ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار کا امریکہ کو انتباہ: دوبارہ حملوں پر "کچل دینے والا" جواب دیا جائے گا
- یہ انتباہ انہوں نے پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے تہران میں ملاقات کے بعد جاری کیا، جو جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں میں ایک اہم کردار ادا کر رہے ہیں
ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار نے ہفتے کے روز خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دوبارہ ایران پر حملے شروع کیے تو ”کچل دینے والے“ جواب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ میں چھ ہفتے کے جنگ بندی وقفے کے دوران ایران نے اپنی مسلح افواج کو مزید مضبوط اور منظم کیا ہے۔
محمد باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ”ہمارے مسلح افواج نے جنگ بندی کے دوران خود کو اس انداز میں ازسرنو منظم کیا ہے کہ اگر ٹرمپ نے ایک اور حماقت کرتے ہوئے جنگ دوبارہ شروع کی تو یہ امریکہ کے لیے پہلے دن کے مقابلے میں کہیں زیادہ سخت اور تلخ ثابت ہوگی۔“
یہ انتباہ انہوں نے پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے تہران میں ملاقات کے بعد جاری کیا، جو جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں میں ایک اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر جمعہ کو تہران پہنچے تھے، جہاں انہوں نے ایرانی حکام سے ملاقاتیں کیں۔ اس دوران ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جاری بیانات کے تناظر میں نازک جنگ بندی کے خاتمے کے خدشات بھی زیر بحث آئے، جو 8 اپریل سے کشیدگی میں وقفہ ڈالے ہوئے ہے۔
یہ جنگ 28 فروری کو اس وقت شروع ہوئی جب امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملے کیے، جس کے جواب میں تہران نے خطے میں میزائل اور ڈرون حملوں کے ذریعے جوابی کارروائی کی۔
ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جمعہ کی رات دیر گئے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے بھی ملاقات کی، جس میں جنگ روکنے اور مزید کشیدگی سے بچنے کے لیے سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایران کے صدارتی دفتر نے بھی ہفتے کے روز تصاویر جاری کیں جن میں عاصم منیر صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کرتے دکھائی دیتے ہیں، اس سے قبل کہ وہ عراقچی سے دوسری ملاقات کریں۔
سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی (اریب) کے مطابق یہ ملاقات وزارت خارجہ میں ایک ”تفصیلی اور طویل“ قانونی و سفارتی گفتگو کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی ترکی، عراق اور قطر کے اپنے ہم منصبوں سے ٹیلیفونک رابطے کیے، جن میں خطے میں کشیدگی کم کرنے اور جنگ کے خاتمے کی کوششوں پر بات چیت کی گئی۔
ایرانی خبر رساں ادارے آئی آر این اے(ارنا) کے مطابق عباس عراقچی نے عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسیدی سے بھی گفتگو کی جس میں جاری سفارتی کوششوں اور کشیدگی میں کمی کے رجحانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
عمان طویل عرصے سے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کرتا رہا ہے، جبکہ ایران نے پاکستان کو بھی اس تنازع میں ثالثی کے کردار کے طور پر پیش کیا ہے، جس میں ایران، امریکا اور اسرائیل شامل ہیں۔
ایرانی قیادت نے مذاکرات کے دوران واشنگٹن پر “غیر معمولی اور حد سے زیادہ مطالبات” عائد کرنے کا الزام لگایا ہے، اور وہ امریکا کی جانب سے پیش کی گئی تازہ تجاویز کا جائزہ لے رہی ہے۔
گزشتہ ماہ اسلام آباد کی میزبانی میں ہونے والے براہِ راست مذاکرات کا ایک دور اور اس کے علاوہ پسِ پردہ کئی ہفتوں پر محیط سفارتی رابطے بھی اب تک اس تنازع کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے ہیں۔


Comments