ورکنگ کیپٹل کی کمی، ٹیکسٹائل انڈسٹری کا ری فنانس سہولتوں میں اضافے کا مطالبہ
- اقدام سے سیکٹر کو موجودہ چیلنجز سے نمٹنے، عالمی منڈیوں میں ملکی پوزیشن مضبوط کرنے اور برآمدات بڑھانے سمیت معاشی استحکام کی بہتری میں مدد ملے گی، اپٹما
ٹیکسٹائل انڈسٹری نے اسٹیٹ بینک سے مطالبہ کیا ہے کہ ایکسپورٹ ری فنانس کی سہولتوں میں اضافہ کیا جائے تاکہ برآمد کنندگان اپنی بڑھتی ورکنگ کیپٹل کی ضروریات کو پورا کرسکیں۔
گورنر اسٹیٹ بینک کے نام خط میں چیئرمین اپٹما کامران ارشد نے کہا کہ ٹیکسٹائل صنعت پاکستان کی معیشت کا کلیدی ستون ہے جو کل برآمدات میں تقریباً 60 فیصد اور جی ڈی پی میں 8.5 فیصد حصہ ڈالتی ہے جبکہ مینوفیکچرنگ کے شعبے سے وابستہ تقریباً 40 فیصد افرادی قوت کو روزگار فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے نوٹ کیا کہ غیر ملکی زرِ مبادلہ کمانے میں اہم کردار ادا کرنے والا یہ شعبہ اس وقت توانائی کے بلند اخراجات، سپلائی چین میں تعطل اور بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاسی صورتحال، بالخصوص مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات کے باعث پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال اور مقامی معاشی دباؤ کی وجہ سے ورکنگ کیپیٹل کی شدید قلت کا سامنا کررہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ چیلنجز اس شعبے کی آپریٹنگ سرگرمیوں اور ترقی کی رفتار کو بری طرح متاثر کر رہے ہیں۔
کامران ارشد نے اس بات پر زور دیا کہ ان رکاوٹوں کے پیشِ نظر، برآمد کنندگان کو مالی وسائل تک مناسب اور بروقت رسائی فراہم کر کے سہولت دینے کی اشد ضرورت ہے۔
لہٰذا ہم اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے درخواست کرتے ہیں کہ ایکسپورٹ ری فنانس کی سہولیات میں اضافہ کیا جائے تاکہ برآمد کنندگان اپنی ورکنگ کیپیٹل کی ضروریات کو مؤثر طریقے سے پورا کر سکیں اور برآمدی آرڈرز کی بروقت تکمیل کو یقینی بنا سکیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایکسپورٹ ری فنانس کی سہولیات میں توسیع سے ٹیکسٹائل سیکٹر کو موجودہ چیلنجز سے نمٹنے، عالمی منڈیوں میں پاکستان کی پوزیشن مضبوط کرنے اور برآمدات میں اضافے سمیت معاشی استحکام کی بہتری میں مدد ملے گی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026


Comments