حکومت کا بجٹ میں اے آئی پر مبنی ٹیکس نفاذ اور ڈیجیٹل نگرانی اصلاحات پر غور
- ایف بی آر نے جعلی ٹیکس ڈیٹا کی نشاندہی، ٹیکس چوری کی روک تھام اور نظام کو جدید بنانے کے لیے اے آئی اور ڈیجیٹل سسٹمز متعارف کرانے کی تجویز دے دی
- حکام کے مطابق اصلاحات کو کاروبار دوست اور شفاف انداز میں نافذ کیا جائے گا
ایک اعلامیے کے مطابق حکومت آئندہ مالیاتی بل میں ٹیکس چوری کی روک تھام، ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے اور محصولات کی وصولی بہتر بنانے کے لیے ڈیجیٹل نگرانی کے نظام اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی ٹیکس نفاذ اصلاحات متعارف کرانے پر غور کر رہی ہے۔
سرکاری بیان کے مطابق ان تجاویز کا جائزہ بدھ کو وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد چیمہ کی زیر صدارت ہونے والے اعلیٰ سطح اجلاس میں لیا گیا۔
اجلاس میں وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو راشد محمود لنگڑیال، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان سمیت اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
بریفنگ کے دوران فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے حکام نے ٹیکس کم ظاہر کرنے، گوشوارے جمع نہ کرانے، کم مالیت کی انوائسنگ، ٹیکس چوری اور اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے متعدد مجوزہ اقدامات پیش کیے۔
اجلاس میں جن اہم تجاویز پر غور کیا گیا ان میں ڈیجیٹل نگرانی کے نظام اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی ایسے سسٹمز شامل تھے جو ٹیکس گوشواروں میں غلط معلومات کی نشاندہی کر سکیں اور ٹیکس کم ظاہر کرنے یا ٹیکس چوری کے خلاف نگرانی کا عمل مؤثر بنا سکیں۔
شرکا نے کسٹمز حکام کی جانب سے ضبط شدہ سامان کی فروخت کے لیے ای آکشن سسٹم متعارف کرانے کی تجویز کا بھی جائزہ لیا، جس کا مقصد سامان کی نیلامی کے عمل میں شفافیت اور کارکردگی بہتر بنانا ہے۔
احد چیمہ نے کہا کہ حکومت ٹیکس نفاذ اصلاحات کو آگے بڑھانا چاہتی ہے، تاہم اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ معاشی سرگرمیاں متاثر نہ ہوں اور کاروباری طبقے کے لیے مشکلات پیدا نہ ہوں۔ انہوں نے کم سے کم انسانی مداخلت پر مبنی ٹیکس نظام کی اہمیت پر زور دیا۔
اجلاس کے شرکا نے اتفاق کیا کہ ٹیکنالوجی پر مبنی اور ڈیجیٹل خودکار نظام شفافیت، دستاویزی عمل اور ٹیکس نفاذ کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں، جبکہ کاروبار دوست ماحول بھی برقرار رکھا جا سکتا ہے۔
وفاقی وزیر نے ایف بی آر کو ہدایت کی کہ مجوزہ اقدامات کو مزید بہتر بنایا جائے اور یہ یقینی بنایا جائے کہ اصلاحات قابلِ عمل، ٹیکنالوجی پر مبنی اور مؤثر نتائج دینے کی صلاحیت رکھتی ہوں۔
انہوں نے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے، محصولات میں بہتری، شفافیت کے فروغ اور ٹیکس انتظامی نظام کو جدید بنانے کے حکومتی عزم کا اعادہ بھی کیا تاکہ پائیدار معاشی ترقی اور مالی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔


Comments