اسٹاک ایکسچینج میں مندی، 100 انڈیکس 600 پوائنٹس سے زیادہ گرگیا
- کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 170,506.31 پوائنٹس پر بند
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں پیر کو فروخت کا دباؤ دیکھنے میں آیا جہاں مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث بینچ مارک 100 انڈیکس 600 سے زائد پوائنٹس کی کمی کے ساتھ بند ہوا۔
تفصیلات کے مطابق اسٹاک مارکیٹ کا آغاز مندی کے ساتھ ہوا، ابتدائی اوقات میں ہی انڈیکس میں تیزی سے گراوٹ دیکھی گئی جس کے دوران انڈیکس 169,583.44 کی نچلی سطح تک گر گیا، بعد ازاں سرمایہ کاروں کی جانب سے خریداری میں دلچسپی ظاہر کی گئی جس کی بدولت صبح کے آخری پہر اور دوپہر کے ابتدائی سیشنز میں بینچ مارک انڈیکس کو اپنے نقصانات پر قابو پانے میں مدد ملی۔
دوپہر کے قریب بحالی کی لہر مزید مضبوط ہوئی جس نے انڈیکس کو 171,304.10 کی بلند ترین سطح تک پہنچا دیا۔ تاہم اس بہتری کے باوجود مارکیٹ اپنے اضافے کو برقرار رکھنے میں ناکام رہی کیونکہ سیشن کے آخری لمحات میں فروخت کے دباؤ نے بحالی کے زیادہ تر اثرات کو ختم کردیا۔
کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 609.51 پوائنٹس یا 0.36 فیصد کی کمی سے 170,506.31 پوائنٹس پر بند ہوا۔
یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے اسٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی دیکھی گئی جہاں بینچ مارک 100 انڈیکس میں 5 فیصد یا 8,121.64 پوائنٹس کا اضافہ ہوا۔ یہ بہتری امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ امن معاہدے سے متعلق مثبت سفارتی صورتحال کے باعث سامنے آئی جس نے ہفتوں سے جاری جغرافیائی سیاسی غیر یقینی کے بعد سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کیا۔
ہفتے کے آغاز پر بینچ مارک 100 انڈیکس 162,994.17 پوائنٹس پر تھا جو اختتام تک 171,115.81 پوائنٹس پر بند ہوا۔
عالمی سطح پر پیر کو ایشیائی منڈیوں میں امریکی ڈالر کی قدر میں اضافہ دیکھا گیا۔ اس کی وجہ ان اشاروں کو قرار دیا جا رہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہو چکے ہیں جس کے نتیجے میں اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز تقریباً بند ہے اور تیل کی قیمتیں مسلسل اوپر جارہی ہیں۔
امریکی اسٹاک فیوچرز میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا جبکہ ایشیا میں مصنوعی ذہانت سے وابستہ چند کمپنیوں کے حصص میں اضافے نے سیول اور مین لینڈ چائنا (چین) کی اسٹاک مارکیٹوں کو اوپر اٹھا دیا۔
اس ہفتے جن کمپنیوں کے مالیاتی نتائج سامنے آنے والے ہیں، ان میں ٹیک نیٹ ورکنگ آلات بنانے والی فرم سسکو اور سیمی کنڈکٹر آلات بنانے والی کمپنی اپلائیڈ میٹریلز شامل ہیں۔ بڑی کمپنیوں جیسے این ویڈیا اور وال مارٹ کے نتائج رواں ماہ کے آخر میں متوقع ہیں۔
ادھر جاپان کا نکی انڈیکس گزشتہ تمام اضافہ گنواتے ہوئے 0.36 فیصد گر گیا، جبکہ جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس 4 فیصد بڑھ گیا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی امن مذاکرات کی تجویز پر ایران کے ردعمل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تہران کے مطالبات مکمل طور پر ناقابل قبول ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق امریکہ کو بھیجے گئے ایرانی منصوبے میں تمام محاذوں پر جنگ کے خاتمے اور تہران پر عائد پابندیاں اٹھانے پر زور دیا گیا ہے، اس کے ساتھ نقصانات کے ازالے (تاوان) اور آبنائے ہرمز پر ایران کے کنٹرول کو تسلیم کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
دوسری جانب، ایس اینڈ پی 500 فیوچرز میں 0.1 فیصد جبکہ نیس ڈیک فیوچرز میں 0.05 فیصد کی معمولی کمی دیکھی گئی۔
اس ہفتے ٹیکنالوجی اور نیٹ ورکنگ آلات بنانے والی کمپنی سیسکو سسٹم اور سیمی کنڈکٹر آلات تیار کرنے والی کمپنی اپلائیڈ میٹریلز کے مالی نتائج سامنے آئیں گے، جبکہ بڑی ٹیک کمپنیوں اینوڈیا اور وال مارٹ کے نتائج ماہ کے آخر میں متوقع ہیں۔
جاپان کی نِکّی انڈیکس 0.36 فیصد کمی کے ساتھ ابتدائی فوائد ختم کر گئی، جبکہ جنوبی کوریا کا چِپ سازی سے متعلقہ کوسپی انڈیکس 4 فیصد اضافہ کے ساتھ بند ہوا۔
دوسری جانب پاکستانی روپے نے انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں معمولی بہتری دکھائی اور 0.01 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا۔ کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی 278.67 روپے پر بند ہوئی، جو ڈالر کے مقابلے میں 3 پیسے کا اضافہ ہے۔
آل شیئر انڈیکس میں حصص کا حجم بڑھ کر 1,103.29 ملین رہا، جو گزشتہ روز 1,025.27 ملین تھا۔ تاہم حصص کی مجموعی مالیت کم ہو کر 31.04 ارب روپے رہی، جو پچھلے سیشن میں 36.67 ارب روپے تھی۔
کے الیکٹرک لمیٹڈ 376.83 ملین حصص کے ساتھ حجم کے لحاظ سے سرِفہرست رہی، اس کے بعد آغا اسٹیل انڈسٹریز کے 51.88 ملین اور سینرجیکو پی کے لمیٹڈ کے 47.39 ملین حصص کا نمبر رہا۔
پیر کے روز مجموعی طور پر 488 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا، جن میں سے 234 کے شیئرز میں اضافہ، 215 میں کمی جبکہ 39 کمپنیوں کے حصص کی قیمتیں مستحکم رہیں۔



Comments