ایران ٹرانزٹ تجارت کیلئے مقرر 6 پوائنٹس تاحال غیر فعال
- نئے نامزد کردہ پوائنٹس کا بنیادی مقصد اب تک حاصل نہیں ہو سکا، حکام
پاکستانی حکومت کی جانب سے ایران اور اس کے تجارتی شراکت داروں کے درمیان پاکستانی بندرگاہوں کے ذریعے ٹرانزٹ تجارت کو سہولت فراہم کرنے کیلئے مقرر کیے گئے چھ مخصوص پوائنٹس تاحال فعال نہیں ہو سکے۔
نجی شعبے اور حکام کے ساتھ پس منظر میں ہونے والی بات چیت کے مطابق، نئے نامزد کردہ پوائنٹس کا بنیادی مقصد اب تک حاصل نہیں ہو سکا کیونکہ دیگر ممالک سے پاکستانی بندرگاہوں پر آنے والے ہزاروں کنٹینرز ایران منتقل نہیں کیے جا سکے۔
25 اپریل 2026 کو وزارت تجارت نے ایس آر او 691(1) 2026 جاری کیا تھا، جس کا عنوان پاکستان کے ذریعے سامان کی ٹرانزٹ نقل و حرکت آرڈر 2026 تھا۔
اس آرڈر کے تحت سامان کی ترسیل کیلئے درج ذیل راستے مقرر کیے گئے تھے:(i) گوادر-گبد،(ii) کراچی/پورٹ قاسم-لیاری-اورماڑہ-پسنی-گبد،(iii) کراچی/پورٹ قاسم-خضدار-دالبندین-تفتان،(iv) گوادر-تربت-ہوشاب-پنجگور-ناگ-بسیمہ-خضدار-کوئٹہ/لک پاس-دالبندین-نوکنڈی-تفتان،(v) گوادر-لیاری-خضدار-کوئٹہ/لک پاس-دالبندین-نوکنڈی-تفتان،(vi) کراچی/پورٹ قاسم-گوادر-گبد۔
اس نوٹیفکیشن کے تحت کارگو کی نقل و حمل کو کسٹمز ایکٹ 1969، اس کے تحت بنائے گئے قواعد، اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے مقرر کردہ طریقہ کار کے مطابق منظم کیا جانا تھا۔
ٹرانزٹ سے مراد پاکستان کی سرزمین کے ذریعے سامان کی ایسی نقل و حرکت ہے جس میں پاکستان سے گزرنا مکمل سفر کا صرف ایک حصہ ہو، جبکہ سفر کا آغاز اور اختتام پاکستان کی سرحدوں سے باہر ہو۔
نجی شعبے کے مطابق ایرانی بندرگاہوں کی بندش کے باعث شپنگ لائنز ایرانی سامان سے بھرے کنٹینرز پاکستانی بندرگاہوں پر اتار کر واپس جا چکی ہیں، جبکہ ایران کی درخواست پر نئی انتظامات کیے گئے تھے، تاہم صورتحال اب بھی جمود کا شکار ہے۔
ایران کے ذریعے وسطی ایشیا کیلئے پاکستان کی برآمدات گزشتہ چھ ماہ سے جاری ہیں۔
مارچ 2026 میں پاکستان نے ایران کو خوراک اور ادویات سمیت غیر پابندی شدہ اشیا کی برآمد کی اجازت دی تھی تاکہ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے باعث بڑھتی طلب اور ایران کی مینوفیکچرنگ تنصیبات و بندرگاہوں کو پہنچنے والے نقصان کے اثرات کم کیے جا سکیں۔
ایک ذریعے کے مطابق پاکستان نے تین ماہ کیلئے غیر ممنوعہ اشیا کی برآمد کی اجازت دی تھی اور اس کا ڈیٹا کسٹمز کو موصول ہو رہا ہے، تاہم اس کے حتمی اثرات کا جائزہ تین ماہ بعد لیا جائے گا۔
پاکستان کی رسمی تجارتی ذرائع سے ایران کو برآمدات 1999 کے بعد کم ہو کر سرکاری اعداد و شمار میں تقریباً صفر ہو گئی تھیں۔ کئی دہائیوں بعد پہلی بار یہ برآمدات فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے سرکاری تجارتی ڈیٹا میں ظاہر ہوں گی۔
پاکستان اور ایران نے 2008 میں سڑک کے ذریعے نقل و حمل کا معاہدہ کیا تھا، جس کے تحت وسطی ایشیا کیلئے ٹرانزٹ سہولت بھی شامل تھی، تاہم افغانستان کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہونے اور راہداری بند ہونے کے بعد پاکستان نے ایران کے ذریعے اس نظام کو فعال بنایا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments