BR100 Increased By (0.07%)
BR30 Decreased By (-0.17%)
KSE100 Increased By (0.07%)
KSE30 Increased By (0.17%)
BAFL 56.20 Decreased By ▼ -0.27 (-0.48%)
BIPL 24.87 Increased By ▲ 0.24 (0.97%)
BOP 29.97 Decreased By ▼ -0.15 (-0.5%)
CNERGY 12.83 Decreased By ▼ -0.15 (-1.16%)
DFML 18.20 Increased By ▲ 0.71 (4.06%)
DGKC 189.35 Increased By ▲ 2.13 (1.14%)
FABL 93.00 Decreased By ▼ -0.71 (-0.76%)
FCCL 51.61 Decreased By ▼ -0.04 (-0.08%)
FFL 14.50 Increased By ▲ 0.01 (0.07%)
GGL 18.95 Decreased By ▼ -0.09 (-0.47%)
HBL 302.51 Decreased By ▼ -1.27 (-0.42%)
HUBC 200.27 Increased By ▲ 1.31 (0.66%)
HUMNL 9.89 Increased By ▲ 0.04 (0.41%)
KEL 6.05 Decreased By ▼ -0.01 (-0.17%)
LOTCHEM 26.15 Decreased By ▼ -0.02 (-0.08%)
MLCF 91.21 Decreased By ▼ -0.02 (-0.02%)
OGDC 314.70 Increased By ▲ 1.31 (0.42%)
PAEL 35.04 Decreased By ▼ -0.20 (-0.57%)
PIBTL 14.37 Decreased By ▼ -0.34 (-2.31%)
PIOC 238.50 Decreased By ▼ -1.12 (-0.47%)
PPL 220.59 Decreased By ▼ -0.77 (-0.35%)
PRL 92.05 Increased By ▲ 0.83 (0.91%)
SNGP 90.60 Decreased By ▼ -0.27 (-0.3%)
SSGC 23.29 Decreased By ▼ -0.01 (-0.04%)
TELE 7.52 Decreased By ▼ -0.09 (-1.18%)
TPLP 12.20 Decreased By ▼ -0.36 (-2.87%)
TRG 55.03 Decreased By ▼ -0.76 (-1.36%)
UNITY 7.95 Decreased By ▼ -0.07 (-0.87%)
WTL 1.01 Increased By ▲ 0.01 (1%)
کاروبار اور معیشت

سعودی عرب سے 1 ارب ڈالر کی دوسری قسط موصول ہوگئی، اسٹیٹ بینک

  • اس سے قبل پہلی قسط کے طور پر 2 ارب ڈالر 15 اپریل 2026 کو موصول ہوئے تھے۔
شائع اپ ڈیٹ

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے منگل کے روز کہا ہے کہ اسے سعودی عرب کی وزارتِ خزانہ سے ایک ارب ڈالر کی رقوم موصول ہو گئی ہیں۔

مرکزی بینک کے مطابق، یہ سعودی عرب کی جانب سے 3 ارب ڈالر کے حالیہ ڈپازٹ کی دوسری قسط ہے۔

اس سے قبل پہلی قسط کے طور پر 2 ارب ڈالر 15 اپریل 2026 کو موصول ہوئے تھے۔

گزشتہ ہفتے وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے بتایا تھا کہ سعودی عرب نے پاکستان کے لیے مزید 3 ارب ڈالر کے ڈپازٹس کی منظوری دی ہے، جن کی ادائیگی جلد متوقع ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ سعودی عرب کا موجودہ 5 ارب ڈالر کا ڈپازٹ اب سالانہ رول اوور کی شرط کے بجائے تین سال کے لیے بڑھا دیا جائے گا۔

پاکستان کو یہ اضافی مالی معاونت ایسے وقت میں مل رہی ہے جب ریاض نے پہلے سے موجود 5 ارب ڈالر کے ڈپازٹ کے رول اوور کو بھی طویل مدت کے لیے بڑھا دیا ہے۔

ریاض میں وزارتِ خزانہ کے ترجمان کے مطابق سعودی عرب نے پاکستان کے ساتھ 3 ارب ڈالر کے ڈپازٹ پر اتفاق کیا ہے تاکہ ادائیگیوں کے توازن کو سہارا دیا جا سکے۔

پاکستان کو اس ماہ متحدہ عرب امارات کو 3.5 ارب ڈالر واپس کرنے ہیں، جس سے ملکی زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ یہ رقم مجموعی ذخائر کا تقریباً 18 فیصد بنتی ہے۔

سعودی عرب ماضی میں بھی پاکستان کی معیشت کو سہارا دینے کے لیے اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔ 2018 میں ریاض نے 6 ارب ڈالر کا پیکیج دیا تھا، جس میں اسٹیٹ بینک میں 3 ارب ڈالر کا ڈپازٹ اور 3 ارب ڈالر کی مؤخر ادائیگی پر تیل کی فراہمی شامل تھی۔

Comments

200 حروف