جائے گا۔“
ایران کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا، تاہم اس سے قبل ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے اس معاہدے پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا تھا۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا، ”ہم ضمانتوں اور باتوں پر اعتماد نہیں کرتے، صرف عملی اقدامات ہی معیار ہیں۔ دوسری جانب جب تک کوئی اقدام نہیں ہوتا، ہم بھی کوئی قدم نہیں اٹھائیں گے۔“
قالیباف نے مزید کہا، ”کسی بھی معاہدے کا فاتح وہی ہوتا ہے جو اگلے دن جنگ کے لیے زیادہ بہتر تیاری رکھتا ہو۔“
ہزاروں ہلاکتیں، عالمی معیشت متاثر
28 فروری کو شروع ہونے والی امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر ایران اور لبنان میں ہیں۔ اس تنازع کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے سبب عالمی معیشت بھی دباؤ کا شکار ہوئی ہے، کیونکہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی مؤثر بندش نے تیل کی ترسیل متاثر کی۔
جمعہ کے روز ممکنہ معاہدے کی خبروں کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی اور عالمی اسٹاک مارکیٹس میں اضافہ دیکھا گیا۔
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پوسٹ میں ٹرمپ نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں ہٹائی جائیں گی اور وہاں پھنسے ہوئے بحری جہاز واپس اپنے ممالک کی طرف روانہ ہو سکیں گے۔ انہوں نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ ”اپنی بیویوں، شوہر، والدین اور اہلِ خانہ کو میری طرف سے سلام کہیں، آپ کے پسندیدہ صدر کی طرف سے!“
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ” آئندہ نوٹس تک کوئی رقم کا تبادلہ نہیں ہوگا“، جو ممکنہ طور پر ایران کے ان مطالبات کی طرف اشارہ ہے جن میں آبنائے ہرمز میں ٹول، جنگی نقصان کا معاوضہ، یا بیرون ملک منجمد ایرانی اثاثوں کی واپسی شامل ہے۔
دوسری جانب قازقستان نے عندیہ دیا ہے کہ اگر امریکہ ایران کے ساتھ معاہدہ کر لیتا ہے تو وہ ایران کے اس ذخیرے کو اپنے ہاں منتقل کرنے کے لیے تیار ہے جو افزودہ یورینیم پر مشتمل ہے اور جو ہتھیار بنانے کے درجے کے قریب ہے۔
اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے کے سربراہ رافیل گروسی نے فنانشل ٹائمز کو بتایا کہ قازقستان کے پاس پہلے ہی ایک بین الاقوامی طور پر کنٹرول شدہ کم افزودہ یورینیم کا ذخیرہ موجود ہے، جو آئی اے ای اے کے رکن ممالک کو جوہری توانائی کے لیے ایندھن کی فراہمی یقینی بناتا ہے۔


Comments