ایف سی اے، ڈسکوز اور کے الیکٹرک صارفین سے مزید 16 ارب روپے وصولی کی تیاری
- یہ ایڈجسٹمنٹ اپریل کے دوران ایندھن کی لاگت میں تبدیلیوں کے باعث طلب کی گئی ہے
حکومت نے ماہانہ فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) کی مد میں اپریل 2026 کے لیے 1.7251 روپے فی یونٹ اضافے کے ذریعے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) اور کے الیکٹرک کے صارفین سے اضافی 16 ارب روپے وصول کرنے کی تیاری کر لی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی(نیپرا) نے اس سلسلے میں (سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی گارنٹی لمیٹڈ(سی پی پی اے-جی) کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت 2 جون 2026 کو مقرر کر دی ہے۔
یہ ایڈجسٹمنٹ اپریل کے دوران ایندھن کی لاگت میں تبدیلیوں کے باعث طلب کی گئی ہے۔ سی پی پی اے-جی کی جانب سے جمع کرائے گئے اعداد و شمار کے مطابق اپریل 2026 میں مجموعی بجلی پیداوار 9,499 گیگا واٹ آور رہی، جس پر مجموعی لاگت 89.51 ارب روپے آئی۔ اس طرح فی یونٹ اوسط فیول لاگت 9.4233 روپے رہی۔
اپریل 2026 میں پن بجلی کی پیداوار تقریباً 10 فیصد کمی کے بعد 2,079 گیگا واٹ آور رہی، جو مجموعی پیداوار کا 21.89 فیصد بنتی ہے، جبکہ اپریل 2025 میں یہ 2,306 گیگا واٹ آور یا 21.94 فیصد تھی۔
آر ایل این جی سے بجلی کی پیداوار میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی اور یہ گزشتہ سال کے اسی عرصے کے 2,157 گیگا واٹ آور کے مقابلے میں کم ہو کر صرف 380 گیگا واٹ آور رہ گئی، جو 82 فیصد کمی ظاہر کرتی ہے۔ اس کی بڑی وجہ آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد ایل این جی سپلائی میں تعطل بتائی گئی ہے۔ تاہم حکومت نے صارفین کے لیے بجلی نرخ قابو میں رکھنے کے لیے محدود مقامی گیس آر ایل این جی پاور پلانٹس کو فراہم کی۔
مجموعی بجلی پیداوار بھی اپریل 2025 کے 10,196 گیگا واٹ آور کے مقابلے میں کم ہو کر 9,499 گیگا واٹ آور رہ گئی۔
بجلی پیداوار کے ذرائع میں پن بجلی اور جوہری توانائی کا سب سے زیادہ حصہ رہا، جو بالترتیب 21.89 فیصد اور 22.07 فیصد تھا۔ اس کے بعد مقامی کوئلہ 15.61 فیصد، درآمدی کوئلہ 14.14 فیصد اور گیس 10.19 فیصد کے ساتھ نمایاں ذرائع رہے۔ آر ایل این جی کا حصہ 4 فیصد رہا، جبکہ فرنس آئل، ہوا، بیگاس، سولر اور ایران سے درآمد کی جانے والی بجلی کا حصہ نسبتاً کم رہا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments