اسٹاک مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کے بعد 100 انڈیکس میں 466 پوائنٹس کا اضافہ
- بینچ مارک انڈیکس 151,673.45 کی سطح پر بند
اسٹاک ایکسچینج میں منگل کو بھی اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری رہا، بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس مثبت زون میں بند ہونے سے قبل دونوں جانب جھولتا رہا۔
تفصیلات کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں کاروباری سیشن کا آغاز اتار چڑھاؤ کے ساتھ ہوا جہاں فروخت کے دباؤ کے باعث انڈیکس دورانِ ٹریڈنگ 149,129.41 کی کم ترین سطح تک گر گیا۔
بہتری کیپٹل نے دن کے آغاز میں کہا کہ ٹرمپ-ایران ڈیڈ لائن میں چند گھنٹے باقی رہنے اور زرمبادلہ ذخائر سے 3.5 ارب ڈالر کے بڑے اخراج کے خطرے کے پیشِ نظر مارکیٹ دیکھو اور انتظار کرو کی کیفیت میں ہے۔
تاہم، دن گزرنے کے ساتھ ساتھ مارکیٹ کے حالات (سینٹیمنٹ) میں بہتری آئی اور وسطی سیشن تک مارکیٹ نے مستحکم ریکوری کا مظاہرہ کیا۔
سیشن کے دوسرے حصے میں انڈیکس نے مسلسل اضافے کا تسلسل برقرار رکھا اور دورانِ ٹریڈنگ 152,013.05 کی بلند ترین سطح کو چھو لیا۔
کاروبار کے اختتام پرکے ایس ای 100 انڈیکس 465.64 پوائنٹس یا 0.31 فیصد اضافے کے ساتھ 151,673.45 پر بند ہوا۔
ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے مطابق سیشن کے آخری حصے میں پاکستان میں ایرانی سفیر کی جانب سے جنگ بندی مذاکرات میں پیش رفت سے متعلق حوصلہ افزا ٹویٹ کے بعد مارکیٹ کا رخ تبدیل ہوا، جس سے منتخب حصص کی خریداری شروع ہوئی اور انڈیکس کو سبز نشان (مثبت) میں بند ہونے میں مدد ملی۔ انڈیکس میں اضافے میں اہم کردار بی اے ایچ ایل، ایچ بی ایل، بی اے ایچ ایل نے ادا کیا جنہوں نے مجموعی طور پر 387 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔
بین الاقوامی سطح پر منگل کو عالمی اسٹاک مارکیٹس میں غیر یقینی صورتحال دیکھی گئی جب کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کی شدت بڑھنے کے خدشات اور کسی معاہدے تک پہنچنے کی آخری مدت (ڈیڈ لائن) کے پیشِ نظر گھبرائے ہوئے سرمایہ کاروں نے مارکیٹ سے دوری اختیار کر لی جس کی وجہ سے تیل کی قیمتیں 110 ڈالر فی بیرل کے قریب برقرار رہیں۔
فروری کے آخر میں ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی جنگ شروع ہونے کے بعد سے مارکیٹس میں اضطراب پایا جاتا ہے جس کے دوران تہران نے عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے اہم ترین راستے آبنائے ہرمز کو مؤثر طریقے سے بند کردیا جس نے افراطِ زر (مہنگائی) کے خدشات کو جنم دیا ہے۔
مقامی مارکیٹ میں آل شیئر انڈیکس کا تجارتی حجم گزشتہ روز کے 457.21 ملین سے کم ہو کر 357.27 ملین شیئرز رہ گیا جب کہ حصص کی مالیت بھی 30.88 ارب روپے سے کم ہو کر 20.44 ارب روپے ہوگئی۔ کے الیکٹرک 53.60 ملین شیئرز کے ساتھ والیم لیڈر رہا۔
مجموعی طور پر 477 کمپنیوں کے حصص میں کاروبار ہوا، جن میں سے 223 کی قیمتوں میں اضافہ، 188 میں کمی جبکہ 66 کمپنیوں کے حصص کی قیمتیں مستحکم رہیں۔



Comments